54

طالبان کی عبوری حکومت کے سربراہ ملا حسن اخوند کون ہیں؟

طالبان کی عبوری حکومت کے سربراہ ملا حسن اخوند کون ہیں؟

(ڈیلی طالِب)

طالبان کی عبوری حکومت کے سربراہ مقرر کیے جانے والے ملا حسن اخوند ویسے تو کم ہی منظر عام پر آئے ہیں تاہم وہ افغان طالبان تحریک کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں اور ماضی میں افغان طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے خاص مشیروں میں شامل رہے ہیں۔

افغان طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے تقریباً تین ہفتے بعد عبوری حکومت کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے تحت ملا محمد حسن اخوند کو عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

ملا حسن اخوند افغانستان کی نئی حکومت کی سربراہی کریں گے جبکہ طالبان کے مطابق اس کابینہ کے سرپرست اعلیٰ شیخ ہبت اللہ ہوں گے۔

طالبان کی عبوری حکومت کے سربراہ مقرر کیے جانے والے ملا حسن اخوند ویسے تو کم ہی منظر عام پر آئے ہیں تاہم وہ افغان طالبان تحریک کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں اور ماضی میں افغان طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے خاص مشیروں میں شامل رہے ہیں۔

وہ اس وقت افغان طالبان کے سب سے اہم ’رہبری شوری‘(لیڈر شپ کونسل) کے سربراہ بھی ہیں۔

رہبری شوریٰ طالبان کے بڑے اور اہم فیصلے کرتی ہے اور عام زبان میں یہ طالبان وزرا کی کابینہ ہے اور مختلف معاملات پر فیصلوں کا اختیار اسی شوریٰ کے پاس ہوتا ہے۔

ملا حسن اخوند افغانستان کے صوبہ قندہار کے پنجاوائی ضلع کے پاشمول گاؤں میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق پشتونوں کے بابر قبیلے سے ہے۔

وہ طالبان کے سابق دورِ حکومت میں وزرا کی کابینہ کے سربراہ بھی تھے اور اسی دور میں وزیر خارجہ، قندہار کے گورنر اور ملا عمر کے سیاسی مشیر بھی رہ چکے ہیں اور 2001 میں افغان طالبان کے حکومت کے خاتمے سے پہلے افغانستان کے قائم مقام صدر بھی منتخب ہوئے تھے۔

امریکی سرکاری ادارہ ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی پر موجود ایک رپورٹ کے مطابق ملا حسن اخوند نے دینی تعلیم پاکستان کے مدرسوں میں حاصل کی اور بعد میں طالبان حکومت میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔

رپورٹ کے مطابق ملا حسن اخوند نے سویت یونین کے خلاف جنگ میں حزب اسلامی کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا۔

امریکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملا حسن اخوند نے ہی 2001 میں افغانستان کے صوبہ بامیان میں بدھا کے تاریخی مجسمے کے توڑنے کا حکم بھی جاری کیا تھا جبکہ طالبان رینک میں وہ ایک سخت اور تنظیم کے ساتھ انتہا درجے کے مخلص رکن سمجھے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کی زد میں شامل شخصیات میں ملا حسن اخوند کا نام ہے۔

ملا حسن اخوند کے حوالے سے امریکہ کی نیور یارک یونیورسٹی کے ایک مقالے میں لکھا گیا ہے کہ ملا حسن اخوند جب صدر تھے تو وہ اخبارات کے تراشوں کو زمین پر گرنے اور ان کو کیک مکی ریپنگ میں استعمال کرنے کے سخت خلاف تھے۔

مقالے کے مطابق ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ملا حسن اخوند طالبان کے سابق سربراہ ملا عمر کے ساتھ اخبارات کی پرنٹنگ پر پابندی لگانے کے حوالے سے بات کرنے کو تیار تھے تاکہ ان اخبارات کے صفحات کی بے حرمتی نہ ہوں سکے۔

اسی مقالے میں لکھا گیا ہے کہ ملا حسن اخوند کہتے تھے: ’افغانستان کی زیادہ تر آبادی نا خواندہ ہے اور ’شریعت ریڈیو‘ ان کے لیے کافی ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اخبار کا ایک صفحہ نہیں پڑھا کیونکہ اخبار کو پڑھنے پر وقت ضائع کرنے کے بجائے میں قران پڑھتا ہوں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں