54

بلوچستان میں مبینہ پولیس فائرنگ سے دس سالہ بچہ ہلاک، لواحقین کا لاش سمیت احتجاج

بلوچستان میں مبینہ پولیس فائرنگ سے دس سالہ بچہ ہلاک، لواحقین کا لاش سمیت احتجاج

(ڈیلی طالِب)

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں سنیچر کی صبح مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے بچے کی ہلاکت کے بعد لواحقین نے تربت میں لاش سمیت حکومت کے خلاف دھرنا دے دیا ہے۔

لواحقین کا الزام ہے کہ دس برس کے رامز خلیل سینچر کی علی الصبح اپنے گھر پر پولیس کے ایک چھاپے کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہوئے جبکہ ان کا چھوٹا بھائی بھی زخمی ہوا۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر کرائم برانچ کو ایک مقدمے میں گرفتاری مطلوب تھی اور بچے کی ہلاکت گھر سے گرفتار کیے جانے والے ملزم خلیل کی فائرنگ سے ہوئی۔

واضح رہے کہ رامز بلیدہ کے رہائشی خلیل رند کے بیٹے اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما ظریف رند کے بھتیجے تھے۔

’رامز کے گردن، چھاتی اور ہاتھ پر گولیوں کے نشان تھے‘

بلیدہ ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت سے اندازاً 47 کلومیٹرکے فاصلے پر شمال مغرب میں واقع ہے۔

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما ظریف بلوچ نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے گھر پر علی الصبح پانچ بجے کے قریب چھاپہ مارا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ خود گھر پر موجود نہیں تھے لیکن جب پولیس نے وہاں چھاپہ مارا تو ان کے بھائی اور دیگر رشتہ دار سوئے ہوئے تھے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس کے اہلکاروں نے پہلے گھر کے اندر آنسو گیس کے شیل فائر کیے جس کے بعد فائرنگ کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ان کے ایک بھتیجے پولیس کی فائرنگ سے ہلاک جبکہ دوسرے زخمی ہوئے تاہم بچوں کی والدہ اس کارروائی کے دوران گھر میں آگ لگنے سے زخمی ہوئیں۔

ظریف رند کے مطابق زخمیوں کو بلیدہ میں مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کو بتایا گیا کہ رامز کی موت پہلے ہی ہوچکی تھی۔ ’رامز کے گردن، چھاتی اور ہاتھ پرگولیوں کے نشان تھے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی کی ٹانگ پر ایک گولی لگی۔‘

انھوں نے بتایا کہ گھر کی تلاشی لینے اور توڑ پھوڑ کرنے کے علاوہ پولیس اہلکار بچوں کے والد خلیل رند کو اپنے ساتھ لے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ بچے کی ہلاکت پر بلیدہ میں لوگ مشتعل تھے اس لیے انھوں نے لاش کو اٹھا کر تربت شہر میں لایا اور یہاں فدا احمد شہید چوک پر بچے کی لاش کے ہمراہ دھرنا دے دیا۔

پولیس کا مؤقف کیا ہے؟

ضلع کیچ میں پولیس کے سربراہ ایس ایس پی بہرام مندوخیل کا کہنا ہے کہ گھر پر چھاپے کی کارروائی کیچ پولیس کی نہیں بلکہ کرائم برانچ کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طورپر کرائم برانچ پولیس کو ایک مقدمے میں گرفتاری مطلوب تھی، جس کے لیے کوئٹہ سے کرائم برانچ کی ایک ٹیم آئی تھی جس نے وہاں جا کر چھاپہ مارا لیکن گھر سے پولیس کی ٹیم پر فائرنگ کی گئی۔

ان کے مطابق بچے کی ہلاکت گھر سے گرفتار کیے جانے والے ملزم خلیل کی فائرنگ سے ہوئی جو کہ بچے کے والد بھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گھر پر ہونے والی فائرنگ سے پولیس کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔

تربت میں بچے کی لاش کے ہمراہ دھرنے میں لواحقین، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکن شریک ہیں۔

آل پارٹیز کیچ کے کنوینئر مشکور انور نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر کیچ اور دوسرے حکام یہاں مذاکرات کے لیے آئے اور احتجاج پر بیٹھے افراد کے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ چھاپہ کرائم پولیس کا تھا، جس کی ٹیم کوئٹہ سے آئی تھی اور وہ یہ چھاپہ گھر سے ایک مطلوب شخص کی گرفتاری کے لیے مارا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ پولیس اہلکار ہلاک ہونے والے بچے کے والد خلیل رند کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ کوئٹہ لے گئی حالانکہ ان کے پاس ان کی گرفتاری کا کوئی وارنٹ نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھرنے پر بیٹھے لوگوں کا مطالبہ ہے کہ بچے کے والد کو رہا کیا جائے اور اس بات کی وضاحت کی جائے کہ اگر کسی کی گرفتاری مطلوب تھی تو وہاں فائرنگ کیوں کی گئی؟

انھوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے ذریعے کرائی جائیں۔

ہلاک ہونے والے بچے کے چچا اور بی ایس او کے چیئرمین ظریف رند کا کہنا تھا کہ جو سرکاری حکام مذاکرات کے لیے آئے ان کا یہ کہنا تھا کہ خلیل کے گارڈز نے فائرنگ کی، جس سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر خلیل کے گارڈز تھے تو وہ کہاں گئے اور اگر کوئی پولیس اہلکار زخمی ہوا تو وہ کہاں ہے۔

گذشتہ برس رامز خود بھی ایک احتجاج میں شریک تھے

جب گذشتہ سال مئی میں ضلع کیچ میں ایک گھر پر بظاہر ڈکیتی کی واردات میں فائرنگ کے واقعے میں ایک معصوم بچی برمش کے زخمی ہونے اور اس کی ماں کی ہلاکت کے خلاف بلیدہ میں ایک ریلی منعقد ہوئی تھی اور اس احتجاج میں محض نو برس کے رامز خلیل بھی شریک ہوئے تھے۔

اس ریلی میں رامز ہاتھ میں ایک کتبہ تھامے ہوئے تھے، جس پر درج تھا کہ ’مسئلہ فرد کی گرفتاری سے حل نہیں ہو گا، ہمارا مطالبہ ہے کہ مسلح جتوں (جتھوں) کی پشت پنائی بند کی جائے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں