52

افغانستان میں طالبان: نئی حکومت کے ڈپٹی وزیراعظم اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کہاں ہیں؟

افغانستان میں طالبان: نئی حکومت کے ڈپٹی وزیراعظم اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کہاں ہیں؟

(ڈیلی طالِب)
پیر کو دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کی جانب سے طالبان حکومت کے ڈپٹی وزیراعظم اور سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کی منظر نامے سے غیر حاضری کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے سلسلے میں ایک واٹس ایپ آڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے۔

اس آڈیو پیغام میں ملا عبدالغنی برادر نے کہا کہ ’کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں، میں انہی دنوں میں سفر میں تھا اور کہیں گیا ہوا تھا۔ الحمداللہ میں اور ہمارے تمام ساتھی ٹھیک ہیں۔ اکثر اوقات میڈیا ہمارے خلاف ایسے ہی شرمناک جھوٹ بولتا ہے۔‘

اس سے قبل 12 ستمبر کو ملا عبدالغنی برادر کے ایک ترجمان موسیٰ کلیم کی جانب سے ایک خط جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’جیسا کہ واٹس ایپ اور فیس بک پر یہ افواہ چل رہی ہے کہ ارگ میں طالبان کے درمیان بعض اختلافات کی وجہ سے فائرنگ ہوئی ہے اور ملا برادر اخوند زخمی یا شہید ہوئے ہیں۔ یہ سب جھوٹ ہے۔‘

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے یہ وضاحتیں اس لیے جاری کی گئی کہ گزشتہ کئی دنوں سے افغانستان میں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپوں میں کچھ ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ افغان صدارتی محل ارگ میں طالبان کے دو گروہوں کے درمیان تلخ کلامی کے نتیجے میں فائرنگ سے ملا عبدالغنی برادر شدید زخمی ہوئے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

ان خبروں نے اس وقت زیادہ زور پکڑا جب اتوار کو صدارتی محل سے جاری ہونے والی ویڈیو میں قطر کے وزیر خارجہ کے ساتھ طالبان قیادت کی ملاقات میں ملا عبدالغنی برادر نظر نہیں آئے تھے۔

’ملا برادر زخمی نہیں ناراض ہیں‘
اگرچہ طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ قندھار میں ہیں جہاں وہ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔ طالبان کے مطابق وہ بہت جلد واپس کابل آجائیں گے۔

لیکن دوحہ اور کابل میں طالبان کے دو ذرائع نے بتایا ہے کہ گذشتہ جمعرات یا جمعے کی رات کو ارگ میں ملا عبدالغنی برادر اور حقانی نیٹ ورک کے ایک وزیر خلیل الرحمان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ان کے حامیوں میں اسی تلخ کلامی پر ہاتھا پائی ہوئی تھی جس کے بعد ملا عبدالغنی برادر نئی طالبان حکومت سے ناراض ہو کر قندھار چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق جاتے وقت ملا عبدالغنی برادر نے حکومت کو بتایا کہ انھیں ایسی حکومت نہیں چاہیے تھی۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ حقانی نیٹ ورک اور قندھاری طالبان کے درمیان ایک عرصے سے اختلافات موجود تھے اور ان اختلافات میں کابل پر کنٹرول کے بعد مزید اضافہ ہوا۔

طالبان تحریک کے ایک اور ذرائع کے مطابق اگرچہ حقانی نیٹ ورک اور قندھاری یا عمری طالبان کے درمیان اختلافات ایک عرصے سے تھے، لیکن اب عمری یا قندھاری طالبان کے اندر بھی ملا محمد یعقوب اور ملا عبدالغنی برادر کے الگ الگ گروہ ہیں اور دونوں طالبان تحریک پر قیادت کے دعویدار ہیں۔

ان ذرائع کے مطابق دوسری جانب حقانی نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ ’دوسری مرتبہ اسلامی امارت ان کی جدوجہد کی بدولت قائم ہوئی ہے اس لیے زیادہ حق حکمرانی حقانی نیٹ ورک کا حق بنتا ہے۔‘

دوحہ اور کابل میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا عبدالغنی برادر نے نئی حکومت بننے کے بعد کہا کہ ’اُنھیں ایسی حکومت نہیں چاہیے تھی جس میں صرف اور صرف مولوی اور طالبان شامل ہو۔‘

ان ذرائع کے مطابق ملا برادر کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے 20 سال میں کئی تجربے حاصل کئے ہیں اور قطر کے سیاسی دفتر میں بین الاقوامی برادری سے وعدے کئے گئے تھے کہ ایک ایسی حکومت بنائیں گے جس میں تمام اقوام کے لوگوں کے ساتھ خواتین اور اقلیتوں کی بھی نمائندگی ہو۔

کابل میں طالبان کے ایک اور ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ اختلافات حکومت بننے سے پہلے تھے، لیکن جب ان کے سربراہ کی جانب سے کابینہ کے لیے جو نام پیش کئے گئے تو سب نے اسے پر رضامندی ظاہر کر دی۔

کابل میں نئی حکومت کا موڈ
ادھر کابل میں موجود صحافیوں کے مطابق کابینہ کے اعلان کے باوجود اکثر اداروں میں کام نہیں ہو رہا ہے اور ابھی تک صرف ایک وزیر نے اپنا پالیسی بیان جاری کیا ہے۔

اگرچہ طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تمام وزارتوں نے کام شروع کر دیا ہے لیکن تاحال سرکاری تعلیمی اداروں سے لے کر کئی دیگر ادارے بند ہیں اور اگر کچھ اداروں کے دفاتر کھلے بھی ہیں تو وہاں حاضری بہت ہی کم ہے۔

کابل میں موجود پاکستانی صحافی طاہر خان کے مطابق وزیروں نے کام شروع کیا ہے لیکن پالیسی بیان ابھی تک صرف وزیر تعلیم عبدالباقی حقانی کی جانب سے جاری ہوا اور کسی وزیر کی جانب سے تاحال کوئی پالیسی بیان بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔

کابل میں بینک ابھی تک بند ہیں اور بعض مقامات پر کچھ اے ٹی ایمز فعال ہیں لیکن وہاں سے بھی مخصوص عدد سے زیادہ کی رقم نہیں نکالی جا سکتی ہے۔ ایئرپورٹ کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے ملک مدثر کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر بھی قطری اہلکار سب سے زیادہ نظر آرہے ہیں اور قطری حکومت نے ہی کابل ایئرپورٹ کی دوبارہ بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

کابل میں اگرچہ کچھ نجی یونیورسٹیوں میں کلاسز کا آغاز ہو گیا ہے لیکن سرکاری یونیورسٹیاں، کالجز اور ہائی سکولز تاحال بند ہیں۔ اکثر اساتذہ کو گزشتہ دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں