41

بھارت کی کسان تحریک، ’اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے.

بھارت کی کسان تحریک، ’اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے.

(ڈیلی طالِب)
کھلے آسمان اور کووڈ کے تاریک بادلوں کے سائے تلے، موسم کی تلخیوں کو جھیلتے، پولس کی مارپیٹ کو سہتے، حکومت کی بے حسی کا مقابلہ کرتے اور اپنے پانچ سو سے زائد ساتھیوں کی اموات کے باوجود کسان آندولن نو ماہ پورے کر رہا ہے۔

آج جب نریندر مودی حکومت کے خلاف اظہار رائے کو بغاوت قرار دیا جانے لگا ہے، یہ شاید اکیسویں صدی کے ہندوستان کی سب سے طویل اور وسیع البنیاد تحریک ہے۔ ہندوستان میں ایک طویل عرصے سے کوئی اور تحریک اتنی لچکدار اور ثابت قدم نہیں رہی ہے۔ ایک دن کے لیے بھی کسان نہ اپنے حقوق کی لڑائی سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی اپنے کھیتوں میں ہل چلانا بھولے۔ اپنی فصلوں اور مویشیوں کی طرف گھر واپس جاتے اور لوٹ کر دہلی کی سرحدوں پر ہنستے گاتے احتجاج کر رہے ہیں۔ پھر سرکار کی بے پروائی، میڈیا کی بے رخی، دارالحکومت دہلی کی سرحدوں کی نیزوں اور کیلوں سے قلعہ بندی اور اکثر تحریک کے تیز ہو جانے پر انٹرنیٹ سے چھیڑ چھاڑ کے باوجود کسانوں کا یہ احتجاج کامیابی سے جاری ہے۔

گزشتہ دنوں مظفرنگر کی مہا پنچایت میں ملک کے کونے کونے سے کسان لیڈران پہنچے۔ جی ہاں، فرقہ وارانہ فسادات کے لیے سرخیوں میں رہنے والا مظفرنگر۔ پہلی بار مغربی اتر پردیش، جسے اکثر جاٹ لینڈ بھی کہا جاتا ہے، وہاں تامل، تیلگو، کنڑ اور ملیالم میں تقریریں اور لگاتار ان کے ترجمے چل رہے تھے۔ ایسا یو پی میں پہلے کب ہوا تھا؟ اس احتجاج میں ایک ساتھ ‘اللہ اکبر اور ہر ہر مہادیو‘ کے نعرے لگ رہے تھے۔ ایسا بھی بہت برسوں سے نہیں ہوا تھا۔

اس سے قبل سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جو مظاہرے ہوئے، ان میں مذہب کی لکیروں پر تقسیم نظر آتی تھی۔ کسان آندولن میں ’مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا‘ کی خوب پیروی ہوئی۔ اس سے پہلے بھی تحریک نے دہلی میں پارلیمان کے عین سامنے کسان پارلیمنٹ کا اجلاس کیا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس تحریک نے مزدوروں کے خدشات کو شامل کرنے اور جمہوریت، ثقافت، سیکولر اقدار اور دیگر سوالات پر سوچ بچار کرنے کے لیے اپنا دائرہ کار اور نیٹ ورک وسیع کیا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس تحریک نے حکومت کی ہر اس کوشش کو کارگر نہیں ہونے دیا، جس سے اسے تضحیک آمیز انداز میں تبدیل کیا جائے، بدزبانی کی جائے یا عوامی امن کو خراب کیا جائے۔ کسانوں نے تمام تشدد سے گریز کیا اور پرامن رہے۔ غالباﹰ یہی وہ چیزیں ہیں، جن کے سبب اس تحریک نے وسیع تر قومی اور عالمی توجہ اور حمایت حاصل کی ہے۔

حکومت اس بات کو دہراتی رہتی ہے کہ نجکاری زراعت کے لیے اچھی ہے اور کسان ضد پر اڑے ہیں کے تینوں نئے زرعی قانون واپس لیے جائیں۔ دراصل حکومتی نظام اور کاشت کاروں کے ٹکراؤ کا سلسلہ پرانا ہے۔ زراعت میں بڑے کارپوریٹ کے داخلے سے دنیا بھر کے کاشت کاروں نے خود کو پسماندہ پایا ہے۔ آزادی کے وقت بھارت کو ایک جاگیردارانہ زرعی ڈھانچہ ورثے میں ملا تھا، جس کے تحت چھوٹے کسانوں کا استحصال ہوتا چلا آ رہا تھا۔ غذائی تحفظ یعنی فوڈ سکیورٹی سے ملک میں سبز انقلاب تو آیا لیکن کسانوں کی بدحالی اور خودکشیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ زرعی اصلاحات اور اس سے مربوط زمینی اصلاحات کے باوجود اب انہیں ڈر ہے کے نجکاری کی اس نئی لہر میں سبھی تنکوں کی طرح بہہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کسان کارپوریٹ کی حمایت کرنے والی موجودہ سرکار کی طرف سے نافذ کردہ تینوں نئے قوانین کی پرزور مخالفت کر رہے ہیں۔

آئینی اصلاحات کی مخالفت ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتی۔ ماضی میں زراعت اور زمینی اصلاحات کے سلسلے میں آئین میں ترمیم کو کئی بار چیلنج کیا گیا ہے۔ آزادی کے بعد تمام ریاستیں زرعی اصلاحات کے اقدامات اپنا رہی تھیں، جن میں زمین اور ملکیت سے متعلق قوانین شامل تھے۔ ان معاملات میں زمینی اصلاحات کی مخالفت نے آئین کی بالادستی کو قائم کیا۔

اس مرتبہ پورے ہندوستان میں اور خاص طور پر شمال میں کسان ایک لمبی لڑائی کے لیے کمربستہ نظر آ رہے ہیں۔ کیا ہمیں کچھ نیا اور بڑا ہونے کی توقع کرنی چاہیے؟ اس سوال کا جواب فی الحال نہیں دیا جا سکتا۔ کسانوں کو ہر طرف سے گھیرے میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

میرے چھوٹے سے باغیچے کی ایک کیاری میں ہم نے بڑے جتن سے ٹماٹر لگائے تھے۔ مہینوں کے دیکھ بھال کے بعد وہ اب رس بھرے اور گول مٹول ہو گئے تھے پر ابھی ہرے تھے۔ ہم بے حد صبر کے ساتھ ان کے لال ہونے کا انتظار کر رہے تھے کہ چند روز پہلے بندروں کی ایک ٹولی انہیں اجاڑ گئی۔ بھگانے کی کوشش کی تو پورے کے پورے پودے جڑ سے اکھاڑ لے گئی۔ اب بندر کی فطرت ہی ایسی ہے، جہاں کہیں پکا پھل دیکھا یا تو لوٹ لیا یا تہس نہس کر دیا۔ شدید پریشان کن وقت کا سامنا کرتے کسان بھی نہ جانے کتنے بندروں کو کھیتوں سے باہر رکھنے کا بیڑا اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں