35

عطااللہ مینگل: ایک سردار جس نے سرداری نظام کے خلاف جدوجہد کی.

عطااللہ مینگل: ایک سردار جس نے سرداری نظام کے خلاف جدوجہد کی.

(ڈیلی طالِب)

’میں بھیڑوں کے آگے بین نہیں بجانا چاہتا۔‘ سردار عطااللہ مینگل کا یہ بغیر رکھ رکھاؤ کے سیدھا جواب تھا جب میں نے اُن سے چند سال قبل انٹرویو دینے کی درخواست کی تھی۔

اس جواب کے بعد ان کے گھر جا پہنچے اور انٹرویو نہ دینے کی وجہ جاننا چاہی تو اُنھوں نے کہا کہ اب اندھوں، گونگوں اور بہروں کے سامنے کیوں چلائیں، کیونکہ کسی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

عطااللہ مینگل جمعرات کو کراچی میں وفات پا گئے۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے اور ان کا پچھلے دنوں ایک نجی ہسپتال میں دل کا آپریشن بھی کیا گیا تھا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثنااللہ بلوچ نے ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔

سردار عطااللہ بلوچستان کے پہلے منتخب وزیرِ اعلیٰ اور بلوچستان کی قوم پرست سیاست کے چوتھے ستون تھے جو اپنی تلخ اور اصول پرست سیاست کی وجہ سے ذاتی المیوں اور صدموں سے بھی گزرے۔

والد کی ریاست سے بے دخلی
سردار عطااللہ مینگل کی پیدائش خضدار کے علاقے وڈھ میں سردار رسول بخش مینگل کے گھر میں ہوئی۔ ان کا تعلق شاہزئی مینگل قبیلے سے تھا۔ والد کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا تاہم ان کا جھکاؤ قلات ریاست کے بجائے جام آف لسبیلہ کی طرف تھا۔

چیف آف جھالاواں اور قلات ریاست سے اختلاف کی وجہ سے اُنھیں خضدار سے بے دخل کیا گیا اور اُنھوں نے بیلہ میں رہائش اختیار کی۔

سردار عطااللہ مینگل نے ابتدائی تعلیم مقامی طور پر جبکہ مزید تعلیم اسلامیہ کالج کراچی سے حاصل کی۔ وہ چھوٹی عمر میں اپنے شاہزئی مینگل قبیلے کے سردار بنے تھے۔

میر غوث بخش خان بزنجو نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اُنھوں نے خان آف قلات کو سفارش کی تھی کہ یہ ایک بڑا قبیلہ ہے، اس کی سرداری بحال کی جائے جس کے بعد عطااللہ مینگل کو سردار بنایا گیا تھا۔

شاہزئی مینگل سرداروں کے قلات ریاست اور نواب آف جھالاواں سے تعلقات خوشگوار نہیں رہے۔

اختر علی خان بلوچ ’بلوچستان کی نامور شخصیات‘ میں خان آف قلات امیر احمد یار خان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اُنھوں نے اُنھیں بتایا تھا کہ آج بھی وہ منظر نہیں بھولا جب کمسن عطااللہ کے سر پر سرداری کی پگڑی باندھی تھی میں نے مینگلوں کو اس کی سرداری پر کتنے جتنوں کے بعد راضی کیا تھا۔

میر آغا میر خاجی خان نے بتایا کہ کراچی کے سیکنڈری سکول سے کمسن عطااللہ مینگل کو اٹھا کر قلات میں لایا گیا اور سردارِ قبیلہ کے طور پر ان کی دستار بندی کی گئی۔

یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ کہیں وڈھ پہنچنے پر ان کو سرداری کا ایک بڑا امیدوار قتل نہ کروا دے، چنانچہ خان آف قلات نے اُنھیں (جو اُن کے ہم زلف اور کزن تھے) نوجوان عطااللہ مینگل کے ہمراہ محافظوں کی نفری کے ساتھ وڈھ بھیجا کہ وہ وہاں جا کر مینگل قبیلے کے تمام معتبرین کو خان کے فیصلے اور اقدام سے آگاہ کر دیں اور سردار عطااللہ کی حفاظت کریں۔

جیپ کا سفر اور سیاست
سردار عطااللہ مینگل کا سیاست میں آنے کا فیصلہ بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ ایک ملاقات میں جب ان سے پوچھاگیا کہ آپ سیاست میں کیسے آئے تو اُنھوں نے اپنی جوانی کا واقعہ سنایا۔

’پچاس کی دہائی تھی۔ میں ابھی صرف سرداری کرتا تھا اور سیاست میں قدم نہیں رکھا تھا۔ ہمارے گاؤں سے مین روڈ تک سڑک نہیں تھی سو میں نے ذاتی خرچے سے یہ سڑک تعمیر کروائی اور اس کا افتتاح ریاست قلات کے وزیر اعظم سے کروانے کا فیصلہ ہوا۔ مقررہ دن وہ آئے اور ہم اُنھیں گاؤں لے کر روانہ ہوئے۔ راستے سے کئی ندیاں گزرتی ہیں، اگر کوئی تھوڑا بھی بھٹک جائے تو آگے جا کر پھنس جاتا۔ میں وفد کے آگے جا رہا تھا لیکن یہ سوچ کر گاڑی واپس موڑ دی کہ مہمان بھٹک نہ جائیں۔‘

سردار عطااللہ کے بقول وہ واپس آئے تو دیکھا کہ مہمان راستہ بھٹک چکے تھے۔ اُنھوں نے اُنھیں کراس کیا اور پیچھے آنے کو کہا، یوں گاؤں پہنچے۔ گاؤں میں کھانے کا بھی انتظام تھا۔

’اس وقت کا ڈپٹی کمشنر میرے پاس آیا اور کہا کہ وزیر اعظم کے اسسٹنٹ کو کھانے کے لیے کہیں۔

’میں نے کہا کہ دعوت ہے سب لوگ کھانا کھا رہے ہیں، میں نے تو کسی کو نہیں کہا؟ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اسسٹنٹ خفا ہے۔ حالانکہ اس بندے سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔‘

’میں نے پوچھا کہ وہ خفا کیوں ہے؟ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وہ کہتا ہے کہ آپ نے اس کی گاڑی کو کراس کیا ہے۔

’ڈپٹی کمشنر کی بات سن کر مجھے حیدرآباد دکن کے نظام کی بیٹی کا قصہ یاد آگیا۔ وہ اپنی گاڑی میں جا رہی تھیں تو ایک انگریز خاتون جس نے کسی مقامی شخص سے شادی کی تھی کی گاڑی نے اس کو کراس کیا۔

’نظام کی بیٹی نے حکم دیا کہ اس خاتون کی گاڑی ریورس میں اس کے گھر تک پہنچائی جائے۔ فورس گئی اور گاڑی کو اسی طرح واپس پہنچایا گیا۔

’میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ کیا یہ زمین میری نہیں؟ میں اجنبی ہوں؟ اس کے بعد میں نے سیاست کا آغاز کیا اور نوّے کی دہائی تک یہ سلسلہ جاری رہا۔‘

پارلیمانی سیاست کا آغاز
بلوچستان کے ترقی پسند قوم پرست رہنما میر غوث بخش بزنجو کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ہی سردار عطااللہ مینگل کو سیاست میں آنے پر قائل کیا تھا اور ان کے مشورے پر ہی اُنھوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔

وہ 1956 میں مغربی پاکستان کی اسمبلی میں کامیاب ہوئے۔ دو سال کے بعد صدر اسکندر مرزا نے آئین کو معطل کرکے مارشل لا کا نفاذ کر دیا اور یوں جنرل ایوب اقتدار پر قابض ہوگئے۔ سردار عطااللہ نے اس مارشل لا کی مخالفت کی اور اُنھیں جیل جانا پڑا۔

میر غوث بخش بزنجو اور نواب خیربخش مری کے ساتھ اُنھوں نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کو سرگرم کیا۔ سنہ 1962 کے انتخابات میں وہ قلات ڈویزن سے اور نواب خیر بخش مری کوئٹہ ڈویژن سے منتخب ہوئے۔

جب ون یونٹ کا نفاذ کیا گیا تو اُنھوں نے اس کی بھرپور کی مخالفت کی۔ ان دونوں رہنماؤں کی جوشیلی اور قوم پرستانہ تقاریر نے نہ صرف بلوچستان بلکہ کراچی کے بلوچ نوجوانوں میں جوش و خروش پیدا کیا۔

کراچی میں ککری گراؤنڈ میں ان کا جلسہ صبح چار بجے تک جاری رہا۔ اگلے روز اُنھیں ریاست سے غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ رمضان بلوچ اپنی کتاب ’بلوچ روشن چہرے‘ میں لکھتے ہیں کہ عطاللہ مینگل کی تقریر آج تک ان کے کانوں میں گونج رہی ہے۔ وہ لیاری کے بلوچوں کے آئیڈیل بن گئے اور بمشکل سے کوئی گھر ہوگا جس میں ان کی تصویر نہ لگی ہو۔

قتل کے الزام میں گرفتاری
ریاست سے غداری کے الزام میں گرفتاری کے چند ہفتوں کے بعد اُنھیں رہا کردیا گیا۔ سرکار کی مدد سے ایک بزرگ کرم خان مینگل کو شاہزئی مینگل قبیلے کا سردار مقرر کر دیا گیا لیکن قبیلے کے لوگوں نے حملہ کر کے اس کو قتل کر دیا جس کے بعد سردار عطااللہ، ان کے بزرگ والد رسول بخش مینگل اور بھائی مہراللہ مینگل کو گرفتار کرلیا گیا۔

قتل کے وقت ان کی موجودگی کو پولیس ثابت نہ کرسکی اور نتیجے میں اُنھیں رہا کرنا پڑا اور ان کی سرداری بھی برقرار رہی.

بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ
نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے اُنھوں نے 1970 کے انتخابات میں حصہ لیا اور نواب خیر بخش مری، غوث بخش بزنجو اور اُن پر مشتمل ٹرائیکا نے ان کے وزیرِ اعلیٰ ہونے کا فیصلہ کیا اور یوں وہ بلوچستان کے پہلے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ ان انتخابات سے قبل بلوچستان کو صوبے کی حیثیت حاصل نہیں تھی۔

سردار عطااللہ مینگل نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھٹو نیپ کو حکومت بنانے ہی نہیں دیتے مگر مجبوری میں انھوں نے ایسا کیا کیونکہ اس وقت فوج ان کے ساتھ نہیں تھی۔

اس دور میں انھوں نے تعلیم پر توجہ دی، بلوچستان کا تعلیمی بورڈ، بولان میڈیکل کالج اور انجینیئرنگ کالج قائم کیے۔ اس عرصے میں نواب خیربخش مری نے بلوچستان سے سرداری نظام کے خاتمے کی قرار داد پیش کی جس کی اُنھوں نے حمایت کی لیکن فیصلہ وفاقی حکومت کے اختیار میں تھا لہٰذا یہ وفاقی حکومت کو بھیجی گئی لیکن ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے عمل نہیں کیا۔

چنانچہ بھٹو حکومت سے سیاسی اور انتظامی معاملات پر ان کے اختلافات پیدا ہوگئے۔

اقرا یونیورسٹی اسلام آباد میں پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر رضوان زیب ایک اخبار فرائیڈے ٹائمز میں اپنے آرٹیکل ‘دے روٹس آف رزنمنٹ’ میں لکھتے ہیں کہ عطااللہ مینگل کی حکومت اور وفاق میں تنازع شروع ہوگیا۔

مینگل نے 5500 غیر مقامی ملازمین کو بلوچستان سے بے دخل کر کے واپس بھیج دیا جن میں ڈھائی ہزار سے زائد پولیس کے تھے اس کے علاوہ بلوچستان دیہی محافظ کا قیام عمل میں لایا گیا۔

مینگل نے کوسٹ گارڈز کو مکران کے ساحل پر گشت کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ مری اور مینگل قبائل نے پٹ فیڈر ایریا میں پنجابی آبادکاروں پر حملے کیے۔

1972 میں پاکستان کے کئی سیاست دان جن میں سے زیادہ تر کا تعلق نیشنل عوامی پارٹی سے تھا لندن میں تھے۔ اتفاقی طور پر وہاں بنگلہ دیش کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمان بھی موجود تھے۔

پاکستانی میڈیا بالخصوص حکومتی اشاعتی ادارے نیشنل پیپرز ٹرسٹ کے اخبارات میں یہ شہ سرخیاں بنائی گئیں کہ یہ لوگ بھٹو حکومت کا تختہ الٹا کر پاکستان کی تقیسم چاہتے ہیں۔ اس کو لندن پلان کا نام دیا گیا۔

اسی سال 10 فروری کو سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد میں واقع عراقی سفارتخانے سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ بلوچ مزاحمت کاروں کے لیے بھیجا گیا تھا۔

اس کو بنیاد بنا کر بلوچستان میں 30 دنوں کے لیے صدارتی نظام نافذ کیا گیا اور نواب اکبر بگٹی کو گورنر لگایا گیا لیکن وہ بھی زیادہ عرصہ نہیں چلے اور مستعفی ہو گئے۔ اس کے بعد احمد یار خان کو گورنر لگایا گیا۔

ایک اور مسلح جدوجہد کا آغاز
بلوچستان کی پہلی اسمبلی اور حکومت کو اس کے قیام کے 10 ماہ میں برطرف کر دیا گیا اور غوث بخش بزنجو، عطااللہ مینگل اور نواب خیربخش مری سمیت نیپ کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر کے ان پر حکومت کے خلاف سازش کا مقدمہ چلایا گیا۔ اس کو حیدرآباد سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

حکومت کی برطرفی کے چھ ہفتوں کے بعد حکومتی فورسز اور قافلوں پر حملے شروع ہوگئے۔ 18 مئی 1973 کو ایک اہم حملہ ہوا جب تندوری کے مقام پر دیر سکاؤٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

عسکریت پسندوں کی خاص طور پر موجودگی ساراواں، جھالاواں اور مری بگٹی ایریا میں تھی۔ جولائی 1974 تک عسکریت پسند کئی سڑکوں کا کنٹرول حاصل کر چکے تھے اور ملک کے دوسرے علاقوں سے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔ ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی۔

ہ قلات اور خضدار سے لے کر لسبیلہ تک وسطی بلوچستان میں مینگل حاوی تھے۔

منظر نامے میں اس وقت تبدیلی آئی جب پاکستان ایئر فورس نے تین ستمبر 1974 کو چمالنگ پر حملہ کیا جس میں 125 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے اور 900 کے قریب کو گرفتار کر لیا گیا۔

بیٹے کی جبری گمشدگی
سردار عطااللہ مینگل سیاسی سفر میں ذاتی صدمہ دیکھنے والے پہلے سیاست دان تھے۔ وہ جب کراچی میں اسیر تھے کہ ان کے بیٹے اسد مینگل کی گمشدگی کا واقعہ پیش آیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ‘افواہیں اور حقیقت’ میں لکھتے ہیں کہ انھیں سندھ کے وزیر اعلیٰ غلام مصطفیٰ جتوئی نے ٹیلی فون پر بتایا کہ شہر میں کوئی غیر معمولی واقعہ ہوا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کو صوبائی انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا تھا کہ سردار عطااللہ مینگل کے صاحبزادے کو بلخ شیر مزاری کے گھر سے اغوا کیا گیا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اغوا کرنے والے کون لوگ تھے۔

ایک عینی شاہد نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ اسد مینگل اپنے دوست احمد شاہ کرد کے ساتھ وقوعہ کی رات کو بلخ شیر مزاری کے گھر آئے تھے بلخ شیر مزاری گھر میں نہیں تھے۔

کہا جاتا ہے کہ کسی نے گھر کا دروازہ کھولا اور اسداللہ اور ان کے دوست اندر گئے اور بیٹھ گئے۔ کچھ ہی دیر بعد دونوں باہر نکلے اور اپنی کار میں سوار ہو گئے۔ جوں ہی گھر کا دروازہ بند ہوا تو گولیاں چلنے کی آواز آئی۔

برسوں گزر گئے، اسد مینگل کی نہ لاش ملی اور نہ ہی کہیں سے زندہ ہونے کا کوئی سراغ مل سکا۔ ان کا شمار بلوچستان سے جبری گمشدہ پہلے کارکنان میں ہوتا ہے۔

جنرل ضیاالحق کا دور اور رہائی
جنرل ضیاالحق نے ذوالقفار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ انھوں نے بلوچ رہنماؤں کی طرف نرم رویہ رکھا، شہزادہ ذوالفقار کے مطابق جنرل ضیاالحق نے بلوچوں سے میٹنگ کی۔

انھوں نے بتایا کہ ان سے ظلم زیادتی ہوئی ہے جس کے بعد گرفتار لوگ رہا ہوئے اور سیاسی درجہ حرارت معمول پر آ گیا۔

‘میر غوث بخش بزنجو نے کہا کہ بلوچ وفاق میں ہی رہیں تو بہتر ہے۔ مینگل اور مری خاموش رہے۔ عطااللہ مینگل لندن اور خیربخش مری افغانستان چلے گئے۔ انھوں نے ایک دوسری راہ اختیار کی اور اپنے لوگوں کو افغانستان بلا لیا۔ لندن میں عطااللہ مینگل نے سندھی اور بلوچ قوم پرستوں پر مشتمل ‘ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن قائم کی۔ بزنجو پاکستان میں رہے اور بی این پی کا قیام عمل میں لائے۔’

سردار عطااللہ مینگل 1996 میں وطن واپس آگئے۔ اُنھوں نے بی این پی کی تشکیل کی۔ سنہ 1997 کے انتخابات میں اکثریتی پارٹی بنی ان کے بیٹے اختر مینگل وزیرِ اعلیٰ بنے اور وہ خود عملی سیاست سے ریٹائر ہوگئے۔

نواب خیربخش مری کے قریب
سردار عطااللہ مینگل کو سیاست میں لانے والے میر غوث بخش بزنجو تھے لیکن وہ نواب خیربخش مری کے قریب رہے اور دونوں ایک دوسرے کے فیصلوں پر اثر انداز بھی ہوتے تھے۔ بعد میں اس دوستی نے رشتے داری کی بھی شکل اختیار کی۔ ان کے بیٹے جاوید مینگل نواب خیربخش مری کے داماد بنے۔

سردار عطااللہ نے سیاست میں کئی نشیب و فراز دیکھے۔ میر غوث بخش بزنجو پاکستان کے انتظامی ڈھانچے میں پارلیمانی جمہوریت سیاست میں یقین رکھتے جبکہ سردار عطااللہ اقتدار میں آنے کے بعد آزادی کی بات کرتے جبکہ خیر بحش مری یہ بات کافی عرصے سے کر رہے تھے تو پھر نظریاتی طور پر ان کے قریب ہوگئے۔

ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے پہلے صدر ہیں۔ نیشنل عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر اُنھوں نے 1970 کے انتخابات میں ریاست قلات کے شہزادے کو شکست دی۔

ان کا کہنا ہے کہ سردار عطااللہ جب سیاست میں آئے تو قبائلی سردار ہونے کے باوجود اُنھوں نے نیم قبائلی اور نیم سرداری جاگیردارانہ نظام کے خلاف بھرپور جدوجہد کی اور ایک مثبت سوچ وطن دوست اور قوم پرست کے حوالے سے بھرپور کردار ادا کیا۔

’یہ بڑی بات ہے کہ ایک بڑے طبقے یا مراعات یافتہ طبقے میں ہونے کے باوجود اُنھوں نے اپنے طبقے کے خلاف طویل جدوجہد کی ہے۔ اس حکومت کے قیام سے بلوچ عوام میں یہ احساس پیدا ہوا کہ یہ ہماری حکومت ہے۔ یہ سب سے بڑا کام ہوا، اُنھوں نے یہ یقین اور حوصلہ دیا کہ ہم آپ کے لوگ ہیں، آپ کی وجہ سے ہیں۔‘

جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاکستان بھر کے قوم پرست جماعتوں نے پونم نامی قومی اتحاد تشکیل دیا تو سردار عطااللہ کچھ عرصے دوبارہ سیاست میں آئے اور اس اتحاد کے سربراہ بھی بنے۔

نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور بعد میں بلوچستان میں فوجی آپریشنز اور اختر مینگل کی گرفتاری سے ان کے مزاج میں تلخی آتی گئی اور ان کا مؤقف میڈیا سے لاپتہ ہوتا گیا اور زندگی کے آخری دنوں میں اُنھوں نے میڈیا سے قطع تعلق کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں