55

آن لائن بلیک میلنگ: سائبر کرائم قانون ہونے کے باوجود پاکستانی خواتین کے لیے قانونی چارہ جوئی میں کیا رکاوٹیں ہیں؟

آن لائن بلیک میلنگ: سائبر کرائم قانون ہونے کے باوجود پاکستانی خواتین کے لیے قانونی چارہ جوئی میں کیا رکاوٹیں ہیں؟

(ڈیلی طالِب)

بہت سارے ملینیلز کی طرح ملیحہ (فرضی نام) کا بھی اپنے دوست سے تعارف سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ہوا تھا۔ ان دونوں کی انسٹاگرام پر پی بات چیت ہوئی اور جلد ہی ان کے درمیان روابط قائم ہو گئے اور انھوں نے ملنا شروع کر دیا۔

لیکن یہ تعلق زیادہ دیر نہیں چل پایا کیوں کہ ملیحہ کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ لڑکا بہت ہی غلط سوچ کا مالک ہے۔

لیکن بہت سے ملینیلز کی طرح تعلق ختم ہونے کے بعد ملیحہ کو بھی تصاویر وغیرہ کی شکل میں اپنے اس سابق دوست کے پاس محفوظ اُس مواد یا ڈیجیٹل کنٹینٹ کے باعث اس ہی کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

جب ان دونوں کے درمیان تعلق ختم ہو گیا اور ملیحہ نے دوسرے لوگوں سے ملنا جُلنا شروع کر دیا تو ان کے سابق دوست نے انھیں دھمکی دی کہ وہ ان دونوں کے تعلقات کے بارے میں ان کے والدین کو بتا دے گا۔

ملیحہ نے اپنے دوستوں کو ان دھمکیوں کے بارے میں بتایا اور اس بارے میں خواتین پر مشتمل گروپ پر بھی ایک پوسٹ ڈالتے ہوئے انہیں اس بارے میں خبردار کیا۔

لیکن کسی نے ملیحہ کے سابقہ دوست کو ملیحہ کی جانب سے کی گئی پوسٹ کے بارے میں اطلاع دے دی اور اس نے انتقاماً ان کے والدین کو فون کر کے سب کچھ بتا دیا۔

ملیحہ کہتی ہیں: ‘اس پر انھیں اپنے والدین سے بہت کچھ سننا پڑا اور بہت لے دے ہوئی اور یہاں تک کہ وہ نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو گئیں۔’

ڈیجیٹل بلیک میلنگ اور پاکستانی خواتین کی مشکلات
ملیحہ کی طرح ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی کہانی ان سے ملتی جلتی ہے اور وہ بھی اسی طرح ڈیجیٹل بلیک میلنگ کا شکار ہو چکے ہیں جہاں ان صارفین کے خلاف ان کے ذاتی ڈیٹا جیسے ٹیکسٹ میسجز، تصاویر، ویڈیوز یا ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں معلومات عام کر دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔

اگرچہ دنیا بھر میں اس طرح کے کیسز تیزی سے عام ہو رہے ہیں لیکن پاکستان میں بالخصوص خواتین کے لیے ناساز ماحول ہونے اور قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے یہاں حالات زیادہ مشکل ہیں۔

قانونی سطح پر پی ای سی اے (پیکا) کا ایک قانون 2016 میں منظور کیا گیا تھا۔ یہ قانون سٹاکنگ، بلیک میلنگ، آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں جیسے جرائم سے نمٹنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا اور اس پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ داری ایف آئی اے کی ہے۔

لیکن آن لائن بدسلوکی کی رپورٹس درج کرانے والی خواتین اور ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے ایف آئی اے کو اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام نہ دینے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی کارکن فریحہ عزیز نے چند ہفتے قبل جنسی ہراسانی کے حوالے سے ایک ٹوئٹر تھریڈ لکھا تاکہ حال ہی میں سامنے آنے والے ایک کیس کو اجاگر کیا جاسکے کہ ایف آئی اے اس کیس کی تحقیقات اور عدالتوں میں دستاویزات پیش کرنے میں کس قدر سست اور غیر موثر ثابت ہوئی تھی۔

فریحہ نے بتایا: ‘کچھ معاملات میں فائلیں غائب کر دی گئیں۔ کچھ کیسز میں تفتیشی افسر عدالت کی سماعتوں میں پیش نہیں ہوئے یا ایف آئی اے نے وقت پر کیس دائر ہی نہیں کیا۔’

فریحہ نے مزید کہا کہ بعض اوقات ایجنسی استغاثہ کے سامنے گواہ پیش کرنے میں بھی ناکام رہتی ہے۔

‘کچھ معاملات میں متاثرہ فرد کی جانب سے ایف آئی اے کو دیا گیا بیان عدالت میں پیش کی گئی تفصیلات سے مختلف ہوتا ہے۔’

ایف آئی اے کا موقف کیا ہے؟
آج سے پانچ برس قبل جب پیکا کے قانون کی منظوری ہوئی تو اس کے بعد ایف آئی اے نے اس موقف کا اظہار کیا کہ ایجنسی میں عملہ پہلے ہی کم تھا اور خواتین افسران کی کمی تھی جن کے باعث خواتین کی شکایات حل کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس ایکٹ کے پاس ہونے کے دو سال بعد بھی حکومت نے اس قانون کے تحت ایف آئی اے کے آپریشن کی وضاحت کرنے کے لیے قواعد جاری نہیں کیے اور یہ کہ شکایت درج ہونے سے لے کر عدالتی کارروائی تک اس قانون کو کس طرح نافذ کیا جائے گا۔

قانون بننے کے دو سال بعد آخر کار 2018 میں یہ قواعد متعارف کرا دیے گئے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی ونگ شہباز خان نے بتایا: ‘چار یا پانچ سال پہلے ہمارے پاس خواتین اہلکار نہیں تھیں لیکن اب ادارے میں بہت سی خواتین آفیسرز موجود ہیں۔ ان میں خواتین تفتیش کار اور سٹریس کونسلرز بھی شامل ہیں۔’

پیکا کے قواعد کے تحت ایجنسی کا 25 فیصد عملہ خواتین پر مشتمل ہونا چاہیے جن میں سٹریس کونسلرز بھی شامل ہوں جن کی ذمہ داریوں میں شکایت کنندہ اور متاثرین کو مدد اور مشاورت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

ایف آئی اے کے خلاف ایک عام شکایت یہ ہے کہ وہ آن لائن شکایت کرنے کے باوجود شکایت کنندہ یا شواہد آن لائن جمع کرنے والوں کو کو آفس آنے کا کہتے ہیں۔

شہباز خان نے اس حوالے سے بتایا کہ ‘متاثرین کو دفتر بلانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ہمیشہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ فراہم کردہ ثبوت اصلی ہے یا جعلی۔ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ آیا یہ شواہد فوٹو شاپ کیے گئے ہیں یا نہیں۔ اسی وجہ سے ہم شکایت کنندہ سے صرف ایک بار ملنے کو کہتے ہیں۔’

فریحہ عزیز نے کہا: ‘ایجنسی اُس وقت تک کسی کیس کو ترجیح نہیں دیتی جب تک ان کو اس میں اپنے لیے کوئی فائدہ نظر نہ آئے۔ ایک بار سول کورٹ کے جج نے مجھے بتایا کہ انھوں نے ایف آئی اے میں شکایت درج کروائی تھی لیکن انھوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کیا۔’

فریحہ عزیز کا مزید کہنا ہے اپنے تھریڈ میں انھوں نے جس کیس کا ذکر کیا ہے اس میں مجرم کو اس وجہ سے سزا ملی تھی کیونکہ مدعی نے ہائی کورٹ تک رسائی حاصل کی تھی، اس لیے نہیں کہ ایف آئی اے نے اپنا کام کیا تھا۔

فریحہ نے کہا کہ ایجنسی بہت سارے کیسز میں دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانا چاہتی ہے یہاں تک کہ ناقابل حل معاملات میں بھی۔

تاہم ایف آئی اے کے سینیئر اہلکار شہباز خان کا موقف ہے کہ بعض اوقات خاندان خود ہی ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں اور ایف آئی اے اور عدالت کو کہتے ہیں کہ وہ سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں۔

ایف آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ماحول ایسا ہے کہ بیشتر شکایت کنندہ، جن میں واضح اکثریت تعداد نوجوان خواتین کی ہوتی ہے، وہ ایف آئی آر درج نہیں کرنا چاہتیں۔

حال ہی میں کراچی میں تعینات ہونے والے شہباز خان کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں سائبر کرائم کے حوالے سے ماضی کے کیسز کے بارے میں نہیں جانتے لیکن وہ خواتین کو ایف آئی آر درج کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

‘ہم اب ایف آئی آر درج کرتے ہیں اور شکایت کنندہ کو سمجھاتے ہیں کہ ایسا نہ کرنے سے ملزم بار بار ایسے جرم کا ارتکاب کر سکتا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ بہت سارے معاملات میں خواتین پہلے ہی جانتی ہیں کہ انھیں کون بلیک میل کر رہا ہے لیکن وہ یہ بتانے سے ہچکچاتی ہیں۔

‘ہم یا ہمارے سٹریس کونسلرز جب ان کو مدد کی یقین دہانی کراتے ہیں یا جب ہم مزید تفتیش کرتے ہیں تو تب جا کر وہ پوری سچائی بیان کرتی ہیں۔’

لیکن فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ خواتین کے پاس ایسا کرنے کی حقیقی وجوہات ہوتی ہیں کہ وہ حکام کو پوری حقیقت سے آگاہ نہ کریں کیوں کہ پاکستان میں پولیس اور قانون ساز اکثر خود متاثرہ فرد پر ہی جرم کا الزام لگا دیتے ہیں۔

‘ماضی میں ایسے معاملات بھی پیش آئے ہیں جب خواتین کا ڈیٹا ایک تفتیشی افسر سے دوسرے افسر تک پہنچ گیااور پھر انھی خواتین کو بلیک میل کیا گیا۔ کچھ مواقعوں پر ایف آئی اے نے شکایت کنندہ کے فون اور پاس ورڈ طلب کیے جس کا کوئی جواز نہیں ہوتا۔’

فریحہ نے بتایا کہ ایک کیس میں ایک خاتون نے اپنے سابقہ شوہر کے خلاف آن لائن ہراسانی کی شکایت درج کرائی تھی لیکن ایک تفتیشی افسر نے انھیں بتایا کہ یہ ان کا ‘گھریلو معاملہ’ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بعض کیسز میں تفتیشی افسر متاثرین کے ساتھ تلخ، نازیبا اور ان پر ہی الزامات لگانے والی باتیں کرتے ہیں۔

‘ایک بار ایک خاتون شکایت درج کروانا چاہتی تھیں لیکن وہ خوفزدہ ہو گئیں اور اپنی شکایت واپس لے لی۔ جب وہ دوسری بار آئیں تاکہ پھر سے شکایت درج کرا سکیں لیکن تفتیشی افسر نے ان سے دوبارہ نامناسب باتیں کی اور انھیں بتایا کہ خواتین مقدمات کی پیروی نہیں کرتی ہیں بلکہ وہ ہمارا وقت ضائع کرنے بار بار کورٹ پہنچ جاتی ہیں۔’

‘شکایت کرنے والے شواہد ڈیلیٹ کر دیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟’
لیکن بعض اوقات متاثرہ خاتون کا خود پر الزام لگنے کا خوف بھی تفتیش میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

ایف آئی اے کے شہباز خان کا کہنا ہے کہ شکایت کرنے والے بعض اوقات ڈیٹا، تصاویر اور دھمکیوں پر مشتمل پیغامات کو خود ہی ڈیلیٹ کر دیتے ہیں۔

ان کے بقول اگر پیغامات ڈیلیٹ ہوجائیں تو ہم اس پر کیسے کارروائی کر سکتے ہیں۔ شکایت کے ساتھ انھیں یہ ڈیٹا فراہم کی ضرورت ہوتی ہے۔

‘جب ہم فیس بک سے ایسے معاملات میں قصورواروں کا ڈیٹا مانگتے ہیں تو وہ اکثر یہ نہیں سمجھ پاتے کہ کہ ایک عام سی تصویر سے آن لائن بدسلوکی یا ہراسانی کس طرح ہوئی۔ پھر بھی مجموعی طور پر فیس بک کی جانب سے 50 یا 55 فیصد مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔’

اگر خواتین ایف آئی اے کو رپورٹ نہیں کرنا چاہتیں تو ان کے پاس دوسرے کیا آپشنز ہیں؟
آن لائن ہراس کی صورت میں پہلا قدم تو عمومی طور پر سوشل میڈیا کمپنی کو رپورٹ کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے علاوہ ایف آئ اے یا پھر پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اتھارٹی اختلاف رائے، اسٹیبلشمنٹ مخالف یا مذہبی توہین سمجھے جانے والے مواد کے خلاف فوراً ایکشن میں آتی ہے اور ایسے مواد کو ہٹا دیا جاتا ہے بیشک اس میں کوئی غلط بات بھی نہ کی گئی ہو۔

لیکن اتھارٹی کو کبھی بھی ایسی نازیبا وائرل ویڈیوز یا پوسٹس کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے نہیں دیکھا گیا جو عورت مخالف ہوں یا جن سے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہی کیوں نہ لاحق ہو۔

پی ٹی اے آن لائن فراڈ اور پاکستان مخالف مواد شائع کرنے کے بارے میں تو آگاہی پیغامات بھیجتی ہے لیکن خواتین کے خلاف آن لائن ہراساںی کے بارے لب کشائی سے گریز کرتی ہے۔

قانون سازی اور پالیسی سازی
جب پیکا کو 2016 میں منظور کیا گیا تو بہت سارے سماجی کارکنوں اور قانون سازوں نے اس قانون کے کچھ حصوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

ڈیجیٹل رائٹس کے بارے میں آواز بلند کرنے والے پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر اور تجربہ کار سیاست دان فرحت اللہ بابرکا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کا احتساب کرنا اگلا قدم ہونا چاہیے۔

‘پیکا میں واضح طور پر درج ہے کہ ایف آئی اے کے لیے سال میں دو بار پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کرنا ضروری ہے لیکن جب سے پیکا منظور ہوا ہے ایجنسی نے ایک یا دو بار ہی ایسا کیا ہے۔ 2017 میں ایجنسی نے ایک رپورٹ پیش کی جو اتنی ناقص تھی جس سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ وہ اس قانون کو کس طرح عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔’

پی پی پی رہنما کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کو انٹرنیٹ پر مجرموں کو بے نقاب کرنے والے مظلوموں کو بھی ہراساں کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

فریحہ عزیز اس خیال سے متفق ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو ہتک عزت کے نوٹس دینے میں ایف آئی اے نے جس قدر تیزی کا مظاہرہ کیا ہے اس کا عشر عشیر بھی وہ ہراسانی کے کیسز میں نہیں دکھاتی۔

فرحت اللہ بابر کے مطابق سائبر کرائم قانون کے تحت وفاقی حکومت آزادانہ طور پرکام کرنے والی فرانزک لیبز قائم کرنے کی بھی پابند ہے جو عدالت کو الیکٹرانک شواہد پر اپنی رائے دے سکتی ہیں لیکن ان لیبز کا قیام اب بھی التوا کا شکار ہے۔

انھوں نے کہا اگر ایف آئی اے کو سال میں دو بار اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا جائے تو ان امور پر غور کیا جاسکتا ہے اور ایجنسی کو جوابدہ ٹھہرایا جاسکتا ہے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ‘اب صورت حال ابتر ہوگئی ہے۔ پیکا کو اب صرف میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔’

دوسری جانب وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے میڈیا ونگ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ پیکا کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ درحقیقت یہ بل خواتین یا دیگر افراد کی حفاظت کے لیے منظور کیا گیا تھا اور یہ ایک غلط فہمی ہے کہ سیکشن 20 جیسی کچھ شقوں، جو ہتک عزت سے متعلق ہیں، کا طاقتور افراد غلط استعمال کریں گے۔

‘اگر کوئی شخص سوشل میڈیا پر کسی پر الزام لگاتا ہے تو اسے ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی ان پر ہی عائد ہوتی ہے، تاہم اس سیکشن کو کسی صنف سے متعلق نہیں دیکھا جانا چاہیے۔’

البتہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا قوانین سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے ہیں اور انفرادی فرد پر لاگو نہیں ہوتے۔

‘یہ مکمل طور پر غلط فہمی ہے اور غلط معلومات ہیں کہ پیکا اور اس کے سوشل میڈیا قوانین کو ایک مخصوص گروہ، فرد یا جنس کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔’

انھوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مقامی قوانین کے سامنے جوابدہ نہیں ہونا چاہتیں اور وہ خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سے سائبر کرائم کیسز کے لیے وہ پاکستان کو ڈیٹا فراہم کریں گی اور ایسے معاملات میں جن میں وہ ڈیٹا نہیں دیتیں، وہ اس جوابی بیانیے کا پرچار کرتی ہیں کہ حکام ان کا ڈیٹا مانگ کر ایک مخصوص جنس یا گروہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے بارے میں اس عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ ایف آئی اے کی صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورت ہے، لیکن ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا کہ سائبر کرائم کا کردار اب بھی اس ایجنسی کے لیے نیا ہے، جو دراصل وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ‘ایف آئی اے کو موصول ہونے والی تمام شکایات میں سے 80 فیصد سائبر کرائم سے متعلق ہیں۔’

تاہم اس بارے میں انھوں کوئی وضاحت نہیں دی گئی کہ آیا حکومت اپنی صلاحیت بڑھانے کے لیے کچھ کر رہی ہے یا نہیں۔

وزارتی عہدے دار کے مطابق ایف آئی اے پارلیمنٹ میں قائمہ کمیٹیوں کے سامنے سال میں دو رپورٹس پیش کرتی ہے لیکن ان رپورٹس پر کمیٹی کی رائے اور تجاویز کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں