61

پاکستانی سرحد پر موجود ہزاروں افغان شہریوں کی دم توڑتی امیدیں.

پاکستانی سرحد پر موجود ہزاروں افغان شہریوں کی دم توڑتی امیدیں

(ڈیلی طالِب)

افغانستان میں مصائب اور مالی مشکلات سے دوچار ہزاروں افغان شہری پاکستان کے ساتھ سرحد کا رخ کر رہے ہیں لیکن اقتدار کی مسند پر موجود طالبان انہیں سرحد عبور کرنے سے روک رہے ہیں۔

پاکستان سے صرف چند سومیٹر کے فاصلے پر واقع افغان تجارتی قصبے سپین بولدک میں کچی سڑک پر بیٹھے ذکری اللہ کا کہنا ہے کہ انہیں چھ سے زائد مرتبہ واپس کر دیا گیا، جس میں کبھی کبھی پرتشدد انداز بھی اپنایا گیا۔

25 سالہ کسان اور تین بچوں کے والد ذکری اللہ نے اے ایف پی کو بتایا: ’وہ (طالبان) کہتے ہیں کہ صرف علاقے کے لوگ کاغذات کے ساتھ ہی جا سکتے ہیں۔ ہم وہاں کام کرنے کے لیے جانا چاہتے ہیں کیونکہ یہاں نوکریاں نہیں۔‘

نئے طالبان حکمرانوں کا اصرار ہے کہ افغان شہری ملک میں رہیں اور اس کی تعمیر نو میں حصہ لیں۔

سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 25 سالہ رحمت دین وردک کے مطابق: ’وہ (طالبان) لوگوں کو کہتے ہیں کہ یہ تمہارا ملک ہے۔ تمہیں نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

دوسری طرف چمن میں پاکستان کے سکیورٹی اہلکار بھی سرحد عبور کرنے والوں کو روک رہے ہیں۔

ایک طالبان بارڈر گارڈ مولوی حق یار نے بتایا: ’روزانہ آٹھ سے نو ہزار لوگ ضروری کاغذات کے بغیر سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جنہیں واپس کر دیا جاتا ہے۔‘

قندھار صوبے کے ایک طالبان عہدے دار مولوی نور محمد سعید نے تصدیق کی ہے کہ ’حکام لوگوں اور خاندانوں کو ملک نہ چھوڑنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔‘

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’ایسا کرنے سے آپ اپنی افغان ثقافت کا احترام کھو دیتے ہیں۔

لاٹھی اور پائپ

سرحد پر صرف دیہاڑی دار مزدور اور تاجر بذریعہ ایک تنگ راہ داری، جو خار دار تار سے لپٹی ہوئی ہے، سے گزر کر اگلی چوکی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

دوسرے مسافروں کے لیے ایک اور راہ داری زیادہ تر خالی پڑی ہے، تاہم بوڑھے اور بیمار مرد اور عورتیں پاکستان میں صحت کی سہولیات کے لیے یہاں سے آ رہے ہیں۔

اگست کے وسط میں طالبان کے کنٹرول اور غیر ملکی امداد خشک ہونے کے بعد بہت سے افغان شہری معاشی بدحالی کے باعث بے چین ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایک تہائی آبادی کو قحط کا خطرہ ہے۔

ذکری اللہ نے، جن کی کھیتی باڑی کا علاقہ کابل صوبے میں 600 کلومیٹر دور ہے، کہا کہ اب انہیں صرف پاکستان میں کام ملنے کی آخری امید ہے۔

بارڈر کراسنگ پر موجود بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، سپین بولدک کے سفر نے ذکری اللہ کی معمولی بچت بھی چھین لی۔

محمد عارف نے بتایا کہ وہ ننگرہار میں اپنا گھر چھوڑ کر آئے ہیں کیونکہ ان کے پاس ’اپنے آٹھ بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے پیسے نہیں۔‘

نازک صورتحال

کرونا وبا اور افغانستان میں حالیہ پیش رفت سے قبل سرحد معمولی پابندیوں کے ساتھ زیادہ تر کھلی رہتی تھی، جس کے ذریعے روزانہ دسیوں ہزار لوگ آتے جاتے تھے۔

لیکن جب طالبان نے سپین بولدک پر قبضہ کیا تو پاکستان نے دروازے بند کر دیے اور پھنسے ہوئے مسافروں کا بہت بڑا ہجوم دونوں طرف جمع ہو گیا۔

یہ کراسنگ اس وقت دوبارہ کھل گئی جب طالبان نے امریکی حمایت یافتہ حکومت کو کابل سے بے دخل کرتے ہوئے اگست کے وسط میں اقتدار سنبھال لیا۔

اس پر مزید افغان شہری طالبان کے سخت گیر انداز حکمرانی کے خوف سے پاکستان جانے کے لیے کراسنگ پر آ گئے۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی یو این ایچ سی آر کے کراسنگ پوائنٹ کی نگرانی کرنے والے سمیع الحق نے کہا کہ ’پہلے تو بہت سے لوگ عبور کرسکتے تھے۔ اس سے پہلے ہمارے پاس ایک دن میں 24 ہزار افراد آتے تھے۔‘

اگست کے آخری دو ہفتوں کے دوران کراسنگ پر پابندیاں نرم تھیں لیکن پھر طالبان اور پاکستان نے انہیں سخت کر دیا۔

جمعرات کو طالبان نے کہا کہ وہ پاکستان کے خلاف احتجاجاً سرحدی دروازے مکمل طور پر بند کر رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں پاکستانی حکام درست کاغذات رکھنے والے افغان شہریوں کو بھی روکتے ہیں۔

جنگ ختم ہونے کے بعد پاکستان میں رہنے والے کچھ افغان مہاجرین وطن واپس لوٹے ہیں۔

تاہم ایجنسی نے پچھلے مہینے کہا تھا کہ وہ سال کے آخر تک پڑوسی ممالک میں پانچ لاکھ ممکنہ مہاجرین کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے سینیئر ایمرجنسی آفیسر برٹرینڈ بلینک نے اسلام آباد میں اے ایف پی کو بتایا: ’اگر ملک کے اندر کوئی تبدیلی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا باعث بن سکتی ہے تو ہمیں تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔‘

’فی الحال ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں