56

طالبان کے دور میں یونیورسٹیوں میں پردے کا انتظام.

طالبان کے دور میں یونیورسٹیوں میں پردے کا انتظام.

(ڈیلی طالِب)

افغان طالبان نے کہا ہے کہ نئی حکومت کے تحت خواتین کو نجی یونیورسٹیوں میں جانے کی اجازت ہوگی لیکن انہیں اپنے لباس اور نقل و حرکت کے دوران شرعی قوانین کی پابندی کرنی ہوگی۔

افغانستان کے تعلیمی سال کے پہلے دن دارالحکومت کابل میں یونیورسٹیاں تقریباً ویران رہیں کیونکہ اساتذہ اور طلبہ کمرہ جماعت کے لیے متعارف کرائے جانے والے طالبان کے نئے قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

طالبان نے 2001-1996 کے اپنے پچھلے دور اقتدار کے مقابلے میں نرم حکمرانی کا وعدہ کیا تھا، جب افغانستان میں خواتین کی آزادی میں کمی اور ان کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس بار سخت گیر اسلام پسند گروپ نے کہا ہے کہ نئی حکومت کے تحت خواتین کو نجی یونیورسٹیوں میں جانے کی اجازت ہوگی لیکن انہیں اپنے لباس اور نقل و حرکت کے دوران شرعی قوانین کی پابندی کرنی ہوگی۔

طالبان کا کہنا ہے کہ خواتین صرف اس وقت کلاس میں داخل ہوسکتی ہیں، جب وہ عبایا اور حجاب پہنیں گی اور وہ مردوں سے الگ رہیں گی۔

پیر(چھ اگست) کو تقریبا ویران نظر آنے والی کابل کی گھرجستان یونیورسٹی کے ڈائریکٹر نور علی رحمانی نے بتایا: ’ہمارے طلبہ نے اس کو تسلیم نہیں کیا ہے اور ہمیں یونیورسٹی بند کرنی پڑی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ہماری طالبات عبایا پہنتی ہیں لیکن حجاب نہیں

کلاسوں میں پردے کا انتظام

طالبان ایجوکیشن اتھارٹی نے اتوار کو ایک طویل دستاویز جاری کی ہے جس میں کمرہ جماعت کے لیے ان کے اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی حکم دیا گیا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو الگ الگ کیا جانا چاہیے اور اگر 15 یا اس سے کم طلبہ ہوں تو کم از کم درمیان میں ایک پردہ ضرور حائل کیا جائے۔

نور علی رحمانی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم نے کہا ہے کہ ہم اسے تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ کرنا مشکل کام ہے۔‘

دستاویز میں مزید کہا گیا کہ اب سے نجی کالجوں اور جامعات میں خواتین کو صرف خواتین یا ’بوڑھے مرد‘ ہی پڑھائیں گے اور طالبات داخلے کے لیے صرف خواتین کے داخلی دروازوں کا استعمال کریں گی۔

اسی طرح خواتین کی کلاسز مردوں کی کلاسز سے پانچ منٹ قبل ختم کی جائیں گی تاکہ انہیں باہر آپس میں میل جول بڑھانے سے روکا جاسکے۔

اب تک طالبان نے سرکاری جامعات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔

’خواتین پڑھ تو سکتی ہیں‘

چند طلبہ کے لیے یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ طالبان کے نئے دور حکومت میں خواتین اب بھی یونیورسٹی میں داخل ہو سکیں گی۔

افغانستان میں خواتین کے لیے سکالرشپ پروگرام چلانے والی زہرہ بہمن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ انہوں نے چند طلبہ سے بات کی ہے، جنہوں نے بتایا کہ ’وہ دوبارہ سے یونیورسٹی جانے میں خوش ہیں، چاہے حجاب میں ہی کیوں نہ ہوں۔‘

’طالبان کا خواتین کی جامعات کھولنے کا اقدام بہت اہم ہے تو انہیں اسی پر اور دیگر حقوق اور آزادیوں پر رضامند کرنے کے لیے بات چیت کی جانی چاہیے۔‘

کابل میں ابن سینا یونیورسٹی کے ترجمان جلیل تدجلیل کا کہنا ہے کہ مردوں اور خواتین کے لیے علیحدہ علیحدہ داخلی دروازے بنا دیے گئے ہیں۔

انہوں نے طلبہ کی تعداد میں کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں کہ ہم پر جو فیصلے صادر کر دیے گئے ہیں، انہیں تسلیم کریں یا مسترد۔‘

ابن سینا یونیورسٹی نے طلبہ و طالبات کو ایک پردے کے ذریعے علیحدہ کرنے کی تصویر بھی انٹرنیٹ پر جاری کی ہے۔

سب تبدیل ہو گیا ہے!
عام طور پر کیمپس کی راہداریاں ششماہی کے آغاز کے پہلے دن طلبہ سے بھری ہوتی ہیں جو آپس میں ایک دوسرے سے بات چیت کر رہے ہوتے ہیں۔

لیکن پیر کو کابل کی جامعات میں حیرت انگیز طور پر ویرانی دیکھنے کو ملی، جس نے تعلیمی رہنماؤں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کتنے با صلاحیت نوجوان ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں