52

جہاں آرا کجّن: ایک بھولی بسری یاد.

جہاں آرا کجّن: ایک بھولی بسری یاد.

(ڈیلی طالِب)

ہندوستان میں تھیٹر کے بعد جب فلم سازی کا آغاز ہوا تو کئی ایسی اداکارائیں بھی بڑے پردے پر نظر آئیں جو خوش گُلو بھی تھیں اور اداکارہ بننے سے پہلے ہی مغنّیہ مشہور تھیں۔ ان میں سے بعض نے اپنے دور میں اداکارہ کے طور پر قابلِ رشک حد تک عروج دیکھا اور مقبولیت حاصل کی۔ جہاں آرا کجّن انہی میں سے ایک ہیں۔

کجّن نے 1915ء کو لکھنؤ میں آنکھ کھولی۔ ان کی والدہ بھی اپنے دور کی ایک مشہور مغنّیہ تھیں جن کے حسن و جمال کا بھی بڑا چرچا تھا۔ جہاں آرا کجّن بھی آواز کے ساتھ اپنی خوب صورتی اور انداز و ادا کے لیے مشہور ہوئیں۔

ہندوستان کے مقبول ترین فلمی رسالے شمع میں کجّن بائی کا تذکرہ کچھ یوں کیا گیا ہے۔

“آج تک ان سے زیادہ مقبول کوئی اداکارہ نہیں ہوئی۔ بمبئی کیا پورا ملک ان کا دیوانہ تھا۔ راجے، مہاراجے، نواب بھی دل ہاتھ میں لیے پھرتے تھے۔ کجّن نے 1930ء میں فلموں میں قدم رکھا۔ شیریں فرہاد، لیلیٰ مجنوں، شکنتلا، بلوا منگال، دل کی پیاس، آنکھ کا نشہ، جہاں آرا، رشیدہ، انوکھا پیار اور پرتھوی ولبھ ان کی مشہور فلمیں تھیں۔

ہندوستانی فلموں کی ریڑھ کی ہڈی تھیں جن کا دور خاموش فلموں سے شروع ہوا تھا اور بولتی فلموں سے عروج پر پہنچا۔ اپنی فلم “منورما” کی شوٹنگ کے دوران زخمی ہوئیں، ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ کجّن کی موت پر لاکھوں دل ٹوٹے، کئی ایک نے خودکشی کی۔ جہاں آرا کجّن کو کتوں سے نفرت تھی، وہ شیر پالتی تھیں۔ ساری عمر شادی نہیں کی مگر میڈن تھیٹر کلکتہ کے عمر رسیدہ مالک سیٹھ کرنانی کی منظورِ نظر رہیں۔ سیٹھ کرنانی نے ایک بڑآ مکان کجّن کو دیا ہوا تھا جہاں ان کا تعینات کردہ چوکیدار کجّن کے ہر ملنے والے پر نظر رکھتا تھا اور رات کو پوری رپورٹ کرنانی کو دی جاتی تھی مگر کرنانی کو کبھی کجّن سے اس سلسلے میں بات چیت کرنے کی ہمّت نہیں ہوئی۔ کجّن نے ایک ماہ وار رسالہ بھی جاری کرایا تھا۔”

1945ء میں ممبئی میں کجّن بائی وفات پاگئیں۔ انھوں نے کئی فلموں کے لیے گیت بھی اپنی آواز میں ریکارڈ کروائے تھے جن میں سے ایک مشہور فلم شریں فرہاد تھی جس نے ریکارڈ بزنس کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں