37

کنہیا کمار: ’انڈیا سے نہیں انڈیا میں آزادی‘ کی بات کرنے والے نوجوان کی کانگریس میں شمولیت سے انڈیا کے سیاسی منظرنامے پر کیا اثر پڑے گا؟

کنہیا کمار: ’انڈیا سے نہیں انڈیا میں آزادی‘ کی بات کرنے والے نوجوان کی کانگریس میں شمولیت سے انڈیا کے سیاسی منظرنامے پر کیا اثر پڑے گا؟

(ڈیلی طالِب)

مہینوں کی قیاس آرائیوں کے بعد دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طالب علم رہنما اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن کنہیا کمار گذشتہ روز کانگریس پارٹی میں شامل ہو گئے۔

ماضی میں ایک طالب علم رہنما کی حیثیت سے وہ کانگریس اور حکمران جماعت بی جے پی دونوں کے خلاف آواز اٹھایا کرتے تھے اور انڈیا کے سیاسی منظر نامہ پر اس وقت نمایاں ہوئے تھے جب 2016 میں بی جے پی انتظامیہ نے انھیں ’انڈیا مخالف‘ نعرے لگانے پر گرفتار کر لیا تھا۔

منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ملک بچانے کے لیے کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘ہم انڈیا کی سب سے زیادہ جمہوری پارٹی میں اس لیے شامل ہو رہے ہیں کہ اگر کانگریس نہیں بچی تو یہ ملک نہیں بچے گا۔’

انھوں نے مزید کہا کہ صرف کانگریس ہی مہاتما گاندھی اور بھیم راؤ امبیدکر کے خوابوں کو بچا سکتی ہے۔

وہ 2016 میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ یونین کے صدر تھے اور سٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا کی نمائندگی کرتے تھے جو کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کا طلبہ ونگ ہے۔

یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد انھوں نے سی پی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی اور 2019 میں پارلیمانی انتخابات لڑے تھے لیکن بی جے پی کے امیدوار سے بڑے فرق سے ہار گئے تھے۔

کنہیا کمار کون ہیں؟

کنہیا کمار سیاسی منظر نامہ پر اس وقت نمایاں ہوئے جب ان پر اور عمر خالد جیسے جے این یو کے طالب علم رہنماؤں پر یونیورسٹی میں آزادی کے نعرے لگانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

کنہیا کو فروری 2016 میں ملک سے بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت میں کنہیا پر کئی مرتبہ حملہ کیا گیا جس میں وکلا بھی شامل تھے۔ بالآخر انھیں مارچ میں ضمانت مل گئی اور ان کی رہائی کے بعد ملک میں ان کے بارے میں مزید تجسس پیدا ہوا۔

اپنی رہائی کی شام یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’انڈیا سے آزادی نہیں، انڈیا میں آزادی چاہیے۔‘ وہ اپنی تقریر میں واضح طور پر بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف مؤقف اختیار کرنے سے خوفزدہ نہیں تھے جبکہ ان دنوں دائیں بازو کی پارٹی اپنے عروج پر تھی۔

ان کی تقریر، جو کہ وسیع پیمانے پر روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر تشہیر ہوئی نے انھیں فوری طور پر قومی سطح پر مشہور کر دیا اور وہ ان سبھی لوگوں کے علامتی ترجمان بن گئے جو بی جے پی کے فرقہ وارانہ پالیسیوں کے مخالف تھے۔

انھیں جلد ہی نیوز چینلز اور ادبی تقریبات میں مدعو کیا جانے لگا۔ انھوں نے انڈیا کی مشرقی ریاست بہار میں غربت میں اپنی زندگی سے لے کر جے این یو پہنچنے تک اور اس کے صدر بننے تک کے اپنے سفر پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔

وہ کانگریس میں کیوں شامل ہوئے؟

وہ سی پی آئی کے ٹکٹ پر اپنے آبائی ضلع بیگوسرائے سے پارلیمانی انتخابات لڑے لیکن بڑے فرق سے بی جے پی رہنما سے ہار گئے۔

سی پی آئی اور دیگر بائیں بازو کی جماعتیں اس وقت تاریخی پستی کا شکار ہیں اور ان کی نوجوانوں میں اپنی مقبولیت بہت حد تک کھونے والی سی پی آئی میں شمولیت کو اس وقت پارٹی میں نئے خون کے تعارف کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

لیکن سی پی آئی اور بائیں بازو کی دیگر جماعتیں عوامی سطح پر محنت کرنے والے رہنماؤں کو ترجیح دیتی ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کی قومی ایڈیٹر اور اخبار کے لیے قومی سیاست پر لکھنے والی سینئیر صحافی سنیترا چودھری کا کہنا ہے کہ ’کنہیا کے لیے ان کا اب تک کا سفر مایوس کن رہا ہے۔ وہ سی پی آئی میں بندھے بندھے محسوس کر رہے تھے۔ یہ پارٹی شخصیات پر مبنی پارٹی نہیں ہے۔‘

کانگریس میں ان کی شمولیت کو انڈیا میں بائیں بازو کی جماعتوں کے زوال کے ایک اور مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بائیں بازو کی جماعتوں کا طریقہ کار ان کے لیڈروں سے سینیئر سطح پر پہنچنے سے پہلے ان سے زمینی سطح پر کام کرنے کی امید رکھتا ہے جس کے وجہ سے بہت سے نوجوان اور خواہش مند رہنماؤں نے بی جے پی اور کانگریس جیسی بڑی جماعتوں کا رخ کیا ہے۔

تاہم کانگریس کی مقبولیت اس کی تاریخ کی سب سے کم ترین سطح پر ہے لیکن اب بھی قومی سطح پر یہ ہی ایک واحد جماعت ہے جس کے پاس بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اور اقتصادی وسائل ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کے مخالف کئی بائیں بازو کے لیڈر کانگریس کی جانب رخ کرتے ہیں۔ جے این یو کا مضبوط طلبہ یونین بہت سے طالب رہنماؤں کو اپنے سیاسی کیریئر کا لانچ پیڈ فراہم کرتا ہے۔

متعدد طلبا رہنما جے این یو میں طلبہ سیاست سے فارغ التحصیل ہو کر قومی سیاست میں داخل ہوئے ہیں اور ان میں سے متعدد رہنما بائیں بازو کی جماعتوں یا کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔

جے این یو سے آنے والے معروف بائیں بازو کے رہنماؤں میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے پرکاش کرات اور سیتارام یچوری شامل ہیں۔

کانگریس میں جے این یو ایس یو کے سابق صدر اور بائیں بازو کے طلبہ ونگ اے آئی ایس اے کے رہنما سندیپ سنگھ اب سینئیر کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کے سیاسی مشیر اور طالب علم یونین کے سابق نائب صدر موہت پانڈے اب یوپی سوشل میڈیا ونگ کے سربراہ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

کنہیا کی کانگریس پارٹی میں شمولیت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ گذشتہ مہینوں میں پارٹی کی کئی نوجوان لیڈروں نے قیادت کے خلاف بغاوت کی ہے یا دوسری جماعتیں مثلاً بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔

کنہیا کانگریس کے مقابلے میں بی جے پی کی پالیسیوں کے زیادہ مخالف رہے ہیں جو ان کے مطابق فرقہ وارانہ ہیں۔

کانگریس کے ترجمان انشول ایوجیت کا کہنا ہے کہ کانگریس کے خلاف ان کی ماضی کی مخالفت سے زیادہ بی جے پی اور ہندو دائیں بازو کی سیاست کے خلاف ان کی سخت مخالفت ہے جو انھیں جماعت کے لیے قابل قبول بناتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘زیادہ طاقتور بیانیہ ہندوتوا مخالف بیانیہ ہے۔ یہ ایک طاقتور بیانیہ ہے جو ہم خیال لوگوں یا ہم خیال جماعتوں کو ایک ساتھ لاتا ہے۔

‘ایسا نہیں ہے کہ آپس میں کوئی تفرقہ نہیں ہے لیکن جب ہم اپوزیشن اتحاد کی بات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جو بھی فیصلہ کریں اس پر سبھی مکمل طور پر متفق ہوں۔ ہاں ایک وسیع پالیسی پر سبھی متفق ہوتے ہیں۔’

ایوجیت نے زور دیا کہ ‘ہم سبھی کے لیے دسترخوان بچھاتے ہیں جو بھی ہماری طرح سوچتا ہے۔’

کنہیا کہ کانگیرس میں شمولیت سے کس کا فائدہ؟

سنیترا کا کہنا ہے کہ کنہیا کو امید ہے کہ کانگریس انھیں ایک بڑا پلیٹ فارم دے گی۔ یہ کانگریس میں شمولیت کے بعد ان کی پہلی پریس کانفرنس میں ہی نظر آیا جس میں انھوں نے میڈیا کی توجہ کو اپنے حق میں استعمال کیا۔

وہ کہتی ہیں ‘اگر آپ کل کی پریس کانفرنس (کانگریس میں شامل ہونے کے بعد ان کی پہلی پریس کانفرنس) کو دیکھیں تو کنہیا کئی لحاظ سے کامیاب رہے۔ انھوں نے نوجوت سنگھ سدھو (جنھوں نے پارٹی سے حال میں ہی استعفیٰ دیا تھا) کے بارے میں تمام سوالات سے بچنے میں کامیابی حاصل کی اور اس کے بجائے اپنی بات کی۔’

ان کا کہنا ہے کہ کانگریس ایسے نوجوان لیڈروں کی تلاش میں ہے جو پارٹی کی قیادت کے خیالات کی پر زور انداز میں حمایت کر سکیں۔

سنیترا بتاتی ہیں کہ راہل گاندھی اور ان کی ٹیم کو لگتا ہے کہ پارٹی میں نسلی (جینیریشنل) تبدیلی کی ضرورت ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘کانگریس کے روایتی رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے ایجنڈے کے بارے میں کسی کو برا بھلا بولے بغیر یا سختی سے بولے بغیر بھی نریندر مودی پر جارحانہ حملہ کر سکتے ہیں۔

‘راہل کو لگتا ہے کہ ان کی پارٹی کے لوگ مودی پر سخت طریقے سے حملہ نہیں کرتے ہیں، مثال کے طور پر سنہ 2019 کے انتخابات سے پہلے مودی کے خلاف راہل کا نعرہ چوکیدار چور ہے۔’

وہ کہتی ہیں کہ کنہیا کے روپ میں انھیں ایک ایسا شخص ملا ہے جو قیادت کے نقطہ نظر کو طاقتور طریقے سے آگے بڑھا سکتا ہے۔ ‘

وہ کہتی ہیں کہ ‘کنہیا اس قسم کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں جو راہل گاندھی فروغ دیتے ہیں اور جو کہ کافی آر ایس ایس مخالف اور مودی کے خلاف محاذ آرائی کا موقف ہے۔ راہل اس طرح کی نوجوان قیادت کی تلاش میں ہیں۔’

اوجیت کا کہنا ہے کہ ایک پارٹی کے طور پر ہمیں اسے ہر طرح سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ‘تاکہ ہم اقتدار میں موجود پارٹی کے عسکری نظریہ اور اس کے پس منظر میں پورے فلسفے کا مقابلہ کر سکیں۔’

وہ بی جے پی کے نظریاتی جماعت آر ایس ایس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘وہ 100 سالوں سے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور آخر کار وہ کچھ حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ہمیں اس کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ یہ ملک کے لیے انتہائی تباہ کن ہے۔’

فلمساز نکول سنگھ ساہنی، جو کہ ماظی میں طلبہ سیاست میں شامل رہے ہیں اور کنہیا کی انتخابی ریلیوں کو کور کیا، کا خیال ہے کہ کنہیا کی کانگریس میں شمولیت مختصر مدت میں دونوں کے لیے فائدہ مند ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘کنہیا میں کانگریس کو ایک قابل مقرر ملا ہے۔

کانگریس کے پاس بی جے پی پر حملے کرنے کے لیے سپیکروں کی کمی ہے اور کنہیا ایک عظیم خطیب ہیں۔ وہ الفاظ کو ذہین طور پر استعمال کرنا جانتے ہیں اور حقائق اور اعداد و شمار پر مبنی باتیں کرتے ہیں۔’

کنہیا نوجوانوں میں خاص طور پر سوشل میڈیا پر مقبول ہیں۔ ان کی تقریر سادہ ہوتی ہے اور وہ ایسے محاورے استعمال کرتے ہیں جس سے انڈیا کی ایک بڑی اکثریت وابستہ ہے لیکن جسے کانگریس پارٹی کے سینئر ارکان بھی استعمال کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

ساہنی کہتے ہیں کہ ‘میں نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کنہیا کے تقریروں نے نوجوانوں کو، خاص طور پر جو کہ بی جے پی مخالف ہیں، مؤثر جوابات فراہم کیے ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘کنہیا وہ زبان بول رہے ہیں جو عام طور پر بائیں بازو کی عام طور پر بورنگ زبان کے برعکس ہے۔ یہ کانگریس کی بھی زبان نہیں ہے۔’

ان کا کہنا ہے کہ کنہیا کے بیانات سے بہت سے نوجوانوں کو امید ملی تھی کہ سیاسی منظر پر کچھ نیا سامنے آئے گا۔ ‘لیکن ان کے کانگریس میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سیاست میں نئی خیالات لانے والوں پر آسانی سے یقین نہیں کریں گے۔ ان کے اس قدم سے کم از کم فی الحال کے لئے تو کسی نئے متبادل ابھرنے کے امکان کو بند کر دیا ہے۔’

یہ قیاس لگایا جا رہا ہے کہ کنہیا راجیہ سبھا کی نشست کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی سابق جماعت سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے خبر رساں اجنسی سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ کنہیا نے ‘خود کو میری پارٹی سے نکال لیا ہے۔ سی پی آئی ایک ایسے معاشرے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے جو کہ ذات پات اور طبقے سے پرے ہے۔ ان کے کچھ ذاتی عزائم اور خواہشات ہوں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں کمیونسٹ اور ورکنگ کلاس طبقے کے نظریات پر یقین نہیں ہے۔’

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کانگریس کی مرکزی قیادت انہیں کس قسم کی زمیداری دیگی سنیترا کا کہنا ہے کہ پارٹی انہیں زمینی سطح پر بطور لیڈر استعمال کرنا چاہے گی۔ وہ کہتی ہیں کہ تاہم بہار کا الیکشن حال ہی میں منعقد ہوا ہے، کانگریس شاید فی الحال انہیں ایک ترجمان کے طور پر استعمال کرے گی۔

اس سے انھیں بہار میں پارٹی کی قیادت جو کہ تقریبا غیر موجود ہے کو سمبھالنے کا وقت بھی مل جایئگا۔ شاید یہ اسی جانب ایک شروعات ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں