64

افغانوں پہ ہنستے ہو؟

افغانوں پہ ہنستے ہو؟

(ڈیلی طالِب)

افغانوں پہ ہنستے ہو؟
تم لوگوں کے گھروں پہ جب اچانک زلزلہ آتا ہے تو کیا کرتے ہو؟ ہڑبڑا کے اٹھتے ہو، کلمے پڑھتے باہر گلیوں کو بھاگتے ہو، چھوٹا بچہ کمرے میں سو رہا ہو تو اسے تک بھول جاتے ہو؟ پردہ دار عورتیں گھر کے حلیے میں باہر نکل آتی ہیں، ایسا ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا؟

سفر طے ہو، اکیلے کرنا ہو، تو سامان کم سے کم رکھا جاتا ہے۔

مسلسل سفر ہو، ٹھکانہ کسی ایک جگہ نہ ہو، تب بھی ٹرالی بیگ اور ایک کندھے کے تھیلے میں آدمی کی دنیا سما جاتی ہے۔

ایک سفر وہ ہوتا ہے جس میں پورا خاندان ساتھ نکلتا ہے۔ بچوں کا سامان الگ باندھا جاتا ہے، راستے کے لیے چیزیں الگ ہوتی ہیں، کپڑے اور ضروری چیزیں علیحدہ سے رکھی جاتی ہیں۔ اس مسافرت میں سب کچھ پیک ہوتا ہے، پھر مختصر وقت کے لیے نئی جگہ کھلتا ہے، آخر میں واپسی کے لیے دوبارہ سب کچھ بند کر کے تیاری کر لی جاتی ہے۔

واپسی؟

تمہیں پتہ ہے یہ لفظ، پانچ حرفوں سے بنا صرف یہ ایک لفظ اپنے اندر کتنی دنیا رکھتا ہے؟ واپسی کا مطلب اپنا گھر، اپنا ٹھکانہ، اپنی گلی، اپنا محلہ، اپنے بچے، اپنا خاندان، اپنی زمین، اپنا آسمان، اپنی زبان، اپنے پڑوسی، اپنے کھانے، اپنی فضا، اپنے پرندے، اپنے چہرے، اپنی خوشبوئیں، اپنے درخت، اپنے گانے، اپنی سبزیاں، اپنے پھل، اپنے کھانے، اپنی رسمیں، اپنے تہوار، یہ سب کچھ ہوتی ہے واپسی!

اور جن کے پاس سے واپسی چھن گئی تم ان پر ہنستے ہو؟ جن کا ٹھکانہ کوئی نہیں رہا تم ان پر ہنستے ہو؟

کابل ائیرپورٹ پر فائرنگ کی ایک ویڈیو تھی، بھگدڑ مچی اس کے بعد، لوگ تھے کہ خوفزدہ اندھا دھند ایک طرف بھاگ رہے تھے، خدشہ تھا کہ وہ جو کمزور ہوں گے کچلے نہ جائیں، ایسے میں ایک جوان ماں اپنے دو چھوٹے بچوں کے ساتھ بے کسی اور ناتوانی سے کندھے جھکائے آہستہ آہستہ چلتی ہوئی جا رہی تھی۔ بچے تیز چل نہیں سکتے، اتنے بڑے تھے کہ ماں اٹھا نہیں سکتی، کب سے کچھ کھایا نہیں کھایا بالکل پتہ نہیں، باپ ہے یا مر گیا یا پہلے باہر چلا گیا کچھ علم نہیں، اپنے وطن میں بھاگتے بے وطن لوگوں کا ایک گروہ ہے اور ان کے بیچ وہ ایک لاچار ماں ہے اور کوئی دس پندرہ سیکنڈ کی ویڈیو ہے، اس پر بھی تم ’لاف ری ایکٹ‘ کرتے ہو؟

افغانستان کے لوگوں سے متعلق ہر دوسری خبر پہ جہاں سینکڑوں آنسو ٹپکاتے، کئیر یا دل کا ایموجی بناتے لوگ ہوں گے وہیں آٹھ دس بندے ہنسنے کا ری ایکشن بھی دیں گے، کمنٹس میں انتہائی گھٹیا باتیں لکھیں گے، یہ تحریر صرف انہی کے لیے ہے!

تم لوگوں کے گھروں پہ جب اچانک زلزلہ آتا ہے تو کیا کرتے ہو؟ ہڑبڑا کے اٹھتے ہو، کلمے پڑھتے باہر گلیوں کو بھاگتے ہو، چھوٹا بچہ کمرے میں سو رہا ہو تو اسے تک بھول جاتے ہو؟ پردہ دار عورتیں گھر کے حلیے میں باہر نکل آتی ہیں، ایسا ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا؟

سب نارمل انسانی رویے تب تک دکھائے جاتے ہیں جب تک زلزلہ نہیں آتا، ایمرجنسی نہیں آتی۔ آج تم پر چھت گرنے والی ہو تو کہاں جاؤ گے؟ گھر کو چھوڑو گے یا وہیں چپکے پڑے رہو گے؟

پرے کرو سب سیاستوں کو، چھوڑ دو افغان جو بھی کہتے ہیں تمہارے بارے میں، ان کے پاس کچھ باقی نہیں بچا سوائے زندگی کی ایک امید کے، کچھ بھی نہیں، ایک تنکا بھی نہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ بہت کچھ تم پر کھل جائے گا۔ انسان بن کے سوچو، دو منٹ کے لیے سوچو کہ اگر یہ سب کچھ لاہور میں ہو رہا ہو، ڈی جی خان میں شہر پہ ایسے کسی گروہ کی حکومت ہو جائے جس کی سرکار میں تمہارا وہاں رہنا ممکن نہ ہو، کدھر جاؤ گے؟ ائیرپورٹوں پر، بسوں کے اڈے پر، ریلوے سٹیشنوں پر؟ لے کر ساتھ جاؤ گے آل اولاد کو؟

سوچو کہ بینک کیش دینے سے انکاری ہوں، جب پیسے ملیں تو ان کی ویلیو ہی گھٹ چکی ہو، نہ کچھ نوکری کی خبر ہو، نہ کاروبار کا آسرا ہو، نہ بچوں کی پڑھائی کا سمجھ میں آئے کہ ہو گا کیا ۔۔۔ کدھر جاؤ گے؟ تم تو وہ ہو جو بغیر کسی آفت کے ’ولایت‘ جانے کو چوبیس گھنٹے تیار ہوتے ہو، شرم کرو!

یہ ہنسنا یا نفرت آمیز کمنٹ کرنا، عام افغانی شہری سے یہ کس قسم کا انتقام ہے؟ کیا ان تک تمہاری یہ نیچ حرکتیں پہنچ رہی ہیں؟

صوفے پہ بیٹھ کر، ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے سب کچھ پڑھ رہے ہو اور سوچتے ہو کہ اسے کشمیر نظر نہیں آتا، فلسطین دکھائی نہیں دیتا، سب دکھتا ہے، سب کے لیے دل دُکھتا ہے لیکن چنبیلی کے پھول مرجھانے کی بات کی جائے تو ضروری نہیں کہ اسی مضمون میں گلاب کی پتیاں بکھر جانے کا ذکر بھی ہو، یہ سب کچھ رکھ لو اپنے پاس اور لحاظ کرو!

تھرڈ ورلڈ کے ایک عام ملک کا تمہارے جیسا، مجھ جیسا شہری جدھر سوچنا چھوڑ دیتا ہے وہاں عالمی طاقتوں کے مہرے تیس سال پہلے جمائے گئے ہوتے ہیں، نقصان تمہارا ہوتا ہے، خسارا میرے مقدر میں آتا ہے، سب کچھ جانتے ہو پھر بھی تم ہنستے ہو؟

دو چار دن پہلے بندر کے تماشے کی ایک ویڈیو پوسٹ کی، کوئی ایک سو دس لوگوں نے کمنٹ کیا کہ وائلڈ لائف والے اسے بچاتے کیوں نہیں ہیں، اُدھر لاکھوں انسان بے بس ہیں، وہ اپنے پنجرے سے فرار چاہتے ہیں، اس کے لیے کوشش کرتے ہیں، گولیاں کھاتے ہیں، دھماکوں میں مر جاتے ہیں، بھوکے پیاسے ہجوم کی شکل میں گوروں کی شکلیں تاکتے ہیں، پھر بھی ائیرپورٹ کی دیوار کے باہر جمے رہتے ہیں۔ ان مظلوم انسانوں سے محبت کرنے والوں کا اتنا تو لحاظ کرو کہ تمہارے لغو کمنٹ اور ’لاف ری ایکٹ‘ والے منحوس ایموجی کسی تکلیف دہ خبر پہ نظر نہ آئیں۔

تم خوش قسمت سمجھتے ہو خود کو، تمہیں ایسے دن دیکھنے کی امید نہیں ہے، لکھ لو کہ ان رویوں کے ساتھ تم اس سے بڑی آفت میں پڑو گے۔

سنبھل جاؤ، ٹھہر جاؤ، رک جاؤ!

یہ بات سمجھو کہ میں خود کو کہہ رہا ہوں۔ جو درجنوں بے قصور شہریوں کے مرنے پہ ہنس سکتا ہے، جو ایک ماں کی بے کسی پہ لاف ری ایکٹ کر سکتا ہے، جو اپنے ہی جیسی شکلوں اور حلیوں والے پڑوسی کی مصیبت پہ الٹے سیدھے کمنٹ کر سکتا ہے اسے میں کچھ کہوں گا بھی تو کس کھاتے میں جائے گا؟

جو مرضی کرو لیکن یاد رکھو، جتنی تیزی سے تمہاری دنیا کے حالات بدل رہے ہیں اتنی عجلت میں کبھی تم نے بنیان بھی نہیں پہنی ہو گی۔ نکل آؤ اپنی تذویراتی گہرائیوں سے اور انتظار کرو اپنی باری کا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں