85

نیوزی لینڈ ٹیم کو دھمکی آمیز ای میل بھارت سے بھیجی گئی: فواد چوہدری.

نیوزی لینڈ ٹیم کو دھمکی آمیز ای میل بھارت سے بھیجی گئی: فواد چوہدری.

(ڈیلی طالِب)

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سیریز منسوخ کیے جانے کے بعد بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو حمزہ آفریدی نامی ای میل ایڈریس سے دھمکی آمیز پیغام بھیجا گیا، جو ایک ایسی ڈیوائس سے بھیجا گیا جو بھارت میں ہے۔

پاکستان نے نیوزی لینڈ کی جانب سے ’سکیورٹی وجوہات‘ کی بنا پر سیریز منسوخ کیے جانے کے حوالے سے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ نے ایسا ’جعلی ای میل ایڈریس‘ سے بھیجی گئی ای میلز کی بنا پر کیا۔

اسلام آباد میں بدھ کو وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نیوزی لینڈ کے سیریز منسوخ کرنے سے پہلے اور اس کے بعد ہونے والے واقعات پر روشنی ڈالی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سیریز منسوخ کیے جانے کے بعد بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کو حمزہ آفریدی نامی ای میل ایڈریس سے دھمکی آمیز پیغام بھیجا گیا، جو ایک ایسی ڈیوائس سے بھیجا گیا جو بھارت میں ہے۔

اب تک کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر طلاعات نے کہا کہ دورے سے قبل 19 اگست کو تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے نام سے بنے ایک جعلی فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ ڈالی گئی جس میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں پاکستان میں خطرہ ہے۔

پوسٹ میں کہا گیا کہ ’داعش پاکستان میں ایک بڑا ہدف ڈوھنڈ رہی ہے‘ اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کا آغاز گذشتہ جمعے سے راولپنڈی میں ہونا تھا تاہم میچ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل نیوزی لینڈ نے ’سکیورٹی وجوہات‘ کی بنا پر سیریز منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

وفاقی وزیر کے مطانق 31 اگست کو بھارتی اخبار سنڈے گارڈین کے بیوری چیف ابھی نندن مشرا نے ایک آرٹیکل چھاپا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پر حملہ ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول یہ سارا آرٹیکل اس جعلی فیس بک پوسٹ پر مبنی تھا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ابھی نندن مشرا کے افغان نائب صدر امراللہ صالح سے گہرے تعلقات ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگست میں ہی نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مارٹن گپٹل کی اہلیہ کو تحریک لبیک نامی ایک ای میل اکاؤنٹ سے ای میل بھیجی گئی جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں گپ ٹل کو قتل کر دیا جائے گا۔

وزیر نے بتایا کہ 24 اگست کو بھیجی گئی یہ ای میل جس اکاؤنٹ سے آئی اسے کچھ گھنٹے پہلے ہی بنایا گیا اور پروٹن سروسر کے سکیور نیٹ ورک سے بھیجی گئی، جس کی مزید معلومات کے لیے پاکستان نے انٹرپول سے رابطہ کیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان سب دھمکیوں کے باوجود نیو زی لینڈ کی ٹیم پاکستان آئی اور کچھ دن پریکٹس بھی کی، مگر 17 ستمبر کو میچ سے کچھ گھنٹے پہلے ہی یہ کہہ کر سیریز سے معذرت کرلی کہ ان کی حکومت کی طرف سے ہدایت ملی ہے کہ ٹیم کو خطرے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی حکومت نے اس تھریٹ کے بارے میں پاکستان کو کچھ زیادہ نہیں بتایا اور ان کو ہمارے ساتھ مخصوص تھریٹ شیئر کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ کے پاکستان سے جانے کے بعد بھی ٹیم کو ایک دھمکی آمیز ای میل ملی۔

اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 18 ستمبر کو انٹرپول ویلنگٹن نے انٹرپول اسلام آباد کے ساتھ یہ ای میل شیئر کی۔

حمزہ آفریدی کے نام سے بنے ای میل اکاؤنٹ سے بھیجے گئے پیغام میں لکھا تھا کہ نیو زی لینڈ نے دورہ منسوخ کرکے پاکستان کی عوام کے ساتھ اچھا نہیں کیا اور اب ان پر خطرہ منڈلاتا رہے گا۔

فواد چوہدری کے مطابق یہ ای میل اکاؤنٹ میل بھیجنے سے 15 منٹ پہلے ہی بنایا گیا اور جب اس کا پتہ لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ جس ڈیوائس سے یہ پیغام گیا وہ بھارت میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ڈیوائس سے ای میل وی پی این کے ذرئعے سنگاپور کی لوکیشن سیٹ کر کے بھیجی گئی اور ڈیوائس پر 13 اور ای میل اکاؤنٹ ہیں جن میں زیادہ تر بھارتی ناموں یا بالی ووڈ سے منسلک نام ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قوی امکان ہے کہ یہ ڈیوائس ممبئی کے اوم پرکاش نامی شخص کی ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد نیوزی لینڈ کی حکومت ایک موقف لے گی۔

سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے ایک خط کے حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے نیوزی لینڈ سیریز اور امام حسین کے چہلم کے حوالے سے تھریٹ الرٹ نہیں تھریٹ ایڈوائزری جاری کیا تھا جس کا مقصد ایونٹ سے پہلے انتظامات کرنا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں