33

طالبان قیادت جنگجوؤں کی سیلفیوں پر ناراض، پابندی عائد

طالبان قیادت جنگجوؤں کی سیلفیوں پر ناراض، پابندی عائد

(ڈیلی طالِب)

رواں برس 15 اگست کو ڈرامائی انداز میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد بہت سے طالبان جنگجو سیر و تفریح کرتے ہوئے یا دیگر مقامات پر اپنی سیلفیاں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں، جس پر ان کی قیادت نے انہیں خبردار کیا ہے۔

امریکی افواج کے انخلا کے دوران 15اگست 2021 کو اشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹ کر افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے سے قبل طالبان کئی سال تک شہروں کی گہما گہمی اور تفریح سے دور دیہاتوں میں مقیم رہے۔

تاہم جب وہ ڈرامائی انداز میں شہروں پر کنٹرول حاصل کرنے لگے تو ان میں سے بہت سے جنگجوؤں کے لیے شہروں کی زندگی عجیب، انوکھی اور نئی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ بڑی عمر کے طالبان جنگجوؤں کو بھی شہروں کے تفریح پارکوں میں جھولا جھولتے اور حتیٰ کہ کابل ایئرپورٹ پر موجود جہازوں کے پروں سے لٹکتے، جھولتے اور دل بہلاتے دیکھا گیا۔

طالبان کا یہ کھیل کود صرف تفریح تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ سمارٹ فون کا استعمال کرتے ہوئے سیلفیاں بناتے اور انہیں سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کرتے رہے ہیں۔ بہت سے طالبان کمانڈر کئی سال کی روپوشی کے بعد منظر عام پر آئے تو انہوں نے لوگوں کے ساتھ گروپ کی شکل میں سیلفیاں بھی لیں۔

لیکن اب طالبان کی اعلیٰ قیادت نے اس پر کچھ ناراضی کا اظہار کیا ہے اور وزیر دفاع مولوی محمد یعقوب، جو تحریک طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے بیٹے ہیں، نے طالبان کی سیلیفوں پر سخت تنقید کی ہے۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق طالبان جنگجوؤں کے نام اپنے تازہ آڈیو پیغام میں ملا یعقوب نے انہیں بقول ان کے ’آوارہ پن‘ پر مشتمل سرگرمیوں سے باز رہنے کی تاکید کی اور ان سے کہا کہ وہ گروپوں کی شکل میں بے مقصد بازاروں میں نہ گھومیں اور کابل میں حکومتی عمارتوں اور سیاحتی مقامات کی خواہ مخواہ تشہیر نہ کریں۔

ملا یعقوب نےکہا: ’جو کام آپ کو تفویض کیے گئے ہیں انہیں جاری رکھیں۔‘

سکیورٹی رسک کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے ملا یعقوب کا کہنا تھا کہ ’جنگجو جب بھی تحریک کے رہنماؤں کے ساتھ ملتے ہیں ان کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہیں۔ اس طرح کی سیلفیاں خطرناک ہوسکتی ہیں، خاص طور پر جب یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہیں تو طالبان قیادت کے ٹھکانوں اور ان کی سرگرمیوں کی تشہیر ہوتی ہے۔‘

مولوی یعقوب نے طالبان جنگجوؤں کو حکم دیا کہ وہ اپنی ظاہری وضع قطع کو بہتر بنائیں اور اپنی داڑھی، بال اور لباس تحریک کے مقرر کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق بنائیں۔

انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ بہت سے طالبان جنگجوؤں کو دیکھا گیا جن کے بال کندھوں تک لمبے ہیں، کچھ کو زرق برق کپڑوں میں دیکھا گیا۔ بعض دھوپ کے چشمے لگاتے ہیں، جبکہ طالبان کو سروس اور چیتا کمپنیوں کے سپورٹس جوگر پہنے بھی دیکھا گیا ہے۔

افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان عالمی سطح پر اپنی حکومت کو تسلیم کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے ایک جامع حکومت کے قیام اور خواتین کو تعلیم اور ملازمتوں کے حقوق دینے کے وعدوں سمیت حال ہی میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے درخواست بھی کی، تاہم اس پر کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔

عالمی برادری اور ہزاروں افغان شہریوں کو خدشہ ہے کہ طالبان 1990 کے دور کے سخت نوعیت کے اسلامی قوانین کا نفاذ کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں