60

ٹیکس چوری: کیا حکومت نادرا کے ذریعے ٹیکس کلچر میں تبدیلی لا پائے گی؟

ٹیکس چوری: کیا حکومت نادرا کے ذریعے ٹیکس کلچر میں تبدیلی لا پائے گی؟

(ڈیلی طالِب)

پاکستان کی وفاقی حکومت ملک میں ٹیکس زیادہ جمع کرنے کے لیے ایک نئے اقدام کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے تحت شہریوں کی رجسٹریشن کے ادارے نادرا کو ٹیکس کے نظام تک رسائی دی جائے گی۔

نادرا اس ڈیٹا کی بنیاد پر ایک سٹیزن پورٹل بنا کر ملک میں ایسے افراد کی نشاندہی کرے گا جن کی آمدن اور اخراجات تو بے تحاشا ہیں تاہم وہ پاکستان میں ٹیکس ادا نہیں کرتے اور نان فائلر ہیں۔ اسی طرح ایسے افراد جو ملک کے ٹیکس کے نظام میں فائلر کے طور پر تو رجسٹرڈ ہیں تاہم ان کی جانب سے کم ٹیکس ادا کیا جاتا ہے جو ان کے اخراجات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

یہ نظام ملک میں ان کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔

اسی سلسلے میں پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے حال ہی میں حکومت کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے اراکین کو اعتماد میں لیا اور اس میں اگلے تین برسوں کے لیے حکومت کے معاشی روڈ میپ کو پیش کیا جس کے ذریعے حکومت ملک میں معاشی گروتھ کو بڑھانا چاہتی ہے۔

پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی کوشش کے لیے نادرا کے ساتھ نئے سسٹم کے بارے میں ٹیکس امور سے وابستہ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے کافی مدد فراہم کر سکتا ہے تاہم نادرا کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر ٹیکس ڈیمانڈ بنا سکے۔

ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کا استعمال ٹیکس اکٹھا کرنے میں ایک مفید ذریعہ ہے لیکن ملک میں ٹیکس کلچر کا فقدان بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کے لیے حکومت کو انتظامی طریقوں سے کام لے کر ٹیکس اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو گذشتہ مالی سال کے مقابلے موجودہ مالی سال میں 900 ارب روپے اضافی ٹیکس جمع کرنا ہے جس کے ذریعے ملک مین ترقیاتی و غیر ترقیاتی اخراجات کے علاوہ اندرونی و بیرونی قرضوں کی قسطیں کی ادائیگی بھی شامل ہیں۔

شوکت ترین کی جانب سے معیشت کو ترقی دینے کے لیے نئے اکنامک بلیو پرنٹ میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بڑھانے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔

نادرا کے ذریعے ٹیکس چوری کو کیسے روکا جائے گا؟

نادرا نان فائلرز، اور ایسے افراد جو فائلر ہیں تاہم کم ٹیکس جمع کرواتے ہیں، کو کیسے تلاش کرے گا اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے بتایا کہ ان کے دور میں اس منصوبے پر کام شروع کیا گیا اور اب اس پر عمل درآمد ہونے جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نادرا کے پاس کافی ساری معلومات ہوتی ہیں جن کے ذریعے یہ پتا چل سکتا ہے کہ کسی شخص کے کتنے اخراجات ہیں، جیسے کہ اس نے بینک اکاؤنٹ کھلوایا تو بائیو میٹرک کے ذریعے نادرا کے پاس اس کی معلومات ہوتی ہیں۔ اسی طرح ایک شخص بین لاقوامی سفر کررہا ہے تو پاسپورٹ کے ذریعے اس کی معلومات نادرا تک پہنچ جاتی ہیں۔

سابق ممبر ایف بی آر رحمت اللہ وزیر نے اس سلسلے میں بتایا کہ موبائل فون کا بل اور یوٹیلیٹی بل کا ڈیٹا بھی نادرا کے پاس ہوتا ہے تو اسی طرح اب پراپرٹی کا ڈیٹا بھی کسی حد تک اس کی رسائی میں ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ان تمام چیزوں کو لے کر نادرا ایک فرد کا پروفائل تیار کرے گا اور اس کی بنیاد پر دیکھے گا کہ وہ کتنے اخراجات کر رہا ہے اور وہ کتنا ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ اس میں فائلر اور نان فائلر دونوں شامل ہیں۔‘

خیال رہے کہ انکم ٹیکس کے ’فائلر‘ وہ افراد کہلاتے ہیں جو ایف بی آر کو سالانہ اپنی آمدن اور اخراجات کی تفصیلات فراہم کرتے ہیں۔

شبر زیدی نے کہا کہ اگرچہ نادرا کے پاس ہر چیز کا ڈیٹا تو نہیں تاہم بڑی حد تک اس کے پاس ایسی کافی چیزیں ہیں کہ جس کی بنیاد پر وہ ٹیکس نہ دینے اور کم ٹیکس دینے والوں کو ٹریک کر سکتا ہے۔

اسلام آباد میں مقیم معاشی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا نے اس سلسلے میں کہا کہ اس سسٹم کا آئیڈیا 2017 کا ہے کہ جس میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے استعمال کے ذریعے نادرا کی کافی ساری معلومات تک رسائی ہو جاتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ایسے افراد جو ٹیکس نہیں جمع کراتے، اس معلومات کے ذریعے ان کے اخراجات کا پتا چلایا جا سکے گا۔ یا ایسے افراد جو ٹیکس تو دیتے ہیں تاہم ان کا ٹیکس ان کی آمدن اور اخراجات سے مطابقت نہیں رکھتا، ان کا بھی پتا چلایا جاسکے گا۔

شہباز رانا نے کہا کہ نادرا اس سلسلے میں ایک سٹیزن پورٹل بنائے گا جس کے ذریعے ٹیکس نہ دینے والوں اور کم ٹیکس ادا کرنے والوں کی شناخت کی جائے گی۔

کیا نادرا کے ساتھ کیا جانے والا اشتراک موثر ہو گا؟
نادرا کو ایف بی آر کے سسٹم تک رسائی دینے اور اس کے ذریعے نان فائلر اور کم ٹیکس دینے والوں کی شناخت کر کے ٹیکس نیٹ بڑھانے کے نظام کی افادیت کے بارے میں شبر زیدی نے کہا یہ سسٹم موٹر ثابت ہو سکتا ہے۔

وہ اس کی وضاحت دیتے ہیں کہ ’کیونکہ نادرا کے پاس کافی ساری معلومات ہوتی ہیں جن کی بنیاد پر وہ پتا چلا سکتا ہے کہ ایک شخص کی آمدن اور اخراجات کتنے ہیں اور وہ کتنا ٹیکس ادا کر رہا ہے۔

’مثلاً اس نے اگر گاڑی خریدی ہے یا بین الاقوامی سفر کیا ہے تو یہ ساری معلومات نادرا کے پاس ہوتی ہیں جس کی بنیاد پر پتا چل سکتا ہے کہ یہ شخص ٹیکس ادا کر رہا ہے یا نہیں۔‘

رحمت اللہ وزیر نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے دنیا بھر میں ٹیکس چوری کو روکنے کی کامیاب مثالیں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، خاص کر انفارمیشن ٹیکنالوجی، کے استعمال سے امریکہ اور یورپ نے ٹیکس چوری کو نوے سے پچانوے فیصد تک روکا ہے۔

رحمت اللہ نے کہا کہ پاکستان میں بھی نئے نظام سے ٹیکس چوری کو روکا جا سکتا ہے تاہم اس کے ساتھ اس بات کی کوشش کی جائے کہ ’نادرا کے ساتھ ایف بی آر اپنے ذرائع کو بھی بروئے کار لائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ٹیکس نہ دینے کا رواج ہے اور ’ٹیکس اس وقت ادا کیا جاتا ہے جب اس کی ادائیگی سے فرار کا کوئی رستہ نہ بچے۔‘

تاہم ان دونوں کے برعکس شہباز رانا اس سسٹم کے موثر ہونے پر زیادہ قائل نظر نہیں آتے۔

انھوں نے کہا اگر نادرا ڈیٹا کے ذریعے یہ پتا چلا بھی لے کہ کسی شخص کی کتنی آمدن اور اخراجات ہیں تو پھر وہ ٹیکس ڈیمانڈ کیسے بنائے گا ’کیونکہ اس کا اختیار تو انکم ٹیکس قانون کے تحت ٹیکس کمشنرز کے پاس ہوتا ہے۔‘

یعنی ان کا مطلب ہے کہ نادرا چاہے جتنی مرضی معلومات ڈھونڈ نکالے، قوانین کے تحت آخر میں ٹیکس جمع کرنے کی ذمہ داری تو ٹیکس کمشنر کی ہی ہوگی۔

نادرا کے ساتھ اشتراک کا حکومت کے نئے معاشی منصوبے میں کیا کردار ہے؟

پاکستان کے وزیر خزانہ نے اکنامک ایڈوائزری کونسل کے اجلاس میں حکومت کے نئے معاشی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں اگلے تین برسوں 2021 سے 2024 تک معاشی شرح نمو کو چھ فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔

اس کے ساتھ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جس میں بیرونی قرضہ کم لینے سے لے کر پہلے سے موجود قرضوں کی واپسی شامل ہے۔

پاکستان کے ذمے اس وقت حکومتی قرضے کی مجموعی مالیت تقریباً 40 ارب ڈالر ہے۔

حکومت کی جانب سے اس معاشی گروتھ کے لیے 14 شعبوں کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ اس کے ذریعے ملک میں ملازمتوں کے مواقع بڑھائے جائیں اور غربت کا خاتمہ کیا جا سکے۔

یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب موجودہ حکومت کی مدت دو سال رہ گئی ہے اور اسے ان دو برسوں میں قلیل مدتی پالیسی پر عمل کر کے معاشی گروتھ کو بڑھانا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ انحصار ملکی وسائل کو پیدا کرنا ہے جس میں سب سے اہم زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کر کے بجٹ خسارے کو کم کرنا ہے۔ اور ایسے میں نادرا کے اشتراک سے ٹیکس چوری کو روکنا اسی منصوبے کا حصہ ہے۔

حکومت کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے رکن محمد علی ٹبہ نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ حکومت کا نیا معاشی روڈ میپ قابل عمل ہے جس میں قلیل، درمیانی اور طویل مدتی مسائل کو حل کر معیشت کو ترقی دینا ترجیح ہے۔

ٹبہ، جو کہ لکی سیمنٹ کمپنی کے سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ نادرا کے ساتھ نظام بھی اسی کوشش کا حصہ ہے کہ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے اور ملکی سطح پر وسائل پیدا ہوں تاکہ بیرونی قرضوں سے چھٹکارا پایا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ بیرونی قرضوں سے نجات ’صرف ملکی سطح پر زیادہ ٹیکس اکٹھا ہونے سے ممکن ہو سکتی ہے۔‘

ٹبہ کا کہنا ہے کہ اسی طرح اس روڈ میپ میں ایک درجن سے زیادہ شعبوں پر فوکس کیا گیا ہے تاکہ ایکسپورٹ کو بڑھایا جا سکے۔ انھوں نے توقع کا اظہار کیا کہ اس حکومت کی مدت کے اختتام تک برآمدات 35 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں اور اس وجہ سے ملکی وسائل کو مزید تقویت ملے گی۔

شہباز رانا نے حکومت کے معاشی روڈ میپ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ ’جامع نہیں ہے۔ بلکہ صرف حکومت کی ’وِش لسٹ‘ لگتی ہے۔ اس منصوبے میں صرف آئیڈیاز ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کیسے ہوگا، یہ اس سے عاری نظر آتا ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں