61

پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہوسکتا ہے ؟؟

پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہوسکتا ہے ؟؟

(ڈیلی طاِب)

پاکستان میں سب سے طاقتور عہدہ چیف آف آرمی اسٹاف کا سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر 2022 میں ریٹائر ہونے جارہے ہیں اور اس کے بعد ایک پھر قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہوگا

جبکہ دوسری جانب ذرائع کے مطابق یہ بھی امکان ہے کہ آرمی چیف کا انتخاب سنیارٹی کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ وزیراعظم عمران خان اپنی مرضی سے انتخاب کا فیصلہ کریں
تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کی نومبر 2022 میں ریٹائرمنٹ کے بعد تین سنیئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز ساحر شمشاد، اظہر عباس اور نعمان محمود کی مدت ملازمت بھی اپریل 2023 میں ختم ہو جائے گی۔ تاہم نومبر 2022 میں بطور آرمی چیف جنرل باجوہ کی دوسری مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے وزیراعظم عمران خان کو نئےآرمی چیف کو منتخب کرنا ہوگا۔

اگلے آرمی چیف کے نام کے حوالے سے بحث ایک مرتبہ پھر تب شروع ہوئی جب 7 ستمبر 2021 کو پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر تقرریاں اور تبادلوں کی خبر سامنے آئی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق لیفیٹننٹ جنرل اظہر عباس کو چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کیا گیا ہے، اس سے قبل وہ کور کمانڈر راولپنڈی فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل محمد وسیم اشرف کو ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز تعینات کیا گیا ہے، وہ کور کمانڈر ملتان فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو کور کمانڈر راولپنڈی تعینات کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے وہ چیف آف جنرل اسٹاف کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ لیفیٹننٹ جنرل محمد چراغ حیدر کو کور کمانڈر ملتان تعینات کردیا گیا، وہ بطور ڈی جی جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق اس بات کہ امکانات روشن ہیں کہ نئے آرمی چیف کا انتخاب سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں ہوگا اور حالیہ واقعات بھی اسی بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ لیفٹیننٹ جنرلز کی سنیارٹی لسٹ میں اس وقت چوتھے نمبرپر موجود آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پاکستان کے نئے آرمی چیف ہوسکتے ہیں ۔

واضح رہے کہ آرمی چیف بننے کے لیے ضروری ہے کہ جنرل فیض حمید کوئی کور کمانڈ کریں۔ ذرائع کے مطابق جنرل فیض حمید کو قانونی اہلیت دلوانے کے لیے مستقبل قریب میں کورکمانڈر بنایا جاسکتا ہے

وہیں دوسری جانب جنرل فیض حمید کی جگہ آئی ایس آئی چیف بنانے کے لیے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اور ڈی جی ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذاکر کے نام زیر گردش ہیں

اب ذرا بات کرلیتے جنرل فیض حمید کی 16 جون 2019 کو آئی ایس آئی چیف مقرر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سے قبل پنڈی میں 10 کور کے چیف آف سٹاف، پنوں عاقل میں جنرل آفیسر کمانڈنگ اور آئی ایس آئی میں ہی ’سی آئی‘ یعنی کاؤنٹر انٹیلیجنس سیکشن کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی تعینات

یاد رہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل باجوہ نومبر 2016 میں جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ پر تین سال کی مدت کے لئے آرمی چیف بنے تھے۔ جنرل باجوہ نے آرمی چیف کی حیثیت سے 29 نومبر 2016 کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

اس سے قبل وزارت دفاع کی جانب سے وزیراعظم کو نئے آرمی چیف کے لیے 5 سینئر موسٹ لیفٹیننٹ جنرلز کی سمری بھیجی گئی تھی جن میں پہلے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات سب سے سینئر تھے جبکہ دیگر سینئر افسران میں لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے اور لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق کا نام شامل تھا۔ لیکن نواز شریف نے بطور وزیراعظم جنرل قمر جاوید باجوہ کو آوٹ آف پروموشن دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ان کی مدت ملازمت پوری ہونے پر وزیر اعظم عمران خان نے جنرل باجوہ کو دوسری مدت کے لیے تین سال کی توسیع دی دی تھی۔ بعد ازاں معاملہ عدالت میں جانے کے باعث ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے بھرپور تعاون کی بدولت تبدیلی حکومت نے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کو نہ صرف آئینی تحفظ دیا بلکہ آرمی چیف اور دیگر سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کی بنیاد بھی رکھ دی۔ اب جنرل باجوہ نومبر 2022 تک چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چونکہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت ختم ہونے سے قبل ہی 10 سنیئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز ریٹائرڈ ہوجائیں گے اور باقی ماندہ 18 جرنیلوں کی ریٹائرمنٹ بھی 2025 تک متوقع ہے لہذا ممکن ہے کہ نومبر 2022 میں وزیراعظم جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں مزید ایک یا دوسال کی توسیع کردیں۔ تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اس بات کا قوی امکان ہے کہ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر موجود ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینخنٹ جنرل فیض حمید کو نیا آرمی چیف مقرر کردیا جائے۔
خیال رہے کہ اس وقت پاک آرمی میں سنیئر جرنیلوں یعنی لیفٹیننٹ جنرلز کی تعداد تقریباً 28 ہے۔ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت ختم پونے سے قبل ہی ان میں سے دس لیفٹیننٹ جنرلز ریٹائرڈ ہوجائیں گے جبکہ باقی ماندہ کی ریٹائرمنٹ 2025 تک متوقع ہے۔ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے پہلے تین یا چھ سنیئر موسٹ لیفٹیننٹ جنرلز کے نام آرمی چیف کے عہدے کے لئے زیر غور لائے جائیں گے۔
موجودہ روایت کے مطابق سبکدوش ہونے والا آرمی چیف ہی اپنے ادارے کے تین یا چھ سنیئر موسٹ جرنیلوں کی فہرست وزیراعظم کو فراہم کرتا ہے۔ یون جنرل باجوہ کو 2019 کے بعد 2022 میں اپنے اپنی جگہ لینے والوں کی ممکنہ لسٹ فراہم کرنے کا ایک موقع ملے گا۔

واضح رہے کہ اس وقت آرمی چیف جنرل باجوہ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل ندیم رضا کے بعد کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا سب سے سنیئر جرنیل ہیں اور اگر وزیراعظم سنیارٹی پرنسپل کے مطابق چلیں تو اگلے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا ہوں گے۔ اس سے قبل ساحر چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر فائز تھے۔ سنیارٹی میں دوسرے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس ہیں جنہیں 7 ستمبر 2021 کو چیف آف جنرل اسٹاف تعینات کیا گیا ہے، اس سے قبل وہ کورکمانڈر راولپنڈی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ تیسرے نمبر پر موجودہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود ہیں۔ تاہم یہ تینوں جرنیل اپریل 2023 میں ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ موجودہ آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید موجودہ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں۔

البتہ، ضروری نہیں کہ اُنہیں چار میں سے کسی کو آرمی چیف بنایا جائے۔ سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر موجود لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر اس وقت ایڈجوٹنٹ جنرل ہیں، وہ 12 دسمبر 2023 کو ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل محمد چراغ حیدر سنیارٹی کے اعتبار سے چھٹے نمبر پر ہیں اور 12 دسمبر 2022 کو ریٹائرڈ ہوں گے۔ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کا سنیارٹی لسٹ میں ساتواں نمبر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں