56

پنج شیر میں مارے جانے والے فہیم دشتی کون تھے؟

پنج شیر میں مارے جانے والے فہیم دشتی کون تھے؟

(ڈیلی طالِب)

فہیم دشتی ایک ادیب، صحافی ، سیاسی تجزیہ کار اور میڈیا کنسلٹنٹ تھے۔ وہ کچھ عرصے کے لیے افغان صحافیوں کی یونین کے صدر بھی رہے۔

ایک معروف افغان صحافی اور طالبان مخالف محاذ کے ترجمان فہیم دشتی کی ہلاکت کی خبر چار ستمبر کو جاری ہوئی۔ فہیم دشتی کابل میں طالبان کے دستوں کی آمد کے 22 دن بعد ’قومی مزاحمتی محاذ‘ (نیشنل رزسٹنس فرنٹ) کے رہنما احمد مسعود کے ساتھ پنج شیر چلے گئے تھے۔

اپنی زندگی کے آخری دنوں میں فہیم دشتی طالبان مخالف محاذ کے ترجمان تھے۔ وہ کئی برسوں سے یہ ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ اشرف غنی کے افغانستان سے فرار کے بعد فہیم دشتی اپنے آبائی شہر پنج شیر چلےگئے اور میڈیا کو وادی میں جنگ کی صورت حال سے آگاہ کرنے کی اپنی سرگرمیاں شروع کیں۔ وہ بالآخر احمد مسعود کے بھتیجے جنرل ودود کے ساتھ طالبان کے ہاتھوں مارے گئے۔ یہ کیسے ہوا ابھی تک واضح نہیں ہے تاہم متعدد میڈیا اداروں نے خبر دی کہ فہیم دشتی کو طالبان نے نہیں بلکہ پاکستانی جنگی طیاروں نے مبینہ طور پر نشانہ بنایا۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پیغام پوسٹ کیا جس میں مزاحمتی محاذ کے ترجمان فہیم دشتی کی موت کو ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا۔

اس پیغام میں مسٹر کرزئی نے فہیم دشتی کو ایک نوجوان اور باصلاحیت صحافی اور ادیب کہا اور ان کے خاندان اور دوستوں سے ان کی موت پر تعزیت کی اور ان اور ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے صبر کی دعا کی۔

فہیم دشتی ایک ادیب، صحافی ، سیاسی تجزیہ کار اور میڈیا کنسلٹنٹ تھے۔ وہ کچھ عرصے کے لیے افغان صحافیوں کی یونین کے صدر بھی رہے۔ ان کی عمر 48 سال تھی اور انہوں نے کابل کے استقلال ہائی سکول سے گریجویشن کیا۔ بعد میں وہ قانون اور سیاسیات کی تعلیم کے لیے کابل یونیورسٹی گئے۔

دو دہائیاں قبل نو ستمبر کو جب القاعدہ کے دو خودکش حملہ آوروں نے مزاحمت کے رہنما احمد شاہ مسعود کو ایک دھماکے میں ہلاک کیا تو ان کے قریبی ساتھی فہیم دشتی بھی زخمی ہوئے تھے۔ انہیں آنکھ پر بم کے ٹکڑے لگے تھے۔

صحافی
2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد فہیم دشتی نے کابل ویکلی کا انتظام سنبھالا۔ کابل ویکلی سب سے پہلے 1991 میں اس وقت متعدد صحافیوں نے شروع کیا تھا لیکن برہان الدین ربانی کی قیادت والی حکومت کے برسوں کے دوران یہ بند ہوگیا۔ فہیم دشتی نے اس ہفت روزے کو دوبارہ زندگی اور ترقی دی۔ یہ تین زبانوں فارسی، انگریزی اور پشتو میں گذشتہ 20 سال شائع ہوتا رہا۔

ان کی موت پر ایرانی شخصیات نے غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایک ایرانی مصنفہ ژیلا بنی یعقوب نے جو مسٹر دشتی کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں، ٹوئٹر پر ان کی موت کی خبر شائع ہونے کے بعد لکھا: ’میں ایک گھنٹے سے رو رہی ہوں اور میں فہیم دشتی کی موت کے بارے میں کچھ نہیں لکھ سکتی۔‘ انہوں نے نے پنج شیر میں دشتی سے اپنی ملاقات کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

انہوں نے گذشتہ 20 سال کبھی بھی کسی بھی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے اور ایک صحافی اور عسکریت پسند کی حیثیت سے زندگی بسر کی۔ فہیم دشتی کے تین بچے ۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ان کی بیوی اور بچے افغانستان میں ہی موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں