56

بلوچستان: وزیراعلیٰ سے ناراض گروپ کی تعداد میں اضافہ.

بلوچستان: ’وزیراعلیٰ سے ناراض گروپ کی تعداد میں اضافہ‘

(ڈیلی طالِب)

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس وقت جو صورت حال نظر آرہی ہے اس کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی میں دراڑ پڑ چکی ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی پوزیشن انتہائی کمزور ہو گئی ہے۔

بلوچستان کی سیاست میں ایک بار پھر منتخب وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی۔
دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ وزیر اعلی جام کمال کے خلاف یہ تحریک اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی ہے لیکن اس پر حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی ( باپ) میں دوگروپ بن گئے ہیں۔

تحریک عدم اعتماد کو جمع ہوئے دودن گزرچکے ہیں۔ ملاقاتوں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض اراکین کو منانے کےلیے چیئرمین سینٹ بھی کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ جنہوں نے گزشتہ رات ان ناراض ارکان سے ملاقات بھی کی ہے۔

اس دوران وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جس پر حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے اسے من گھڑت اور حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔

لیاقت شاہوانی کی طرف سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اکثریت کھونے سے متعلق خبر بے بنیاد ہے۔ ایسی فیک نیوز چلانے سے قبل متعلقہ فورم سے تصدیق کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال بھی متحرک ہوگئے ہیں اور انہوں پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدر اور پارلیمانی لیڈر سردار یار محمدرند سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔

سردار یار محمد رند نے موجودہ صورت حال پر پارلیمانی کمیٹی کے اراکین سے مشاورت اور وزیر اعظم عمران خان سے حتمی منظوری کے لئیے وقت مانگ لیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس وقت جو صورت حال نظر آرہی ہے اس کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی میں دراڑ پڑ چکی ہے اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی پوزیشن انتہائی کمزور ہو گئی ہے۔

کوئٹہ میں حکمران جماعت باپ میں دو گروپ بنے ہیں۔ ایک کی سربراہی سپیکر عبدالقدوس بزنجو اور دوسری کی جام کمال کررہے ہیں۔ جن میں شدید قسم کے اختلافات سامنےآئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اپوزیشن جماعتیں جنہوں نے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیاہےکہ ان کے پاس 23 اراکین کے علاوہ 12 سے 13 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ جن کی بنیاد پروہ اس تحریک کا کامیابی ہوتا دیکھتے ہیں۔ ‘

رشید نے بتایا کہ ’تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا جن اراکین کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے۔ ان میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں۔ جن کا تعلق باپ پارٹی سے ہے۔ تاہم بی این پی عوامی بھی اپوزیشن کا ساتھ دے سکتی ہے۔‘

رشید کے مطابق اس وقت معاملے کو سنبھالنے کےلیے چیئرمین سینٹ میر صادق سنجرانی کوئٹہ میں موجود ہیں۔ جن کا تعلق بلوچستان کے ضلع چاغی سے ہے۔ بظاہر تو وہ ناراض اراکین کو منانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سے قبل بھی ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ جب سپیکر بلوچستان اسمبلی قدوس بزنجو اور وزیراعلیٰ جام کمال میں اختلافات پیدا ہوجاتے تو چیئرمین سینٹ آکر ان میں صلح کرا دیتے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’اس بات معاملہ پچھلے ادوار سے مختلف ہے۔ وہ اس طرح کہ پہلے سپیکر قدوس بزنجو اکیلے ہوتے تھے۔ یا سردارصالح بھوتانی اور سردار یار محمد بھی ناراض ہوئے وہ سب اکیلے تھے۔‘

رشید کا ماننا ہے کہ ’اس وقت ایک بڑا گروپ جو تقریباً 15 سے 16 افراد پرمشتمل ہے۔ وہ جام کمال کی مخالفت کر رہا ہے۔ گزشتہ رات کو بھی جب چیئرمین سیںٹ قدوس بزنجو کےپاس گئے تو اتنے ہی لوگ نظر آئے۔‘

ان کے مطابق چیئرمین سینٹ کے حوالے سے بات کی جائے تو ہم دیکھتے ہیں وہ پہلے بھی جام کمال سے خوش نہیں تھے کیوں کہ ان کا اور عارف محمد حسنی جو صوبائی وزیر ہیں۔ دونوں کا حلقہ ایک ہے اور عارف جام کمال کے قریب ہیں۔ جس کی وجہ انہیں زیادہ پذیرائی ملتی رہی ہے۔

باپ پارٹی کے اراکین کی ناراضگی کی وجوہات کیا ہیں۔ اس سوال پر رشید نے بتایا کہ بنیادی مسئلہ ترقیاتی فنڈز نہ ملنا ہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب قدوس بزنجو وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب جو آواران ہے۔ اس کے لیے سات ارب کے فنڈز مختص پی ایس ڈی پی میں مختص کیے تھے۔ جنہیں جام کمال نے وزارت سنبھالنے کے بعد ختم کرا دیے۔

دوسری جانب رشید کہتے ہیں کہ ’سردار صالح بھوتانی کی بات کی جائے تو جام کمال اور وہ ایک ضلع کے ہیں۔ جس کے باعث وہاں تعیناتیوں کے حوالے سے مسائل سامنے آئے ہیں۔ جن کی بنا پر مجموعی طور پر اپوزیشن اورحکمران جماعت کے ناراض اراکین سب کا مسئلہ فنڈز کا نہ ملنا ہی ہے۔‘

حکمران باپ پارٹی کا ایک اجلاس ہوا تھا جس میں بتایا گیا کہ جام کمال اور ناراض اراکین میں تلخ کلامی ہوئی تھی۔ اس پر رشید بلوچ کہتےہیں کہ جس دن تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی اس کے اگلے دن اجلاس بلایا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس اجلاس میں ہماری اطلاعات کے مطابق بڑے گلے شکوے ہوئے اور اراکین نے جام کمال کو اراکین نے سخت جملے بھی کہے اور جام کمال نے انہیں سخت جوابات دیے۔‘

رشید مزید کہتے ہیں کہ ’اس اجلاس کے حوالے سے ہم سمجھتےہیں کہ دوریاں مزید بڑھ گئیں اور اس میں دلچسپ یہ ہوئی کہ جو لوگ اس سے پہلے جام کمال کے حمایتی تھے اور ناراض نہیں سمجھے جاتے تھے۔ وہ بھی مخالفت پراتر آئےہیں۔ جن میں وزیراطلاعات بشریٰ رند اور وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی بھی ہیں۔‘

ان کے مطابق ’اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا کہ بشریٰ رند نے بھی جام کمال کے خلاف سخت جملے کہے تھے اور میر ظہور بلیدی اور جام کمال کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔‘

کیا وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی کمزوری سیاست میں ہے یا کسی اور وجہ سے وہ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کررہے ہیں۔ یہ سوال جب رشید بلوچ سے کیا گیات و انہوں نے بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ وہ بلوچستان کے قبائلی روایات سے واقفیت نہیں رکھتے۔ کیوں کہ ان کا بچپن یہاں نہیں گزرا وہ باہر سے پڑھے اور اکثر صوبے سے باہر ہی رہے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’وہ قبائلی نظام میں نہیں رہے ہیں۔ ایک وجہ ہم ان کی ناکامی کہہ سکتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہےکہ جو لوگ ان کے والد جام یوسف اور کمال کے قریب رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دونوں کے مزاج بھی بڑا فرق ہے۔‘

رشید کے بقول: جام یوسف مخالفین کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالتے تھے اور لگ ایسا لگ رہاہےکہ جام کمال کچھ انا پرست ہیں۔ اگر کسی ایم پی ایز کو وزیراعلیٰ سے ملنا ہوتا ہے تو پہلے انہیں اجازت لینا پڑتی ہے۔ جو بعض لوگوں کی ناراضگی کا باعث بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جن لوگوں نے جام کمال سے رابطہ رکھا ہے اور کچھ لوگوں سےمیری بات بھی ہوئی۔ انہوں نے کبھی انہیں اچھے الفاظ سے یاد نہیں کیا۔ تو ہم کہہ سکتےہیں کہ یہ ایک ریلہ تھا جس پر بند باندھا گیا تھا وہ اب ٹوٹ چکا ہے۔‘

رشید کے مطابق: جام کمال کے قریبی ساتھیوں کے سے پتہ چلا کہ انہیں یہ سمجھ آگئی ہے کہ ان کے ساتھ لوگ نہیں ہیں۔ دوسری طرف اگر مقتدرہ نے ان سے ہاتھ کھینچ لیا۔ بظاہر ایسا ہی لگتاہے تو وہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری سے قبل ہی استعفیٰ دیں دے گے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح عجلت میں بلوچستان عوامی پارٹی بنائی گئی اور مختلف الخیال لوگوں کو اکٹھا کیا گیا جن کے خیالات بھی کم ہی ملتے ہیں۔ ایسےلوگوں کو ملا کر ساتھ چلنا مشکل کام ہے۔ جس کا نتیجہ ہم جام کمال کی موجودہ صورت حال میں دیکھ سکتے ہیں۔‘

تجزیہ کار رشید کا ماننا ہے کہ ’چونکہ موجودہ صورت حال میں جام کمال کے خلاف ایک بڑی تعداد میں لوگ مخالفت پر اترآئے ہیں اور سٹیپملشمنٹ کو بھی ایک شخص کےلیے اتنے زیادہ لوگوں کو ناراض کرنا مشکل ہوگا اور میری ذاتی رائے میں فیصلہ جام کمال کے خلاف ہی آئے گا۔‘

ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ سپیکر قدوس بزنجو سمیت کچھ اراکین ہیں۔ جو ان کے خلاف ووٹ کرسکتے ہیں۔

انہوں نے حالیہ صورت حال پر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’اپوزیشن کے اندر قوم پرست جماعت کے چند رئیل سٹیٹ مافیا کے ممبر یہ بھول جاتےہیں کہ وہ ماضی کی کرپٹ، گورننس کی تباہی ،فراڈ کو زندہ کریں گے۔ یہ وہ بلوچستان نہیں جہاں کا رہنے والا چیزوں سے واقف نہ ہو۔‘

ادھر جہاں ایک طرف وزرا کی طرف سے وزیراعلیٰ بلوچستان کو مخالفت کا سامنا ہے۔ وہاں بیوروکریسی کا ایک طبقہ بھی انہیں پسند نہیں کرتا ہے۔

بلوچستان کے معاملات کو چلانے والے سول سیکرٹریٹ جہاں سے صوبے کے عوام کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ وہاں پر کام کرنے والے ایک سنیئر بیورو کریٹ نے نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک تو بہت سے اختیارات اپنے پاس رکھے تھے اور وزرا کو بے لگام نہیں چھوڑا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’جام کمال نے گڈ گورننس کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیےتھے اور انہوں نے یہاں کی تاریخ میں اتنے زیادہ اظہار وجوہ کے نوٹس بیورو کریٹس کو دیے شاید اس سے پہلے جاری ہوئے ہیں۔‘

افسر نے بتایا کہ ’وزیراعلیٰ جام کی ایک اور بات یہ ہے کہ انہوں نے بیوروکریسی پر نظر رکھنے اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے فائل کر ٹریک کرنے کا نظام متعارف کرایا اور جہاں رکاوٹ ہوتی ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’جام کمال کی ایک اور خاصیت یہ ہے کہ وہ ہر فائل کو خود ہی چیک کرتے ہیں اور اس پر اپنی رائے لکھتے ہیں۔ وہ اپنے سامنے فائل کو آگے بڑھتےہوئے چیک کرتے تھے۔ کوئی بھی افسر ہوتا اور حتیٰ کہ چیف سیکرٹری سے بھی کام نہ ہونے پر باز پرس کرتے۔‘

افسر کامزید کہنا تھا کہ ’اس حکومت کے تین سالوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ بیوو کریسی کو جام کمال نے سیدھا کرنے اور ان سے باقاعدہ ایک طریقہ کار کے مطابق کام لے رہے ہیں۔ جو اس سے قبل نہیں ہوتا۔ فائل بن جاتی تھی اور بعد میں کئی مہینوں تک ایک کمرے سے دوسرےکمرے تک سفر کرتی اور بعض اوقات غائب ہوجاتی تھی۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سیاست میں ماضی میں بھی مخلوط حکومت کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہا ہے اور اس سے قبل مسلم لیگ ن کی حکومت میں نواب ثنااللہ زہری کو بھی پارٹی کے اندر سے حمایت کی کمی کے باعث استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں