55

ڈاکٹر کے قتل کی واردات، جس کی تفتیش کا رخ راتوں رات بدل گیا.

ڈاکٹر کے قتل کی واردات، جس کی تفتیش کا رخ راتوں رات بدل گیا.

(ڈیلی طالِب)

یہ قتل میری زندگی کے ان عجیب و غریب کیسوں میں سے ایک ہے جس میں ابتدائی شک کسی پر تھا، لیکن بعد میں شواہد نے بالکل مخالف سمت میں اشارہ کرنا شروع کر دیا۔

یہ سابق پولیس انسپیکٹر صغیر وٹو کی یادداشتوں پر مبنی سیریز ہے جو ہر منگل کو آپ کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔

مجھے ضلع ملتان کے دیہی تھانے بدھلہ سنت میں تعینات ہوئے ابھی کوئی دو ماہ کا عرصہ گزرا تھا۔

بدھلہ سنت یوں تو کوئی بہت بڑا تھانہ نہیں تھا۔ دیہی علاقہ ہونے کے باعث بدھلہ سنت میں لوگوں کے روزگار کا زیادہ تر انحصار کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنے سے تھا اس لیے اگرچہ وہاں سرکاری ہسپتال تو نہ بن سکا لیکن شفا خانہ حیوانات ضرور موجود تھا۔

شفا خانہ حیوانات کے سربراہ ڈاکٹر اشرف خلیجی انتہائی منکسرالمزاج اور خدا ترس انسان تھے۔ ان کا آبائی شہر بورے والا تھا لیکن ملازمت ملنے کے بعد گذشتہ 14 سال سے بدھلہ سنت میں ہی قیام پذیر تھے۔

میں نے بدھلہ سنت کے لوگوں کو ہمیشہ ڈاکٹر اشرف خلجی کی تعریف کرتے سنا۔ وہ بدھلہ سنت کے لوگوں کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔

میری خواہش تھی کہ میں کسی دن ان سے ضرور ملوں لیکن یہ بات بالکل میرے وہم و گمان میں نہ تھی کہ ان کے ساتھ میری ملاقات اس قدر غیر معمولی صورت حال میں ہو گی۔

رمضان شروع ہو چکا تھا۔ باقی اداروں کی طرح پولیس کے معمولات میں بھی تبدیلی آچکی تھی بلکہ ڈیوٹی کے اوقات میں کافی حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔

غالباً تیسری سحری تھی۔ ابھی میں سحری کے بعد نماز کی تیاری میں مشغول تھا کہ میرے فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف بدھلہ سنت کا نمبردار چوہدری نذیر گجر تھا۔ اس نے گھبراہٹ زدہ آواز میں کہا، ’میاں صاحب، ڈاکٹر اشرف خلجی کے گھر ڈکیتی ہوئی ہے اور ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ڈاکٹر اشرف خلجی شدید زخمی ہو گئے ہیں۔‘

نذیر نمبردار نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر اشرف خلجی کے گھر والے انہیں بدھلہ سنت کے ایک پرائیویٹ کلینک پر لے جانے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

میں نے نذیر نمبردار سے کہا کہ وہ انہیں ایسا کرنے سے منع کرے کیونکہ یہ فائر آرم کا کیس ہے اور ایسے کیسز کو صرف سرکاری ہسپتال ہی لے جایا جاتا ہے۔ میں خود بھی فوراً کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر موقعے کی طرف روانہ ہو گیا۔

میں چند منٹ کے بعد جائے وقوعہ ڈاکٹر اشرف خلجی کے گھر پر موجود تھا۔ یہ دو کمروں پر مشتمل سرکاری گھر تھا جس کے ساتھ باہر کی طرف ملحق چھوٹا سا کچن تھا، گھر کے صحن میں بلب کی روشنی پڑ رہی تھی۔ جبکہ گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔

ڈاکٹر اشرف خلجی صاحب گذشتہ 14 سال سے اپنی اہلیہ، جو خانیوال کے گرلز کالج میں فزیکل ایجوکیشن کی لیکچرار تھیں، کے ساتھ اسی کوارٹر میں رہائش پذیر تھے۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی لیکن انہوں نے باوجود گھر والوں کے دباؤ کے دوسری شادی نہیں کی تھی۔

کوئی پانچ سال قبل ڈاکٹر صاحب نے اپنی بیوی کے اصرار پر بیوی کے اکلوتے بھائی کی بیٹی (بھتیجی) کو اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ بشریٰ ایف اے کی طالبہ تھی اور خانیوال گرلز کالج میں ہی زیر تعلیم تھی اور روزانہ اپنی پھوپھی کے ساتھ ہی خانیوال آتی جاتی تھی۔

بھتیجی سمیت گھر میں تین افراد قیام پذیر تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وقوعہ کے وقت بھتیجی کچن سے ٹرے میں چائے کی پیالیاں رکھ کر کمرے کی طرف آ رہی تھی کہ اچانک اس کی چیخ سنائی دی، پھر ٹرے گرنے کی آواز آئی جسے سن کر ڈاکٹر خلجی بھاگ کر کمرے سے باہر آئے۔

ڈاکٹر خلجی کے باہر آتے ہی بھتیجی بھاگ کر کمرے کے اندر چلی گئی۔ بقول اہلیہ ڈاکٹر خلجی، دو مسلح ڈاکو، جن کے چہرے کپڑوں سے ڈھانپے ہوئے تھے کو جیسے ہی ڈاکٹر صاحب نے للکارا، انہوں نے فائرنگ کر دی اور ڈاکٹر صاحب جیسے ہی زمین پر گرے، وہ دروازے کے راستے فرار ہو گئے۔

یہ وقت تفصیلات جاننے کا نہیں تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی حالت تشویش ناک تھی۔ میں نے گھر سے نکلتے وقت ایمبولینس کو کال کر دیا تھا، جو جلد ہی باہر پہنچ گئی۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو نشتر ہسپتال بھجوا دیا اور خود سرکاری گاڑی پر ایمبولینس کے ساتھ نشتر اسپتال کے لیے روانہ ہو گیا۔

اچانک ایک سوچ میرے ذہن میں بجلی کی طرح کوندی۔

میں نے ایمبولینس رکوائی اور سرکاری گاڑی سے نکل کر ایمبولینس میں پچھلی طرف ڈاکٹر خلیجی کے سٹریچر کے ساتھ بالکل پاس بیٹھ گیا۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ شاید مضروب کوئی ایسی بات بتا دے یا ایسا کوئی اشارہ دے دے جس سے ملزمان تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔

ایمبولینس ممکنہ تیزی کے ساتھ نشتر اسپتال کی طرف روانہ تھی۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا، ’ڈاکٹر صاحب، کیا آپ ڈاکوؤں کو پہچانتے ہیں؟ کیا آپ کو کسی پر شک ہے؟‘

ڈاکٹر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے دو انگلیاں اوپر کیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کی سانس اکھڑنے لگی۔

انہوں نے بآواز بلند کلمۂ طیبہ پڑھا اور ان کی گردن ایک طرف کو ڈھلک گئی۔

میں نے فوری طور پر ان کی نبض دیکھی۔ ان کی دھڑکنیں رک چکی تھیں۔ ڈاکٹر صاحب کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔

کچھ ہی دیر میں ہم نشتر اسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچ گئے۔ جلد ہی نشتر اسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی موت کی تصدیق کر دی۔

میں نے پوسٹ مارٹم کروانے کی ہدایات دے کر سب انسپکٹر افتخار کو ڈاکٹر صاحب کے جسدِ خاکی کے پاس چھوڑا اور خود دوبارہ جائے واردات کی جانب روانہ ہو گیا۔

میرا اصل کام اب شروع ہوا تھا۔ مجھے جائے واردات کا تفصیلی جائزہ لینا تھا، واقعاتی شہادتوں کو اکٹھا کرنا تھا، اس کے علاوہ مقتول کی اہلیہ اور اہلیہ کی بھتیجی کے بیانات الگ الگ قلمبند کرنا تھے۔

جائے واردات سے مجھے خون آلود مٹی اور چلائی گئی گولیوں کے خالی خول ملے جو میں نے قبضے میں لے لیے۔

میں نے ڈاکٹر صاحب کی بیوہ کے بیان پر دوران ڈکیتی قتل کے جرم میں 396 تعزیرات پاکستان کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ اس کے بعد تمام حالات وقوعہ اپنے افسران بالا کے گوش گزار کیے، ان سے راہنمائی لی اور انہیں یقین دلایا کہ میں بہت جلد ملزمان تک پہنچ جاؤں گا۔

میں بہت جلد اس وقوعہ اور اس کے محرکات کی تہہ تک پہنچنا چاہتا تھا تاکہ اصل ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچا سکوں۔

اس وقوعے میں بہت سی باتیں ایسی تھیں جو مجھے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔

اگر ملزمان ڈکیتی کی نیت سے گھر میں داخل ہوئے تھے تو یہ وقت انتہائی غیر موزوں تھا کیونکہ سحری کے وقت نہ صرف ڈاکٹر صاحب اور ان کے اہل خانہ جاگ رہے تھے بلکہ اس وقت تمام اہل علاقہ جاگ رہے ہوتے ہیں، مساجد میں سپیکرز پر نعتیں اور سحری کے اوقات کے اعلانات وقفے وقفے سے جاری و ساری رہتے ہیں، کھانے پینے کی دکانیں کھلی رہتی ہیں اور گلیوں میں چہل پہل ہوتی ہے۔

دوسری مشکوک بات واردات کی اطلاع تھی۔ واردات کی اطلاع نذیر نمبردار کو اہل خانہ نے نہیں بلکہ عبداللہ چوکیدار نے دی تھی۔

عبداللہ چوکیدار کے مطابق اس نے دو لڑکوں کو ڈاکٹر صاحب کے گھر سے باہر نکلتے اور موٹر سائیکل پر سوار ہوتے دیکھا۔ جیسے ہی چوکیدار عبداللہ نے انہیں آواز دی تو انہوں نے موٹرسائیکل بھگا دی اور ککڑ ہٹہ خانیوال روڈ کی جانب فرار ہو گئے۔

چوکیدار نے جب ڈاکٹر خلجی کے گھر کے کھلے دروازے کے اندر جھانکا تو ڈاکٹر صاحب درد سے کراہ رہے تھے اور کوئی ان کے قریب نہیں تھا۔

جیسے ہی چوکیدار اندر داخل ہوا تو دونوں خواتین نے رونا پیٹنا شروع کر دیا۔ میں نے بھی مقتول ڈاکٹر خلجی کی بیوہ اور بھتیجی سے جو سوالات کیے۔ ان میں کچھ تضادات تھے۔

صبح چار بجے جب مبینہ ڈاکو گھر میں داخل ہوئے اور ڈاکٹر صاحب پر فائرنگ کی تو گھر والوں نے سب سے پہلے کس کو اطلاع دی؟

ڈاکٹر صاحب کی بیوہ نے بتایا کہ اس نے فیصل آباد میں فون کر کے اپنے بھائی کو بتایا جبکہ اس کی بھتیجی نے کہا کہ فون ڈیڈ ہو چکا تھا۔

جب ہم نے پی ٹی سی ایل فون کا ریکارڈ چیک کروایا تو واردات کے بعد فیصل آباد کال کی گئی تھی جبکہ حیرانی کی بات یہ تھی کہ کوارٹر کی چھت سے ٹیلیفون کی تار کاٹی گئی تھی اور ایک پلاس بھی وہیں موجود تھا۔

میں نے اس کٹر سے فنگرپرنٹس اٹھائے اور بذریعہ فرد اسے قبضے میں لیا۔ میں نے مشکوک حالات کے باعث دونوں خواتین کو پابند کیا کہ وہ مجھے بتائے بغیر سٹیشن نہ چھوڑیں کیونکہ امور تفتیش کی تکمیل میں ان کی موجودگی ناگزیر ہے۔

اگلی صبح مجھے اطلاع ملی کہ ڈاکٹر خلجی کی بیوہ کے بھائی نے کھوجی کتوں کے ذریعے سراغ لگوانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں رقم بھی ادا کر دی گئی ہے۔

میرے لیے یہ مزید اچنبھے کی بات تھی۔ سراغ رساں کتوں کے ذریعے سراغ رسانی کے حوالے سے ماضی میں میرا تجربہ کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا۔ کیوں کہ میں نے یہی دیکھا تھا کہ میری یہ تفتیش کو سلجھانے کی بجائے اسے الجھانے کا باعث زیادہ بنتے ہیں۔

میں نے ایک بااعتماد اے ایس آئی کی ڈیوٹی لگا دی کہ وہ صورت حال پر نظر رکھے اور مجھے گاہے بگاہے مطلع کرتا رہے۔

دوپہر تک ڈاکٹر اشرف کے بھائی بورے والا سے بدھلہ سنت پہنچ گئے۔

سہ پہر تین بجے کے قریب مجھے میرے اے ایس آئی نے اطلاع دی کہ سراغ رساں کمپنی نے جائے وقوعہ سے دو کتے چھوڑے ہیں جو عبداللہ چوکیدار کے گھر کے باہر جا کر بیٹھ گئے ہیں۔

ابھی یہ اطلاع موصول ہوئے کوئی دس منٹ بمشکل گزرے ہوں گے کہ مقتول ڈاکٹر اشرف خلجی کی بیوہ اور ڈاکٹر صاحب کے بھائی مع معززین علاقہ تھانے آ گئے انہوں نے پرزور اصرار کرنا شروع کر دیا کہ کھوجی کتوں نے ساری واردات کھول کر رکھ دی ہے اور ہمارے ملزمان عبداللہ چوکیدار اور اس کا 18 سالہ بیٹا ارشد ہیں۔

کیونکہ مدعی مقدمہ ڈاکٹر صاحب کی بیوہ تھیں، میں نے انہیں کہا کہ وہ ایک تتمہ بیان (Supplementary statement) لکھ کر دے دیں، تاکہ ان کے نامزد کردہ ملزمان کو گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جا سکے۔

مدعیہ کا تتمہ بیان ریکارڈ کرنے کے بعد میں نے عبداللہ چوکیدار اور اس کے بیٹے ارشد کی گرفتاری کے لیے ٹیم روانہ کی۔ لیکن اس سے سے پہلے کہ ٹیم پہنچتی، عبداللہ چوکیدار اور اس کا بیٹا ارشد خود بخود تھانے پیش ہو گئے۔

عبداللہ چوکیدار نے کہا کہ سر جب کھوجی کتے ہمارے گھر کے باہر بیٹھے تو ہم دونوں باپ بیٹا گھر میں ہی موجود تھے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے آپ کے سامنے پیش ہو گئے ہیں

عبداللہ چوکیدار گڑگڑا کر کہنے لگا کہ ’سر مجھے اور میرے بیٹے کو پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر قیامت تک ہمارا جرم یا اس جرم میں ہمارا کوئی کردار ثابت ہوا تو آپ کو ہمارا خون معاف ہے

عبداللہ کی بات میرے دل کو چھو رہی تھی۔ پولیس افسر کے کام میں چھٹی حس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ لیکن یہ چھٹی حس بھی تربیت یافتہ ہوتی ہے، اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں کام کرتی ہے۔ میں نے اب تک جتنی کیسز میں تفتیش کی تھی، جتنے ملزمان پر کیس چلائے تھے، تربیت کے دوران جو کچھ سیکھا تھا، وہ سارا ڈیٹا شعور کے ساتھ لاشعور میں بھی موجود تھا اور چھٹی حس ان سب سے استفادہ کر کے مجھے بتا رہی تھی کہ چوکیدار کو کیس کی تفتیش کا رخ تبدیل کرنے کے لیے پھنسایا جا رہا ہے۔

لیکن ظاہر ہے کہ حتمی فیصلے تک پہنچنے کے لیے مجھے سارے تقاضے پورے کرنا تھے۔ میں نے عبداللہ چوکیدار اور اس کے بیٹے ارشد کے بیانات قلم بند کیے انہیں تفتیش کے لیے تھانے میں ہی موجود رہنے کا کہا۔ اس دوران میں نے افسران بالا سے بات کر کے دونوں ملزمان کی گرفتاری التوا میں رکھی۔

اس دوران چوکیدار اور اس کے بیٹے ارشد کی میں خفیہ اور اعلانیہ معلومات اکٹھی کر چکا تھا۔ دونوں باپ بیٹے کے گذشتہ 24 گھنٹے میں معمولات کی تصدیق ہو چکی تھی۔ ان سے بھی میری چھٹی حس کی تائید ہو رہی تھی کہ وہ دونوں بے گناہ تھے۔

میں نے ڈاکٹر خلجی مقتول کے دونوں بھائیوں کو اعتماد میں لیا۔ ان کے ساتھ وقوعہ سے لے کر اب تک سامنے آنے والے واقعات اور بحیثیت پولیس آفیسر اپنے خدشات سے انہیں آگاہ کیا۔

اسی دوران ایک اور اطلاع موصول ہوئی کہ ڈاکٹر صاحب کی بیوہ اور ان کی بھتیجی ملتان سے فیصل آباد جا چکی ہے۔ دونوں خواتین کا یہ غیر متوازن اور غیر متوقع رویہ میرے خدشات کو تقویت دے رہا تھا، حالانکہ میں نے انہیں تفتیش مکمل ہونے تک وہیں رکنے کی ہدایت کی تھی۔

ابھی اس وقوعے کو دو روز ہی گزرے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کے گھریلو سامان کی منتقلی بھی شروع کر دی گئی۔

اس دوران مجھے عدالت عالیہ کی جانب سے ایک حکم نامہ بھی موصول ہوا جس کے تحت دونوں خواتین کی رٹ پٹیشن پر پولیس کو بلاجواز ہراساں نہ کرنے کے احکامات صادر کیے گئے تھے۔

اگرچہ ایسی رٹ پٹیشن عمومی طور پر ملزمان کی جانب سے کی جاتی ہے لیکن مدعیہ کی جانب سے اس کا سامنے آنا انتہائی غیر معمولی تھا۔

اسی اثنا میں مجھے ڈاکٹر صاحب کے بھائیوں نے اطلاع دی کہ ڈاکٹر صاحب کے بینک اکاؤنٹ کو، جس میں ایک خطیر رقم موجود ہے، مدعیہ نے اپنے نام منتقل کروانے کے لیے بینک میں درخواست دائر کر دی ہے۔

بیانات میں تضاد، سراغ رساں کتوں کے ذریعے عبداللہ چوکیدار اور اس کے بیٹے کی مقدمے میں نامزدگی، سامان کی فوری منتقلی کی کوشش، پابند کرنے کے باوجود بشریٰ بی بی کا بدھلہ سنت سے چلے جانا، بغیر کسی ظاہری وجہ کے ہائی کورٹ میں پولیس کے خلاف ’ہراسمنٹ کی رٹ،‘ بینک اکاؤنٹ کی اپنے نام منتقلی کی کوشش، یہ وہ واقعات تھے جو واضح طور پر تفتیش کا رخ متعین کر رہے تھے۔

میں ان سارے خدشات کو ضمنیوں (پولیس ڈائری) کے ذریعے پولیس فائل کا حصہ بنا رہا تھا۔

ایک ہفتے کے بعد ڈاکٹر صاحب کے دونوں بھائی میرے پاس تھانے پہنچے اور روتے ہوئے کہا کہ آپ کے خدشات درست ہیں، میری بھابھی اور اس کی بھتیجی اس وقوعے میں ملوث ہیں۔

میں نے دونوں سے تفصیل چاہی تو انہوں نے بتایا کہ ہماری بھابھی (مدعیہ مقدمہ) نے سٹیٹ لائف انشورنس میں ڈاکٹر خلجی کی بیمہ پالیسی کے حوالے سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی وصولی کے لیے ہمیں بتائے بغیر کلیم جمع کروا دیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’ہمیں کچھ نہیں چاہیے، ہمارے بھائی کے قتل میں ہماری بھابھی اور اس کی بھتیجی ملوث ہیں، لہٰذا ان کی بجائے ہمیں مدعی مقدمہ بنایا جائے۔‘

میں نے مدعیہ کو بلایا اور اپنے تمام خدشات سوالات کی شکل میں تحریری طور پر اس کے سامنے رکھے۔

وہ کسی ایک سوال کا جواب بھی نہ دے سکیں اور الٹا اگلے روز تبدیلی تفتیش کی درخواست دے دی۔

اس وقت تک میں نے تمام شواہد کی روشنی میں ڈاکٹر اشرف خلجی مقتول کے بڑے بھائی اصغر کے بیان پر مدعیہ کو مع بھتیجی نامزد مقدمہ کر دیا۔

سابقہ مدعیہ اور موجودہ ملزمہ ہر قدم پر مجھے حیران کرتی جا رہی تھیں۔ اب کی بار انہوں نے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مقدمے کی تفتیش کرائم برانچ منتقل کروا لی، اور یہ کیس میرے دائرۂ کار سے ہٹوا دیا اور کیس کی فائل میرے ہاتھوں سے نکل گئی۔

تفتیش کار بدل گئے، لیکن ظاہر ہے کہ میں نے کیس پر محنت کی تھی، جس کا تمام ریکارڈ بمع شواہد فائل میں موجود تھا۔ کرائم برانچ کے تفتیشی افسران نے جب فائل دیکھی تو اس مقدمے میں محنت اور لگن سے کی گئی تفتیش اور اٹھائے گئے سوالات نے انہیں بھی مجبور کر دیا کہ وہ ان دونوں خواتین کو اس قتل کے مقدمے میں چالان کرے۔

آخری اطلاعات تک بھانجی ڈاکٹر اشرف خلجی کے مقدمے میں چالان ہو کر جیل میں ہیں اور اپنے کیے کی سزا بھگت رہی ہیں جبکہ ڈاکٹر اشرف خلجی کی بیوہ ضمانت پر رہا ہو چکی ہے۔

اس وقوعے کو 15 برس گزر چکے ہیں، عدالت میں متعدد پیشیاں ہو چکی ہیں لیکن اب تک کیس میرے اٹھائے گئے سوالات کے گرد گھوم رہا ہے۔ وہ سوالات یہ ہیں:

قتل کے وقت دروازہ اندر سے کس نے کھولا؟
قتل کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو کیوں نہ دی گئی؟
اگر ڈکیتی تھی تو ڈاکو ساتھ کچھ کیوں نہیں لے کر گئے؟
قتل سحری کے انتہائی مصروف وقت میں کیوں ہوا؟
فوری طور پر سراغ رساں کتے کیوں منگوا لیے گئے؟
ہدایت کے باوجود بیوہ اور بھتیجی شہر چھوڑ کر کیوں چلی گئیں؟
ہراسانی کی رٹ کیوں حاصل کی گئی حالانکہ کسی نے انہیں ہراساں نہیں کیا تھا؟
بینک سے رقم نکلوانے کی کیا جلدی تھی؟ بیوہ کو مالی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا کیوں کہ وہ خود لیکچرر تھیں۔
مرکزی تفتیشی افسر، یعنی مجھے، کیوں تبدیل کیا گیا؟

میرے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ مدعیت تبدیل ہونے کے باعث، جس مقصد کے لیے ڈاکٹر اشرف خلجی کو راستے سے ہٹایا گیا وہ پورا نہ ہو سکا، اور دونوں خواتین کوئی بھی مالی فائدہ اٹھانے سے قاصر رہیں۔

میرے تجربے کے مطابق قتل جیسی سنگین وارداتوں میں جرم کا کھرا ہمیشہ نہیں تو 99 فیصد کیسز میں مستفید ہونے والے (Beneficiary)کی جانب نکلتا ہے اگر محنت اور لگن کے ساتھ جرم کے پس پردہ محرکات کو جاننے کی کوشش کی جائے تو ملزمان تک رسائی کی سبیل ضرور نکلتی ہے۔

نوٹ: بعض جگہوں پر نام تبدیل کر دیے گئے ہیں، البتہ تفصیلات اصل وقوعے کے مطابق ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں