50

ہم جے آئی ٹی نہیں مانتے، لانگ مارچ جاری رہے گا: شرکا کیچ مارچ

ہم جے آئی ٹی نہیں مانتے، لانگ مارچ جاری رہے گا: شرکا کیچ مارچ

(ڈیلی طالِب)

بلوچستان ضلع کیچ میں ہفتے کے روز پولیس چھاپے کے دوران ایک شخص خلیل کی گرفتاری کے دوران مبینہ فائرنگ سے کمسن بچے رامز کی ہلاکت کے خلاف لواحقین اور دیگر لوگوں نے تربت سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا آغاز کردیا ہے۔

گرفتار ہونے والے شخص خلیل کے بھائی ظریف رند نے بتایا کہ ’انصاف نہ ملنے کے باعث ہم نے مجبوری میں اپنے بچے کی میت کے ہمراہ لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔‘

ظریف رند نے ڈیلی طالِب کو بتایا کہ ’دو اکتوبر کو پولیس نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا۔ اس دوران نہ صرف خلیل کو گرفتار کیا گیا بلکہ کمسن بچے رامز کو فائرنگ سے قتل کر کے چھوٹے بھائی کو زخمی کر دیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’پولیس چھاپے کے دوران فائرنگ سے دس سالہ رامز ہلاک جبکہ آٹھ سالہ رایان خلیل ایک گولی لگنے سے زخمی ہوا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’میرے بھائی خلیل کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ جن کو ہم مسترد کرتے ہیں۔‘ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیل نے اپنے بچے کو خود قتل اور پولیس پر فائرنگ کی۔

ظریف کے بقول ’اگر خلیل نے اپنے بچے کو قتل کیا تو اس کے خلاف قتل کا مقدمہ کیوں درج نہیں کیا گیا۔‘

انہوں نے بتایاکہ واقعہ کے بعد ہم نے دو دن تک دو اکتوبر سے تین اکتوبر تک میت کے ہمراہ شہید فدا چوک تربت پر دھرنا دیا اور آج چار اکتوبر کو کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ شروع کیاگیا۔ ’تربت میں دھرنے کے دوران تین دفعہ ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ ہمارےپاس آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائی کرائم برانچ کی ہے جو ٹیم کوئٹہ سے آئی تھی مزید میرے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔‘

ظریف کے مطابق ’ڈی سی کیچ نے ہمیں کہا کہ وہ خلیل کی ضمانت کے حوالے سے ہماری مدد کریں گے جس پر ہم نے انہیں کہا کہ اگر ہم مقدمہ تسلیم کریں تو ضمانت لیں ہم تو اس کو مانتے ہی نہیں ہیں۔‘

ظریف نے بتایا کہ ’ہم نے لانگ مارچ شروع کیا تو ابھی کچھ دیر پہلے کمشنر مکران ڈویژن ہمارے پاس آئے تھے انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس واقعہ کے حوالے سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے، آپ لانگ مارچ ختم کردیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ہمارے مطالبات میں جے آئی ٹی نہیں بلکہ جوڈیشل انکوائری ہے۔ ’اس لیے ہم نے کمشنر مکران کو کہا کہ ہم جے آئی ٹی کو نہیں مانتے اور لانگ مارچ جاری رہے گا۔ اگر خلیل کو رہا کرکے ہمارے پاس لایا جاتا ہے تو پھر ہم آپ سے بات چیت کرسکتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ ظریف رند بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔

ظریف نے بتایا کہ ’یہ واقعہ پہلا نہیں اس سے قبل 2016 میں میرے چھوٹے بھائی حاصل رند کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، اس سے قبل ہمارے مہمان خانے پر حملہ کیا گیا جن کا مقدمہ درج بھی ہوا لیکن کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ یہ صرف ہمارا نہیں بلکہ بلوچستان کےہر گھر کا مسئلہ بن چکا ہے۔ جس کے لیے ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو آواز بلند کرنی چاہیے۔‘

سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈپٹی کمشنرکیچ حسین جان نے اتوار کی رات شہید فدا چوک پر رامز کی میت کے ساتھ دھرنا پر بیٹھے لواحقین اور آل پارٹیز کی قیادت کے ساتھ مزاکرات کے لیے تیسری کوشش کی۔

انہوں نے دھرنے میں بیٹھے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس واقعے پر بہت افسوس ہے اور وہ فیملی کے غم میں برابرکے شریک ہیں۔ ’یہ واقعہ بہت افسوس ناک اور بدقسمتی کا نتیجہ ہے اسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں بطور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر انصاف کی فراہمی کے لیے شروع دن سے کوشش کررہا ہوں، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور دیگر اعلی حکام تک آپ کے مطالبات بھیج دیے ہیں۔‘

ڈپٹی کمشنر کے مذاکرات کے حوالے سے ظریف رند نے بھی تصدیق کی کہ انہوں نے تین بار مذاکرات کیے اور مطالبات کے حوالے سے رپورٹ حکام کو بھیجنےکے بارے میں بتایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں