38

انڈیا: لڑکی سے نو ماہ تک گینگ ریپ کے الزام میں 28 گرفتاریاں.

انڈیا: لڑکی سے نو ماہ تک گینگ ریپ کے الزام میں 28 گرفتاریاں

(ڈیلی طالِب)

انڈیا کے شہر ممبئی میں پولیس کے مطابق ایک 15 سالہ لڑکی سے مبینہ طور پر رواں سال جنوری سے ستمبر تک اجتماعی ریپ کیا جاتا رہا۔

انڈیا میں مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پولیس حکام ایک 15 سالہ لڑکی کے کیس پر تحقیقات کر رہے ہیں جسے قریب نو ماہ تک مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

ممبئی کی پولیس نے ریپ کے ان الزامات میں اب تک 28 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ سلسلہ رواں سال جنوری میں شروع ہوا تھا۔

مقامی اطلاعات کے مطابق اس لڑکی کے ساتھ مبینہ گینگ ریپ کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب اس کے بوائے فرینڈ نے اس کا ریپ کیا اور واقعے کی ویڈیو بنالی۔

اس لڑکے اور اس کے دوستوں نے مبینہ طور پر اس ویڈیو کو استعمال کرتے ہوئے اس لڑکی کو بلیک میل کیا اور زبردستی اس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے۔

اخبار ’دی ہندو‘ کے مطابق ایڈیشنل کمشنر پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اس لڑکی کو رواں سال جنوری سے ستمبر تک مختلف مقامات پر متعدد بار جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

اسسٹنٹ پولیس کمشنر کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم اس کیس میں تفتیش کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گینگ ریپ ممبئی کے گرد و نواح میں دیہی علاقوں میں متعدد بار کیا گیا۔ ان علاقوں میں بدلہ پور، دومبیولی، مرباد اور ربالے شامل ہیں۔

پولیس کی اس تحقیقات میں اس مبینہ ویڈیو کی تلاش جاری ہے جبکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ جرم رپورٹ ہونے میں اس قدر تاخیر کیسے ہوئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اکثر ملزمان 16 سے 23 سال کے طلبا ہیں۔

اس لڑکی نے پہلی بار پولیس کو ان واقعات کی اطلاع بدھ کو دی۔ لڑکی نے کل 33 حملہ آوروں کے نام درج کرائے ہیں اور بتایا ہے کہ وہ قریب تمام افراد کو جانتی تھی۔

انڈیا کے دارالحکومت دلی میں 2012 کے دوران ایک طالبہ کو بس میں اجتماعی ریپ کے بعد قتل کیا گیا تھا۔ نربھیا کیس میں 2020 میں چار مجرموں کو پھانسی دی گئی تھی۔

اس کیس پر عالمی تشویش کے بعد سے انڈیا نے جنسی جرائم سے نمٹنے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے۔

لیکن ان سختیوں کے باوجود جنسی جرائم اب بھی بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔

سنہ 2020 میں انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے 28046 ریپ کیس درج کیے تھے، یعنی ہر دن قریب 77 کیس۔

سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ انڈیا میں ریپ کے واقعات کی اصل تعداد ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ کئی لوگ اب بھی معاشرے میں ریپ کے خلاف کھل کر بات نہیں کر پاتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں