43

افغانستان میں طالبان: ٹیکسی ڈرائیور کو حکم ملا کہ ’خاتون کو گھر لے جاؤ اور پھر اس کے شوہر کے ساتھ واپس لاؤ‘

افغانستان میں طالبان: ٹیکسی ڈرائیور کو حکم ملا کہ ’خاتون کو گھر لے جاؤ اور پھر اس کے شوہر کے ساتھ واپس لاؤ‘.

(ڈیلی طالِب)
’تم محرم کے بغیر سفر کیوں کر رہی ہو؟‘ ط ال ب ان گارڈ نے اکیلی سفر کرتی ہوئی ایک نوجوان عورت سے پوچھا۔

وہ پیلے رنگ کی پرانی ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ ٹیکسی باقی سب گاڑیوں کی طرح، ط ال ب ان کے ایک ناکے پر آ کر رکی تھی۔

آخر کابل میں کس بات کی اجازت ہے اور کس بات کی نہیں؟
ط ال ب ان گارڈ نے اپنی بندوق کندھے پر رکھتے ہوئے خاتون سے اپنے شوہر کو بلانے کا حکم دیا۔ جب اس خاتون نے کہا کہ اس کے پاس فون نہیں ہے تو اس گارڈ نے ایک اور ٹیکسی ڈرائیور کو کہا کہ اس کو گھر لے کر جاؤ اور پھر اس کے شوہر کے ساتھ اسے واپس لاؤ۔ یہ مسئلہ ط ال ب ان گارڈ کی مرضی کے مطابق حل ہو گیا۔

کابل میں اب بھی ٹریفک جام ہوتے ہیں۔ ریڑھیوں پر انگور، آلو بخارے نظر آتے ہیں۔ اور پھٹے ہوئے کپڑے پہنے بچے اس رش میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک دوڑ رہے ہیں۔

بظاہر لگتا ہے کہ اس شہر میں سب کچھ پہلے جیسا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔

یہ دارالحکومت اب ط ال ب ان کے بیانات پر اور سڑکوں پر سب کچھ ط ال ب ان کے مطابق چلتا ہے۔

امریکی افواج کے انخلا کے پہلے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران ط ال ب ان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مسلح جنگجوؤں کے ساتھ کھڑے ہو کر کہا تھا ’لوگوں سے رابطوں میں احتیاط کریں۔ اس قوم نے بہت دکھ دیکھے ہیں۔ نرمی اپنائیں۔‘

مگر کچھ باتیں کہنی نہیں پڑتیں۔

گذشتہ ماہ ط ال ب ان کے کابل میں دوسرے دورِ اقتدار کے شروع ہوتے ہی مردوں نے داڑھیاں بڑھانا شروع کر دی تھیں۔ عورتوں نے رنگ برنگے سکارف سیاہ رنگ کے سکارف سے بدل دیے تھے اور ان کے کپڑوں کے ڈیزائن اور ناپ بھی بدل گئے تھے۔

’خواب جو ٹوٹ گئے‘
’مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘ دنیا بھر سے ہر گھنٹے مجھے افغانوں کی طرف سے یہ سوال، فون اور ای میل پر پوچھا جا رہا ہے۔

جب کابل پر ط ال ب ان کا قبضہ ہوا تو مریم راجائی کو معلوم تھا کہ انھیں کیا کرنا ہے۔

15 اگست کو جب ط ا ل ب ان جنگجؤ کابل میں داخل ہوئے تو وہ اٹارنی جنرل کے دفتر میں ایک ورکشاپ کروا رہی تھیں۔

’ہمیں اپنا کام جاری رکھنا چاہیے!‘ طلبہ نے ان کی طرف سے خطرے کی نشاندہی کرنے پر جواب دیا۔

تاہم ان کی کلاس کے شرکا نے جلد ہی حقیقت کو تسلیم کر لیا۔ اس دن سے راجائی اپنے اہل خانہ اور دو بچوں کے ساتھ ایک گھر سے دوسرے میں چھپتی پھر رہی ہیں۔

ان کی تین سالہ بیٹی ابھی سے کہتی ہے کہ وہ انجینیئر بنے گی۔

کسی کو نہیں معلوم کہ ط ال ب ان جب عورتوں اور لڑکیوں کو ’اسلام کے مطابق حقوق‘ دینے کی بات کرتے ہیں تو ان کا کیا مطلب ہے۔

مریم راجائی سمیت بہت سی خواتین کو واضح طور پر کہہ دیا گیا تھا کہ وہ ’دفتر مت آئیں۔‘ ان میں سے بہت سی خواتین کو خدشہ ہے کہ انھیں اب اس شہر میں پہلے والی زندگی دوبارہ نہیں ملے گی۔

’تعلیم حاصل کرنا، اچھی نوکری تلاش کرنا، معاشرے میں اونچی سطح پر اپنا کردار ادا کرنا میرا حق ہے۔‘ راجائی اپنی یونیورسٹی کی ڈگری اور کتابوں کے ڈھیر کے پاس بیٹھ کر ہمیں کہتی ہیں ’میرے سارے خواب ٹوٹ گئے ہیں۔‘

کنٹریکٹر جو پیچھے رہ گئے
دو دہائیوں تک عالمی رابطوں نے لوگوں میں نئی سوچ، نئی شناخت کے لیے جگہ پیدا کی تھی۔ اب اس طرح جی گئی کچھ زندگیاں بوجھ بن رہی ہیں۔

تیرہ سال تک کابل میں برطانوی سفارتخانے کے شیف رہنے والے حمید کرسمس پارٹیوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’میری اچھی یادیں ہیں اپنی کرسمس پارٹیوں کی، کھانے بنانے کی، ہم سب بہت خوش تھے۔‘

حمید اور سفارتخانے کے تقریباً 60 ملازم ایک پرائیوٹ کنٹریکٹر کے ذریعے ملازم رکھے گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا کہ سفارتخانے کا تقریباً وہ تمام سٹاف جو براہ راست بھرتی کیا گیا تھا ط ال ب ان کی آمد سے پہلے کابل چھوڑنے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن کنٹریکٹ والے پیچھے رہ گئے۔

’ہم نے کووڈ کے لاک ڈاؤن کے دوران بھی بہت کام کیا تھا۔ اگر وہ ہمیں یہاں سے نہیں نکالتے تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی۔‘

برطانیہ دیگر مغربی ممالک کی طرح دیگر ممالک میں ان کی مدد کرنے کے متبادل طریقے تلاش کر رہا ہے لیکن بہت سے لوگوں کے لیے صورتحال بہت خطرناک اور مشکل ہے۔

ط ال ب ان کے ساتھ گپ شپ
کچھ لوگ جلدی میں شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور کچھ خوشی خوشی اس میں آئے ہیں۔

ط ال ب ان جنگجو مختلف صوبوں سے دارالحکومت میں آ رہے ہیں۔ جب ہم کابل ایئرپورٹ کی طرف بڑھ رہے تھے تو افغانستان کے اوروزگن صوبے سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے ہمیں بات چیت کی دعوت دی۔

25 سالہ رفیع اللہ اپنی خوشی چھپا نہیں پا رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں برسوں سے کابل نہیں آ سکا۔ جب ان سے ان کے ہم عمر ان افغانوں کے بارے میں پوچھا گیا جن کا خیال ہے کہ ان کا تو مستقبل ختم ہو گیا ہے تو انھوں نے کہا کہ ’ہم سب افغان ہیں اور یہ ملک اب خوشحالی اور امن کے اچھے راستے پر جا رہا ہے۔

کچھ محلوں میں طالبان جنگجو گھر گھر جا کر دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور پرانی سرکاری نوکری کے دوران ملنے والی گاڑی، فون اور دیگر قیمتی چیزوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کچھ واقعات میں ذاتی کاریں بھی یہ کہہ کر لے لی گئیں کہ کرپشن کے بغیر وہ یہ کیسے خرید سکتے تھے۔

مغربی کابل کے علاقوں میں جہاں ہزارہ بڑی تعداد میں رہتے ہیں، گھر گھر تلاشی اور مردوں کو پکڑ کر لے جانے جیسے واقعات کے بارے میں سرگوشیاں سننے کو ملیں۔

شہر میں نوکری کی تلاش کے لیے جانے والی ایک عورت نے کہا کہ ’میں بہت خوفزدہ ہوں۔ میں طالبان کو بتانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ میں اپنے خاندان کا واحد سہارا ہوں اور میرا کام کرنا بہت ضروری ہے۔

’کیا یہ حقیقت ہے؟‘
کابل کے بیچوں بیچ، بینکوں کے سامنے لگی لمبی قطاریں گلیوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ ان بینکوں کی اکثر برانچیں بند ہوتی ہیں، اکثر کے پاس کیش ہیں نہیں ہوتا۔

اس بھیڑ میں ایک شخص نے ہم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک ہفتہ گزر چکا ہے میں ہر روز یہاں سے پیسے نکلوانے آتا ہوں، یہ ایک نیا آغاز ہے مگر ہم مزید پیچھے چلے جائیں گے۔‘

شہروں سے کہیں دور دیہی علاقوں میں اکثر افراد شکر کر رہے ہیں کہ امریکی جنگی طیارے اب آسمان پر دکھائی نہیں دیتے اور لڑائی ختم ہو چکی ہے۔ لاکھوں افغان باشندوں کے لیے جو بھوک اور مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، بقا کی جنگ اب بھی جاری ہے۔

پرانے نظام کے خاتمے اور نئے نظام کے قائم ہونے کے بیچ کا وقت، بہت سے لوگ یہ دن ایک ایک کر کے گزار رہے ہیں۔

کابل ایئرپورٹ پر جب ہماری فری لانس افغان صحافی احمد منگلی سے بات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ’کیا یہ تاریخ ہے، کیا یہ سچ ہے جو میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔‘

ہم ایک ایسے ضلع میں لوگوں سے بات کر رہے ہیں جہاں گلیوں میں کچرا جمع ہے اور انخلا کے آخری طیاروں میں سوار ہونے کی دوڑ میں اکثر افراد کا سامان پھیلا ہوا ہے۔ منگلی نے پہلی مرتبہ کابل میں اس وقت کام کرنا شروع کیا تھا جب طالبان کا پہلا دورِ اقتدار 20 برس قبل ختم ہوا تھا۔

طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے اہلکاروں کے پاس اسلحہ ہے، اور ہر کوئی سمجھتا ہے وہی بادشاہ ہے۔

منگلی کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ میں کتنے عرصے تک یہ خطرہ مول لے سکتا ہوں، لیکن میں تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔‘

سب سے پہلے ایک ایسی تصویر پر کالا اور سفید رنگ کیا گیا جو دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد بنائی گئی تھی۔

ایک تاریخی لمحہ ہمارے سامنے ہے اور ایک تاریخی ماضی ختم ہونے کو ہے۔ ایسے بل بورڈز جن پر خوشی سے دمکتے چہروں والی دلہنیں سفید لباس اور سرخ لپ سٹک میں دکھائی دے رہی تھیں، ان کے چہروں پر کالک ملی جا رہی ہے۔ ایسے مجسمے جنھیں آرٹس لارڈز کی ٹیم نے تیار کیا تھا اور جو بہادر صحافیوں اور محنت کش ڈاکٹروں اور لمبے عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد امن کی تصویر بنے تھے، اب ان پر بھی رنگ کیا جا رہا ہے۔

شاعروں کے ملک کے باسیوں کو الفاظ تلاش کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

ایک پرانے دوست مسعود خلیل جنھوں نے متعدد محاذوں پر لڑائی میں حصہ لیا مجھے ایک شعر بھیجتے ہیں:

’کل رات قسمت لکھنے والے نے میرے کان میں سرگوشی کی، ہماری مقدر کی کتاب مسکراہٹوں اور آنسوؤں سے بھری پڑی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں