38

باچا خان: غداری کے فتوے، 39 سال قید اور جلا وطنی.

باچا خان: غداری کے فتوے، 39 سال قید اور جلا وطنی.

(ڈیلی طالِب)
آج سے ٹھیک 73 برس قبل یعنی 15 جون 1948 کو جھلسا دینے والی گرمی تھی۔ شمال مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبرپختونخوا) کے جنوبی اضلاع (بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان وغیرہ) میں زیادہ تر کسان گندم اور چنے کی فصلوں کی کٹائی مکمل کر چکے تھے۔

اب اُن کی نظریں اُس راستے پر ٹکی تھیں جہاں سے خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان کو، جنھیں باچا خان کے نام سے جانا جاتا ہے، اُن کے علاقے میں داخل ہونا تھا۔

باچا خان کا معمول یہ تھا کہ ہر سال جون اور جولائی کے مہینوں میں صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع کا دورہ کرتے تھے اور خدائی خدمت گار تحریک کے کارکنوں سے ملتے اور اپنا سیاسی پیغام اُن تک پہنچاتے اور ہر سال کی طرح اُس سال بھی کارکن باچا خان کے منتظر تھے۔

مگر اپنے قائد سے ملنے کے منتظر اِن کارکنوں کی امیدوں پر اس وقت اوس پڑی جب ان تک یہ خبر پہنچی کے باچا خان کو اُن کے ساتھیوں سمیت کوہاٹ کے احمدی بانڈہ میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

کارکنوں کو یہ بھی بتایا گیا کہ گرفتاری کے اگلے ہی روز انھیں نیک چلن کا سرٹیفیکیٹ نہ دینے پر تین سال کی قید بھی سُنا دی گئی ہے اور صوبہ بدر کر کے پنجاب کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین بتاتے ہیں کہ باچا خان کو کوہاٹ میں گرفتار کیا گیا تو اُن پر کوئی جرم ثابت نہیں ہو پا رہا تھا جبکہ سرکار نے جن الزامات کے تحت ان کی گرفتاری ظاہر کی تھی اس کا کوئی ٹھوس ثبوت بھی نہیں تھا۔

چونکہ قانون کی رو سے عدالت ملزم کو سرکاری بیان کی بنیاد پر سزا نہیں دے سکتی تھی اس لیے اُس وقت کی حکومت نے قبائلی علاقوں میں اس وقت نافذ قانون ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز‘ یعنی ایف سی آر کا سہارا لیا اور گرفتاری کے اگلے ہی دن انھیں سرسری سماعت کے بعد تین سال قید کی سزا سُنائی گئی۔

’اس قید کے بارے میں، میں نے خود ولی خان سے سُنا تھا کہ یہ سزا پانچ سال، پانچ مہینے اور پانچ دن تھی اور یہی نہیں سزا مکمل ہونے کے بعد بھی باچا خان کو مزید کچھ وقت کے لیے راولپنڈی ریسٹ ہاؤس میں نظر بند کر دیا گیا۔‘

یہ ایک ایسی حرکت تھی جس میں گرفتار پہلے کیا گیا اور مبینہ جرم بعد میں گھڑا گیا، ایسی بہت سی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تھیں جو باچا خان نے سہیں مگر اپنے عدم تشدد کے فلسفے کو ایک لمحے کے لیے بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور نہ ہی اپنے پیروکاروں کو اِس کی اجازت دی۔

خدائی خدمتگار تحریک پر پابندی کا آرڈینینس
بات 15 جون کو ہونے والی باچا خان کی گرفتاری یا انھیں سزا دینے پر نہ رُکی۔ ولی خان اپنی کتاب ’خدائی خدمت گار تحریک‘ میں لکھتے ہیں کہ اگلے ہی ماہ چار جولائی کو حکومت نے ایک آرڈینینس کے ذریعے خدائی خدمت گار تحریک کو غیر قانونی قرار دیا اور ’پختون‘ کے نام سے شائع ہونے والے رسالے کے اجرا پر پابندی عائد کر دی گئی۔

وہ لکھتے ہیں کہ خدائی خدمت گار تحریک کے رہنماؤں اور اُن لوگوں کو ’پاکستان، اسلام اور قوم کا غدار‘ قرار دیا گیا جو سیاسی فرنٹ پر حکومت کی مخالفت کر رہے تھے جبکہ ان اقدامات کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے جو آرڈیننس جاری کیا گیا اس میں اس بات پر بھی پابندی عائد کی گئی کہ ایسے سنگین جرائم کے تحت گرفتار یا نظربند ہونے والے افراد کسی عدالت کو اپنی صفائی یا وضاحت پیش نہیں کر سکتے تھے جبکہ ایسے افراد کی منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کا حق حکومت کو حاصل تھا۔

بابڑہ کا خونی واقعہ
باچا خان کی گرفتاری اور خدائی خدمت گار تحریک کے کارکنوں اور رہنماؤں کی نظربندیوں کا شدید ردعمل ہوا۔

باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے ان کارروائیوں کے خلاف بابڑہ نامی علاقے میں احتجاجی جلسے کے انعقاد کا اعلان کیا مگر انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

ڈاکٹر خان صاحب کی گرفتاری کے باوجود وقت مقررہ پر یعنی 12 اگست 1948 کو ہزاروں افراد بابڑہ میں اکٹھے ہوئے۔ اس وقت کی حکومت کے مطابق اس ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں نے کارروائی کی اور فائرنگ کے نتیجے میں دو درجن کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے جبکہ خدائی خدمت گاروں کے دعوے کے مطابق اس روز ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چھ سو کے قریب تھی۔

اس بڑے واقعے کے بعد صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ خان عبدالقیوم خان نے چوک یادگار پشاور میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’بابڑہ میں خدائی خدمت گاروں کو وہ سبق دیا جسے وہ زندگی بھر یاد رکھیں گے۔‘

’میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تو تب ان پر فائرنگ کی گئی۔ وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا ورنہ وہاں سے ایک بھی آدمی زندہ بچ کر نہ جاتا۔ یہ انگریزوں کی نہیں مسلم لیگ کی حکومت ہے اور اس حکومت کا نام قیوم خان ہے۔ خدائی خدمت گار ملک کے غدار ہیں۔ میں ان کا نام و نشان مٹا دوں گا۔‘

خدائی خدمتگار عبدالغفار کی خودکشی
اس تمام تر صورتحال کے باوجود باچا خان نے عدم تشدد کا علم بلند کیے رکھا۔

ولی خان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ خدائی خدمت گاروں کو دُوہری مشکلات کا سامنا تھا، وہ پختون تھے، بدلہ لینا اُن کی سرشت میں شامل تھا اور صوبہ سرحد میں اسلحہ ملنا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔

وہ لکھتے ہیں کہ بس مسئلہ ایک ہی تھا کہ اگر وہ تشدد کی راہ پر گامزن ہوتے تو اپنے رہبر باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹھہرتے مگر دوسری جانب اپنی بے توقیری بھی انھیں اشتعال دلا رہی تھی۔

ایسے ہی خدائی خدمت گاروں میں کوہاٹ کی تحصیل کرک کے عبدالغفار تھے۔ اُن کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ انھیں برہنہ کر کے دیگر کارکنوں کے ہمراہ بازاروں میں گھمایا گیا تھا تاکہ وہ دوبارہ خدائی خدمت گار تحریک کا نام نہ لیں۔

ولی خان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب وہ جیل سے رہا ہو کر واپس آئے تو کرک کے عبدالغفار کا وہ خط اُن کا منتظر تھا جو انھوں نے اپنی خودکشی سے قبل باچا خان کے نام بطور معافی نامہ ارسال کیا تھا۔

عبدالغفار نے لکھا کہ ’آپ کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ عدم تشدد پر کاربند رہوں گا اور جو کچھ بھی ہو یہ فلسفہ نہیں چھوڑوں گا۔ اس دوران میں نے کوڑے کھائے، جائیداد ضبط ہوئی لیکن قیوم خان کے پارٹی کارکن پولیس کے ساتھ ہمارے گھروں میں آتے ہیں اور ہماری ہتک کرتے ہیں۔‘

’میرا بھی جی چاہتا تھا کہ قیوم خان سمیت سب کو قتل کروں لیکن آپ کا فلسفہ عدم تشدد میرے آڑے آتا ہے۔ اس لیے اللہ سے خودکشی کے حرام ہونے پر اور آپ سے اپنی برداشت ختم ہونے پر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں کیونکہ اب یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔‘

یہ خط تحریر کرنے کے بعد خدائی خدمت گار عبدالغفار نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔

غداری کے فتوے، 39 سال قید اورجلاوطنی
اگر یہ کہا جائے کہ تقسیم برصغیر سے قبل اور پاکستان بننے کے بعد اس خطے میں جن رہنماؤں پر سب سے زیادہ غداری کے فتوے لگے، جلاوطن ہوئے اور لمبے لمبے عرصے تک جیلیں کاٹیں، اُن میں باچا خان کا نام سرفہرست ہے تو شاید ایسا بے جا نہ ہو۔

تاریخ چارسدہ سمیت کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر سہیل خان، باچا خان کی طویل قید کے حوالے سے اپنے مقالے میں لکھتے ہیں کہ باچا خان کو پہلی بار اپریل 1919 میں انگریز نے ’ریوولٹ ایکٹ‘ کے خلاف احتجاج پر گرفتار کیا، دسمبر 1919 میں دوسری مرتبہ انھیں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنی دوسری شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

وہ لکھتے ہیں کہ تیسری بار انھیں دسمبر 1921 میں اتمانزئی کے آزاد سکول میں بچوں کے لیے فٹبال گراونڈ بناتے ہوئے گرفتار کیا گیا، چوتھی بار انھیں نحقی کے مقام پر اپریل 1930 میں جلسے کے لیے پشاور جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا، پانچویں بار انھیں دسمبر 1931 میں گرفتار کیا گیا۔ ساتویں مرتبہ وہ اُس وقت گرفتار ہوئے جب کانگریس کی ورکنگ کمیٹی نے ’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘ کا اعلان کیا۔

ڈاکٹر سہیل کی تحقیق کے مطابق ان سات گرفتاریوں کا دورانیہ چودہ سال، چھ ماہ اور نو دن بنتا ہے جو پاکستان بننے سے پہلے کا ہے اور گرفتاریوں کا یہ سلسلہ پاکستان بننے کے بعد بھی دھرایا گیا اور وہ 12 مختلف مواقعوں پر گرفتار ہوئے اور کُل ملا کر گرفتاریوں کا یہ دورانیہ 39 برس بنتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد وہ پہلی بار 15 جون 1948 کو گرفتار ہوئے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ انھوں نے حریت کا سبق باچا خان سے سیکھا تھا۔

عدم تشدد کا فلسفہ
ڈاکٹر سہیل خان اپنی تحقیق کی بنیاد پر دعویٰ کرتے ہیں کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں کہ باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ گاندھی جی سے لیا کیونکہ جب باچا خان 1919 میں یہ فلسفہ پیش کر رہے تھے تو گاندھی جنوبی افریقہ میں تھے۔

ولی خان نے اپنی کتاب میں لکھا کہ گاندھی نے سنہ 1938 میں بابڑہ میں اپنی پہلی تقریر کی تو اس وقت وہاں پر 60، 70 ہزار لوگ موجود تھے اور اس جگہ تقریر کرتے ہوئے گاندھی نے کہا تھا کہ ہندوستان میں عدم تشدد کا فلسفہ چلانا کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ وہاں کے لوگ ویسے بھی تشدد سے گھبراتے تھے لیکن وہ یہ معجزہ دیکھنے چارسدہ آئے ہیں تاکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ باچا خان نے اس قوم یعنی پختون کو کیسے عدم تشدد پر تیار کیا، جو اسلحے سے بھی لیس تھے، جذباتی بھی تھے اور اُن کو روکا جانا بھی آسان نہیں تھا۔

سنہ 1988 میں وفات پانے والے باچا خان کو اُن کی وصیت کے مطابق افغانستان کے شہر جلال آباد میں دفنایا گیا، ایک ایسے وقت میں جب جلال آباد میں جنگ جاری تھی دونوں فریقین نے باچا خان کی تدفین کے لیے باضابطہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا تاکہ تدفین کا عمل مکمل ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں