52

ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جیوانی ، گوادر کے لئے جدوجہد ، ایک اور کامیابی۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جیوانی ، گوادر کے لئے جدوجہد ، ایک اور کامیابی۔

(ڈیلی طالِب)

پانی کے منصوبوں کے لیے تقریبا ایک عرب روپے کی رقم مختص کرنے کی سمری تیار ، جو جیوانی ، گوادر کو 30 سے ​​40 لاکھ گیلن سے زائد پانی فراہم کرے گا۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ کی پٹیشن پر ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد ، بلوچستان حکومت نے مجبور ہو کر پی ایس ڈی پی 21-22 میں جیوانی ، گوادر کے لئے واٹر پراجیکٹس شامل تو کرلئے تھے ، لیکن اس منصوبے کے لیے مختص رقم صرف 8 کروڑ روپے تھی جو کہ سراسر ناانصافی تھی۔

اس لیے ساجد ترین نے ایک بار پھر یہ مسئلہ اٹھایا۔
جس کے بعد سیکرٹری پی ایچ ای صالح محمد ناصر نے سمری تیار کر کے جس میں 98 کروڑ 70 لاکھ روپے کی مناسب رقم پانی کے منصوبے کے لیے مختص کرنے کی درخواست کی اور سمری وزیراعلیٰ کو بھیج دی۔

اور یہ واضح طور پر سیکرٹری پی ایچ ای کی طرف سے سمری میں دیکھا جا سکتا ہیں کہ سیکرٹری کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ معزز ہائی کورٹ نے ساجد ترین کی پٹیشن میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ جیوانی ، گوادر کے لیے پانی کے ان منصوبوں کو شامل کیا جائے۔ اس لیے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی کے اس منصوبے کے لیے 98 کروڑ 70 لاکھ روپے کی مناسب رقم مختص کی جائے

اس سمری کے بعد واضح طور پر ظاہر ہوتا ہیں کہ جیوانی ، گوادر کے لوگوں کے لیے پینے کے صاف پانی کا منصوبہ ساجد ترین کی جدوجہد کی وجہ سے منظور ہوا اور حکومت یا کوئی اور جھوٹ بول کر اس منصوبے کا کریڈٹ نہیں لے سکتا۔ اور یہ صرف کریڈٹ کی بات نہیں بلکہ بلوچستان کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے ساتھ کون زیادہ مخلص ہے۔

اس منصوبے سے شادی کور ڈیم اور اکرا کور ڈیم سے جیوانی ، گوادر تک واٹر پائپ لائن پروجیکٹ
جو جیوانی ، گوادر کو 30 سے ​​40 لاکھ گیلن سے زائد پانی فراہم کرے گا اور جلد پانی کا بحران حل ہوجائے گا۔

یاد رائئے کہ کچھ ماہ قبل ساجد ترین نے جیوانی ، گوادر میں پانی کے بحران کے حل کے لئے بلوچستان ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی اور معزز ہائیکورٹ سے جیوانی ، گوادر میں پانی کے منصوبوں کو شامل کرنے کی درخواست کی تھی جو حکومت گذشتہ 2 بجٹ میں شامل نہیں کر رہی تھی ، جس پر ہائی کورٹ نے ساجد ترین کے حق میں فیصلہ دیا ..

ساجد ترین نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ نے مذکورہ رقم کی منظوری نہیں دی تو ہمیں حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنی پڑے گی۔

ساجد ترین نے مزید کہا کہ یہ حکومت کا فرض تھا کہ وہ بلوچستان کے لوگوں بالخصوص گوادر کے لوگوں کے لیے یہ کام کرتی ، لیکن مجھے یہ کرنا پڑا کیونکہ میں ہمیشہ بلوچستان کے مظلوموں کے لیے بلا امتیاز آواز اٹھانے پر یقین رکھتا ہوں ، وہ پشتون ، بلوچ یا اس صوبے میں رہنے والے کوئی اور ہوں وہ سب میرے لیے برابر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں