53

تعلیمی اداروں کی بہتری صحت سہولیات کی فراہمی سمیت بے بس عوام کی خدمت اولین ترجیح ہے‘ خان احمد خان غیبزئی

تعلیمی اداروں کی بہتری صحت سہولیات کی فراہمی سمیت بے بس عوام کی خدمت اولین ترجیح ہے‘ خان احمد خان غیبزئی

(ڈیلی طالِب)

بلوچستان میں گھوسٹ سکولوں اور بند تعلیمی اداروں کو فعال کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ دینے کا پرپوزل دیا ہے حکومت نے حامی بھر لی تو فوراً کام شروع کرکے ان تعلیمی اداروں کو فعال کرنے میں بھرپورکردار ادا کریں گے‘سربراہ کاکا فاؤنڈیشن
اس وقت ہمارے تنظیم کی زیر نگرانی تعلیمی ادارے جن میں کالجز‘ سکولز‘اکیڈیمز‘ لیبارٹریز اور ساتھ میں سپورٹس کے سرگرمیاں بھی جاری ہے ہماری کوشش ہے کہ اس خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن اور بے بس لوگوں کی داد رسی کی جائے‘صحافیوں کے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ کے موقع پر خطاب
کوئٹہ) کاکا فاونڈیشن کے سربراہ خان احمد خان غیبزئی نے کہا ہے کہ میرے آنے کا مقصد علاقے اور پورے بلوچستان میں امن وامان کی بحالی‘تعلیم‘صحت کی پسماندگی کا خاتمہ او ر فلاحی کاموں میں حصہ لیکر بے بس لوگوں کی خدمت کرنا اولین ترجیح ہے بلوچستان میں گھوسٹ سکولوں اور بند تعلیمی اداروں کو فعال کرنے کیلئے حکومت کے ساتھ دینے کا پرپوزل دیا ہے حکومت نے حامی بھر لی تو فوراً کام شروع کرکے ان تعلیمی اداروں کو فعال کرنے میں بھرپورکردار ادا کریں گے‘ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں دئیے عشائیہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا‘ اس سے قبل تنظیم کے ترجمان نصیب اللہ کاکڑ نے چھ مہینوں کے دوران بلوچستان میں کیے گئے تعلیم صحت اور دیگر حوالوں سے تنظیم کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی‘ عشائیہ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر شہزادہ ذوالفقار‘ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ شہزادہ فرحت احمد زئی‘ڈائریکٹر پی آئی ڈی عبدالمنان‘کوئٹہ پریس کلب کے صدر عبدالخالق رند اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر سلمان اشرف‘جی ایم پی ٹی وی محمد ایوب بابئی اور مختلف چینلز‘نیوز ایجنسیز اورسنیئر صحافیوں نے شرکت کی‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خان احمد خان غیبزئی نے کہا کہ میں چھ مہینے پہلے بیرون ملک سے یہاں بلوچستان میں امن وامان کی بحالی‘ قبائلی جھگڑوں کا خاتمہ اور جرائم کے خاتمے کے لئے میں عہد کیا جو آج تک میرا وہی وژن ہے کیونکہ جب تک ہم قبائلی جھگڑے کا خاتمہ نہیں کرتے علاقے میں امن وامان ناممکن ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں بہت سے گھوسٹ سکول اور لوگوں نے تعلیمی اداروں سے مہمان خانے بنادئیے ہیں ان گھوسٹ سکولز اور بند پڑے ہوئے تعلیمی اداروں کو فعال بنانے کیلئے میں نے گورنمنٹ کو تحریری طور پر درخواست دی اور کہاکہ اس طرح تعلیمی اداروں کو فعال بنانے کیلئے کاکا فاؤنڈیشن کردار ادا کرے گی حکومت کی جواب آنے کے بعد اس پر جلد کام شروع کریں گے انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمارے تنظیم کی زیر نگرانی تعلیمی ادارے جن میں کالجز‘ سکولز‘اکیڈیمز‘ لیبارٹریز اور ساتھ میں سپورٹس کے سرگرمیاں بھی جاری ہے ہماری کوشش ہے کہ اس خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن اور بے بس لوگوں کی داد رسی کی جائے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ہم کوشش کررہے ہیں کہ دیگر ڈونرز کو بھی ساتھ ملائیں وہ اس حوالے سے ہماری مدد کریں لیکن ہم نے آج تک کسی ڈونرز سے مدد نہیں لیا تمام تر کارروائی اپنے مدد آپ کے تحت کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ میڈیا ایک اہم ذریعہ ہے تنظیم کے حوالے سے میڈیا ہمارے ساتھ دیں اور ہماری رہنمائی کریں آخر میں صحافیوں کے اعزاز میں عشائیہ دیاگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں