53

وزیرکے قافلےکی گاڑی تلےکچلے جانیوالےکسانوں کے حق میں احتجاج پر سدھو گرفتار.

وزیرکے قافلےکی گاڑی تلےکچلے جانیوالےکسانوں کے حق میں احتجاج پر سدھو گرفتار

(ڈیلی طالِب)

بھارتی سیاستدان و سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کو اترپردیش میں وزیر کے قافلے کی گاڑی تلےکچل کر ہلاک ہونے والےکسانوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج پر گرفتار کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے احتجاج کے دوران حکمران جماعت بھارتیہ جنتہ پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے جونیئر وزیر داخلہ اجے مشرا کے قافلے کی گاڑی مظاہرین پر چڑھ دوڑی تھی جس سے 4 کسان ہلاک ہوگئے۔

مقامی پولیس کے مطابق واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے کار کو آگ لگائی جس سے کار میں موجود 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

مذکورہ واقعے کے خلاف کانگریس کے رہنما اور بھارتی پنجاب کی ریاستی اسمبلی کے رکن نوجوت سنگھ سدھو دیگر ارکان اسمبلی کے ہمراہ چندی گڑھ میں گورنر ہاؤس کے باہر بی جے پی حکومت کے خلاف اور کسانوں کی حمایت میں احتجاج کے لیے پہنچ گئے اور وہاں دھرنا دے دیا۔

اس موقع پر نوجوت سدھو کے ساتھ موجود مظاہرین اور دیگر ارکان اسمبلی نے مودی سرکار اور یوپی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور جونیئر وزیر داخلہ اجے مشرا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی اور سدھو سمیت کانگریس کے دیگر ارکان اسمبلی اور سیاسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

پولیس وین میں موجودگی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوت سدھو کا کہنا تھا کہ کیا کسانوں کو قتل کرنے والوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرنا جرم ہے؟ یہ میرا بنیادی حق ہے کہ میں کسانوں کے لیے آواز بلند کروں، نوجوت سدھو کا کہنا تھا کہ حکومت کسانو ں کے خلاف اپنی آمرانہ سوچ مسلط کررہی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے مختلف حصوں میں کسان حکومت کی زرعی پالیسی کے خلاف کئی ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں جب کہ مودی سرکار کا کہنا ہے کہ حکومت کی زرعی پالیسی سے کسانوں کو فصلوں کے بہتر دام ملیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں