43

صدر بائیڈن پاکستانی وزیراعظم سے رابطہ کریں گے.

صدر بائیڈن پاکستانی وزیراعظم سے رابطہ کریں گے.

(ڈیلی طالِب)
صدر بائیڈن اور عمران خان کے درمیان رابطے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔امریکی سینیٹر کرس وین کا بیان

امریکی ڈیمو کریٹ سینیٹر کرس وین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔افغان صورتحال کے تناظر میں صدر بائیڈن پاکستانی وزیراعظم سے رابطہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ ،قومی سلامتی کے مشیر اور بائیڈن انتظامیہ سے اس سلسلے میں با ت کی ہے۔
صدر بائیڈن اور عمران خان کے درمیان رابطے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔انہوں نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ ، وزیردفاع اور اعلیٰ حکام کا پاکستانی ہم منصب سے سے مکمل رابطہ ہے۔عالمی برادری کو طالبان پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔راستہ فراہم کریں، طالبان افغان حکومت میں ہر مکتبہ فکر اور گروپوں کو نمائندگی دیں۔طالبان یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا جنگ سے متاثرہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں ٹریڈ زون کے لیے سینیٹ میں بل پر کام کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ کامریکی دانشور نے امریکی صدر جوبائیڈن کو وزیراعظم عمران خان سے بات کرنے کا مشورہ دے دیا تھا۔امریکی دانشور نے صدر جوبائیڈن کو ان کی افغانستان پالیسی پر سخت تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں ری پبلکن رہنما شان پرنیل نے کہا کہ جوبائیڈن کو افغانستان سے متعلق امور پر خطے کے ممالک سے بات کرنی چاہئے تھی۔
انہوں نے کہا کہ سات ماہ کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن جوبائیڈن نے ابھی پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے بات ہی نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان سے متعلق پالیسی بہت مختلف تھی، وہ بھی امریکی افواج کا انخلا چاہتے تھے تاہم جس طرح جوبائیڈن نے وہاں سے فوج نکالی ہے وہ امریکہ کے لیے شرم کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوبائیڈن کی حکمت عملی ناقابل فہم ہے۔
ہماری افواج نے افغانستان میں اپنا خون بہایا ہے لیکن بائیڈن نے سیاسی فوائد کے لیے ان کی قربانیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔یہاں واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء اور ملک میں طالبان کے کنٹرول کے بعد کیے گئے سروے میں جوبائیڈن کی مقبولیت کم ترین سطح پر آگئی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی جانب سے کیے گئے سروے میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن کی مقبولیت میں 7 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ، کابل میں افراتفری پر ان کی پالیسیوں پر تنقید کے ساتھ ہی امریکی صدر کی مقبولیت کی درجہ بندی کم ترین سطح 46 فیصد پر آگئی کیوں کہ افغانستان کے تنازع کو سنبھالنے کی حکمت عملی کے حوالے سے جو بائیڈن کو سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے بھی بدتر سمجھا جارہا ہے اور کابل سے فوج واپس بلانے کی حکمت عملی پر امریکی صدر پر ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز دونوں کی طرف سے شدید تنقید کی جارہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں