37

عثمان مرزا: جوڑے پر تشدد اور برہنہ کر کے ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے معاملے میں ملزمان پر فرد جرم عائد.

عثمان مرزا: جوڑے پر تشدد اور برہنہ کر کے ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے معاملے میں ملزمان پر فرد جرم عائد

(ڈیلی طالِب)

وفاقی دارالحکومت کی ایک مقامی عدالت نے اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں لڑکے اور لڑکی کو تشدد کرنے، انھیں برہنہ کرنے اور اُن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت سات ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی متعلقہ عدالت کو دو ماہ میں اس مقدمے کا ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج عطا ربانی کی عدالت میں عثمان مرزا سمیت دیگر ملزمان کو منگل کے روز سخت سکیورٹی کے حصار میں کمرہ عدالت میں لایا گیا۔

کمرہ عدالت میں جج نے سب سے پہلے تو ملزمان کی حاضری لگوائی اور اس کے بعد ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سُنائی۔

جب جج ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سُنا رہے تھے تو عثمان مرزا سمیت چار ملزمان مسلسل جج کی طرف دیکھ رہے تھے جبکہ باقی ماندہ ملزمان سر جھکا کر کھڑے تھے۔

عثمان مرزا سمیت اس مقدمے میں نامزد جتنے بھی ملزمان اڈیالہ جیل میں ہیں انھوں نے اپنی داڑھیاں بڑھائی ہوئی تھیں اور سروں پر ٹوپیاں پہنی ہوئی تھیں۔

عدالت کے جج کی طرف سے جب ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سُنائی گئی تو سب ملزمان نے باآواز بلند صحت جرم سے انکار کیا۔

عدالت نے استغاثہ کے گواہان کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے انھیں 12 اکتوبر کو گواہی دینے کے لیے طلب کیا ہے۔

استغاثہ کے گواہان میں متاثرہ لڑکی اور لڑکا بھی شامل ہیں۔

اس مقدمے میں تین ملزمان کو پولیس ابھی تک گرفتار نہیں کر سکی جس کی وجہ سے پولیس نے اس مقدمے کا نامکمل چالان عدالت میں پیش کیا ہے۔

’بتانا سب کو کہ مرشد آئے تھے‘

عثمان مرزا سمیت جب دیگر ملزمان کو اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں پیش کیا جا رہا تھا تو عثمان مرزا نے وہاں پر موجود میڈیا کے نمائندوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ’بتانا سب کو کہ مرشد آئے تھے۔‘

پولیس کی جانب سے متعقلہ عدالت میں جو چالان پیش کیا گیا اس میں کہا گیا تھا کہ عثمان مرزا سمیت سات ملزمان نے متاثرہ لڑکے اور لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد انھیں برہنہ کر کے نہ صرف ان کی ویڈیو بنائی بلکہ ان دونوں کو آپس میں جنسی عمل کرنے کا بھی حکم دیا۔

متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ملزمان انھیں برہنہ کرنے کے بعد ان کے جسم کے حساس حصوں کو چھوتے رہے۔

اس چالان میں متاثرہ لڑکی کے بیان کو بھی حصہ بنایا گیا ہے جو انھوں نے مقامی مجسٹریٹ کے سامنے دیا تھا جس میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ان کی برہنہ ویڈیو بنانے کے بعد ان کو بلیک میل کر کے ان سے ساڑھے گیارہ لاکھ روپے بھتہ لیا۔

اسی مقدمے میں گرفتار ایک ملزم کے بقول اس رقم میں سے چھ لاکھ روپے عثمان مرزا کو جبکہ باقی رقم چھ ملزمان نے آپس میں بانٹ لی تھی۔ سماعت کے دوران متاثرہ لڑکی اور لڑکے کے وکیل حسن جاوید شورش بھی موجود تھے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں گرفتار تین ملزمان، جن میں حافظ عطا الرحمن، قیوم بٹ اور فرحان شاہین شامل ہیں، کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اتنے سنگین جرم میں ملوث افراد ضمانت کے مستحق نہیں ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ عدالت کو حکم دیا ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر اس مقدمے پر عدالتی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اس کا فیصلہ سُنائیں۔

اس مقدمے میں دو ملزمان ضمانت پر ہیں جن میں سے ایک کی ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبکہ دوسرے ملزم کی ضمانت کی درخواست اسلام آباد کی مقامی عدالت نے منظور کی تھی۔

واقعے کا پس منظر

رواں سال جولائی میں پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک لڑکا لڑکی پر تشدد اور انھیں ہراساں کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں عثمان مرزا سمیت دیگر ملزمان کو اس جوڑے پر تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے ملزمان کو حراست میں لے لیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مذکورہ ویڈیو کے کچھ کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم اور اس کے ساتھی ایک کمرے میں نوجوان لڑکے اور لڑکی پر تشدد کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں ملزم لڑکے اور لڑکی کو گالیاں دیتے ہیں اور ان کے چہرے پر بار بار تھپڑ مارتے ہیں۔

یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ دونوں کے کپڑے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں اور انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

ویڈیو میں دکھائی دینے والے متاثرہ افراد خوفزدہ ہیں اور بارہا ان سے درگزر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاتون سسکیاں لیتے ہوئی روتی ہے مگر ملزم مسلسل ان سے بدتمیزی سے پیش آتا ہے اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ان پر تشدد جاری رکھتا ہے۔

ویڈیو کے اختتام پر ملزم متاثرہ افراد کو اپنے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر انھیں ‘اچھے طریقے سے گڈ بائے’ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جب لڑکا کہتا ہے کہ اسے ‘چکر آ رہے ہیں’ تو ملزم اس سے مزید بدسلوکی کرتا ہے۔

اگلے چند ماہ میں ہونے والی تفتیش کی روشنی میں پولیس نے 25 ستمبر کے روز مقامی عدالت میں جمع کروائے گئے چالان میں کہا گیا ہے کہ ‘ملزم عثمان مرزا نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اسلحہ کے زور پر نہ صرف اس جوڑے کو برہنہ کیا بلکہ انھیں اس حالت میں تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور اس چالان میں عثمان مرزا کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا۔

پولیس کے تفتیشی چالان میں مرکزی ملزم عثمان مرزا کے بیان کو بھی حصہ بنایا ہے جس میں انھوں نے دوران تفتیش پولیس کے سامنے انکشاف کیا کہ 18 اور 19 نومبر 2020 کی درمیانی رات میں یہ ویڈیو بنائی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں