76

افغانستان میں ط ا ل ب ان: ’ذبیح اللہ کا اجازت نامہ بھی شاید آپ کو طالب کے تھپڑ سے نہ بچا سکے‘.

افغانستان میں ط ال ب ان: ’ذبیح اللہ کا اجازت نامہ بھی شاید آپ کو طالب کے تھپڑ سے نہ بچا سکے‘.

(روزنامہ طالب)

اب ہمارے کان ہر وقت فائرنگ کی آواز کے عادی ہو چکے ہیں۔ کھانے کا وہی معمول ہوتا ہے، کبھی اردگرد کانٹے چمچ کا استعمال کرتے ہوئے کھانے پینے میں مصروف طالبان ہوتے ہیں اور کبھی غائب۔۔۔ لیکن بالکل غائب نہیں ہوتے کیونکہ آپ جہاں کہیں بھی چلے جائیں، سکیورٹی اب ان کے ہاتھ میں ہے۔

ہمارے ہوٹل کے عملے میں موجود خواتین واپس آ چکی ہیں لیکن اب وہ سب عبایہ پہنتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ پہلے بے حجاب ہوتی تھیں لیکن شاید ان کے لیے یہ لباس شریعت کے ممکنہ قوانین کے تحت انتظامیہ کی جانب سے بنایا گیا ہو۔

ہوٹل کے باہر شدید رش جوں کا توں برقرار ہے کیونکہ قطری سفارت خانے کا عملہ اور سکیورٹی ہر وقت دکھائی دیتی ہے اور لوگ اس امید میں یہاں چلے آتے ہیں کہ شاید قطر کا سفارتخانہ اُن کی مدد کرے گا اور انھیں ویزا دے گا۔

لیکن یہ تو ٹرانزٹ ہے، جس کے لیے کسی اور ملک کا ویزا ضروری ہے اور کابل میں شاید لاکھوں ایسے لوگ ہیں جو خوف سے گھروں میں محصور ہیں کہ نجانے ان کا کیا ہو گا کیونکہ ان کے پاس ایسی کوئی سہولت نہیں۔

آج ہماری ایک ایسے ہی مترجم سے ملاقات ہوئی جو یہاں کے ہزاروں مترجموں کی فہرست میں بہترین شمار ہوتے تھے لیکن وہ جس ملک کے لیے کام کرتے تھے وہ اب تک ان کو ویزا نہیں دلا پائے۔

ادھر افغانستان کے مختلف حصوں سے یہ اطلاعات تو مل رہی ہیں کہ سکول کھل گئے ہیں لیکن ہمارے ذرائع یہی بتا رہے ہیں کہ سکولوں میں عملے اور طلبا و طالبات کی تعداد بہت کم ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پریس کانفرنس میں افغانوں کے ایئرپورٹ جانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا مگر ایئرپورٹ جانے والے راستوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں یہ بتاتی ہیں کہ اگر ڈیڈ لائن بڑھائی گئی تو شاید 31 اگست تو کیا 31 ستمبر تک بھی ایئرپورٹ کا رُخ کرنے والوں کی تعداد میں کمی نہ آ سکے گی۔

یہاں ایئرپورٹ جانے والی ساٹھ برس کی خاتون اپنے کنبے کے ساتھ چھ روز سے گیٹ سے کچھ فاصلے پر بیٹھی ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ اس کے بجائے آپ کابل میں موجود اپنے گھر رہ کر انتظار کیوں نہیں کرتیں، تو وہ کہنے لگیں میں اب اس ملک میں نہیں رہنا چاہتی۔

انھوں نے کہا ’یا تو ہم امریکیوں کی گولیوں سے مر جائیں گے یا پھر انھیں ہمیں کوئی راستہ دینا ہو گا لیکن ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔‘

ان کا مطالبہ تھا کہ انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے لیکن ہمیں موصول ہونے والی خبروں میں اب تک ایسی کوئی پُرامید خبر سننے کو نہیں ملی۔ کیا ہو گا اور کیا نہیں، ایسی صورتحال میں کوئی قیاس آرائی نہیں کی سکتی۔

ط ال ب ان کی کل کی پریس کانفرنس سے یوں لگا جیسے یہ طالبان کی دوسری نہیں، بلکہ معمول سے چلتی آ رہی پریس کانفرنسز کا حصہ ہے۔

ہاں ایک نئی بات ایک افغان خاتون کا پریس کانفرنس میں موجود ہونا اور بہت سے پاکستانی صحافیوں کا پہلی بار طالبان کے ترجمان کی پریس کانفرنس میں شریک ہونا تھا۔

اور باقی سوال تو تھے ہی لیکن سب سے اہم سوال وہی کہ ہمیں آزادی سے کام کیوں نہیں کرنے دیا جا رہا تو جواب ملا ’نہیں آپ کام کریں۔‘

پریس کانفرنس کو ابھی چوبیس گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ ہم بین الاقوامی صحافیوں کو ایک آف دی ریکارڈ ٹاک کے لیے بلایا گیا لیکن ایک بات مجھے دونوں نشستوں سے پتہ چل گئی کہ اگر آپ کے پاس ذبیج اللہ مجاہد کا دیا گیا اجازت نامہ ہی کیوں نہ ہو آپ یہاں آسانی سے کام نہیں کر سکتے۔

جب میں پریس کانفرنس میں ترجمان طالبان کی یقین دہانی سُن کر باہر نکلا تھا اور جھٹ سے کیمرہ نکال کر ایک تصویر لینی چاہی تھی تو ایک طالب سکیورٹی اہلکار نے ایسا کرنے سے صاف منع کر دیا۔

خیر یہ تو کئی دن سے ہوتا چلا آ رہا ہے لیکن آج جب ہم جلال آباد روڈ سے تین گھنٹے لگا کر ایئرپورٹ پہنچے تو اس شہر کی بے ہنگم ٹریفک نے نہیں بلکہ سڑک پر ٹریفک وارڈن کے ہمراہ کھڑے طالب نے ہمیں روکا۔

جب میرے ڈرائیور نے ترجمان طالبان کا لیٹر دکھایا تو اس نے وہ دیکھنے کے بجائے اسے اتنی زور سے تھپڑ مارا کہ ہم واقعی دہشت کا شکار ہو گئے۔

پھر اس نے بعد میں ہماری گاڑی ایک طرف کھڑی کروا کر اجازت نامے پر لکھے نمبر پر کال کی جو وصول نہیں ہوئی۔ پھر اس نے ذبیح اللہ کے مترجم سے پندرہ منٹ بحث کی اور ہمیں جانے کی اجازت دی۔

لیکن میں تب سے اب تک مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر کابل کے وسط میں طالبان ہاتھ اٹھانے اور اسلحہ دکھانے سے گریز نہیں کرتے تو پھر دور دراز علاقوں میں کیا ہو رہا ہو گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں