34

ط ال ب ان کے اقتدار میں آنے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

ط ال ب ان کے اقتدار میں آنے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

(ڈیلی طالِب)
کچھ مغربی ممالک کو یہ امید ہے کہ افغانستان میں ط ال ب ان حکومت پر اثر و رسوخ استعمال کیا جا سکے گا۔ ان ممالک کو یہ امید بھی ہے کہ پاکستان اس حوالے سے ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان کا افغانستان کے ساتھ منفرد نوعیت کے تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ 2570 کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اہم کاروباری شراکت داری بھی ہیں۔ ان میں کئی ثقافتی، لسانی اور مذہبی روابط پائے جاتے ہیں۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایک بار دونوں ممالک کے بارے میں کہا تھا کہ یہ دو ایسے بھائیوں کی طرح ہیں جنھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مگر کچھ ممالک جو اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات پر بحال کرنے کے منتظر ہیں ان میں اس حوالے سے منقسم رائے پائی جاتی ہے۔

کچھ کے نزدیک پاکستان ’جہادی دہشتگردی‘ کے خلاف جنگ میں کوئی مضبوط اتحادی ثابت نہیں ہوا ہے۔ امریکہ سمیت کچھ دیگر ممالک طویل عرصے سے پاکستان پر یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ یہ ملک ط ال ب ان کی مدد کرتا ہے۔ تاہم پاکستان اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔

ابھی مغربی ممالک یہ چاہتے ہیں کہ ط ال ب ان ان کے شہریوں کا افغانستان سے محفوط انخلا یقینی بنائے، انسانی بنیاد پر دی جانے والی امداد کے رستے کھول دے اور بہتر انداز میں نظام حکومت چلائے۔

پاکستان کے افغانستان اور ط ال ب ان سے تعلقات کیسے ہیں؟
پاکستان کے ناقدین یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ افغانستان اور ط ال ب ان کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رہا ہے۔

امریکہ میں 9/11 کے حملوں کے بعد ۔۔(مبینہ طور پر) ان حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی۔۔۔ پاکستان نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بن گیا۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ملٹری اور انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر نے افغانستان میں ط ال ب ان جیسے اسلامی گروہوں سے تعلقات قائم کیے رکھے۔ یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ روابط بعد میں دیگر امور طے کرنے میں بہت کام آئے۔

پالیسی سازوں کے مطابق پاکستان کے افغانستان سے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔ وہ کابل میں ایسی حکومت کا خواہاں نہیں ہے کہ جو انڈیا نواز ہو۔ پاکستان نے ط ال ب ان کی کب اور کتنی حمایت کی ہے یہ ایک متنازع بات ہے۔ مگر جب 20 برس قبل ط ال ب ان اقتدار میں تھے تو پاکستان ان چند ممالک میں شامل تھا جنھوں نے ط ا ل ب ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھام جب گذشتہ ہفتے ط ا ل ب ان نے کابل کا انتظام سنبھالا تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ افغانستان میں عوام نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔

پاکستان کس بات کے لیے پریشان ہے؟
تاریخی طور پر پاکستان کی ط ال ب ان کی حمایت کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ط ال ب ان کے کابل پر اقتدار سے مکمل طور پر خوش ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان سے اسلامی گروہوں کی طرف سے حملوں کا نشانہ بنتا آ رہا ہے۔ پاکستان کا مفاد اب اس بات سے جڑا ہے کہ وہ کابل میں نئی ط ا ل ب ان حکومت سے کہہ کر القاعدہ اور نام نہاد دولت اسلامیہ خراساں جیسے گروہوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا بھی مفاد اس میں ہے کہ ط ا ل ب ان سخت کارروئی کریں اور افغانستان میں اپنی عملداری کو یقینی بنائیں۔

پاکستان کا دوسرا بڑا تحفظ پناہ گزینوں کے بحران سے متعلق ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی کی جنگوں کے تقریباً تین ملین تک افغان پناہ گزین ہیں اور اب اپنی دگرگوں معیشت کے ساتھ پاکستان مزید پناہ گزینوں کی میزبانی کی سکت نہیں رکھتا ہے۔

پاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمشنر معظم احمد خان نے بتایا ہے کہ ہم مزید پناہ گزینوں کی میزبانی کی سکت نہیں رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے ہم یہ تجویز اور درخواست بھی کرتے ہیں کہ ہمیں بیٹھ کر اس طرح کی صورتحال سے بچنے کا رستہ تلاش کرنا چائیے۔

تاہم امریکہ کی پاکستان کے خلاف پائی جانے والی رائے دیگر مغربی ممالک پر زیادہ اثر انداز نہیں ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد کا دورہ کیا اور اٹلی کے وزیر خارجہ بھی جلد پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ سفارتکاروں کا خیال یا انھیں یہ امید ہے کہ پاکستان کا اب بھی ط ال ب ا ن پر اثر و رسوخ ہیں۔ انھیں یہ ڈر ہے کہ پاکستان سے تعلقات ختم کرنے کا مطلب یہاں چین کی مزید مقبولیت میں اضافہ کرنے جیسا ہے۔ سوال یہی ہے کہ کیا واقعی پاکستان ط ال ب ان پر اثر رکھتا ہے؟ ملا عبدالغنی بردار جس کے بارے میں نئی ط ا ل بان حکومت کے سربراہ کے طور پر عندیہ دیا جاتا ہے ماضی میں پاکستان کی قید میں وقت گزار چکے ہیں۔ ابھی اس فیصلہ ہونا ہے کہ اس کے اپنے سابقہ جیلر (پاکستان)کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں