56

گلگت بلتستان: کوئی ہے جو صحافت کی ڈوبتی کشتی کو کنارے لگائے؟

گلگت بلتستان: کوئی ہے جو صحافت کی ڈوبتی کشتی کو کنارے لگائے؟

(ڈیلی طالِب)

وینٹی لیٹر پر موجود زندگی کی جنگ لڑتے ہوئے صحافی منظر شگری کے بہتے آنسوؤں نے کرونا وائرس کی صحافت میں تباہ کاریوں کی یوں منظر کشی کی ہے کہ آج گلگت بلتستان کا صحافی زندگی اور موت کی کشمکش میں گھرا ہے۔

سینکڑوں صحافیوں کی زندگیوں کو کرونا وائرس نے نگل لیا ہے اور ہزاروں صحافی اپنے بچوں کو دو وقت کا کھانے کھلانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔اس وائرس کی وجہ سے جہاں کئی صحافیوں کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا ہے، وہیں ہزاروں گھروں کے چولہے بھی بند ہوگئے ہیں۔

گلگت بلتستان کے ہر صحافی کے چہرے پر معاشی پریشانی کے اثرات نمایاں ہیں۔ جیب میں چند روپوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ نہ کوئی نوکری ہے اور نہ تنخواہ کا کوئی سلسلہ اور اگر بات کی جائے ان کی تنخواہوں کی تو بہت سارے صحافی چاہے وہ مقامی میڈیا سے منسلک ہوں یا نیشنل اور انٹرنیشنل اداروں سے وابستہ، آج فری لانس کام کر رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی صحافی جو مختلف اداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ان کو شاید ہی تنخواہ ملی ہو، مگر پھر بھی پریشانیوں میں گِھرے ان صحافیوں نے محدود وسائل میں بھی صحافت جاری رکھی۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان صحافیوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے۔ نہ حکومت کی طرف سے ان کو مالی سپورٹ ملی ہے اور نہ کسی ادارے کی طرف سے اور آج بھی یہ صحافی اپنی مالی جنگ خود لڑ رہے ہیں۔

صحافیوں کی ایک کثیر تعداد نے اپنے اخراجات کو پورا کرنے اور بچوں کو دو وقت کا کھانا کھلانے کے لیے کاروبار میں ہاتھ ڈالا، مگر کاروبار بھی مالی کمزوری کی وجہ سے صحیح طرح سے نہ چل سکے۔

شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی غیرت مندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی مالی پریشانی کا ذکر کسی دوسرے سے کرنے سے گریز کیا۔

جب میڈیا ورکرز سے ان کی مالی پریشانی کی بات چیت کی گئی تو صرف چند ہی صحافیوں نے اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھا اور بعض نے اسے اپنی عزت نفس کو کچلنے کے مترادف جانتے ہوئے خاموش رہنا پسند کیا۔

گلگت شہر میں مقیم ایک صحافی جو ایک مقامی اخبار سے منسلک ہیں، نے بتایا کہ کرونا وائرس کے عروج کے دور میں جب سب کاروبار بند تھے اور لاک ڈاؤن تھا تو انہیں ان کے اخبار کی طرف سے تنخواہ نہیں ملی اور جو ملی اس میں سے بھی کٹوتی کی گئی۔

صحافی سلیم برچہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ہزاروں صحافی اپنے گھروں میں قید ہونے پر مجبور ہوگئے، جس کی وجہ سے ذہنی تناؤ اور ڈپریشن جیسی بیماریاں صحافیوں میں عام ہوگئیں۔

اپنے آپ کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لیے صحافیوں نے بینکوں سے قرضے لے کر کام کا آغاز کیا گیا اور آج تک یہ صحافی بینکوں کے قرضے تلے دبے ہیں۔

گلگت سے صحافی ولیم عباس نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وبا کے دنوں میں تمام پراجیکٹ منسوخ ہوگئے، جس کی وجہ سے انہیں رضاکارانہ طور پر کام کرنا پڑا اور مالی مشکلات آڑے آئیں، جس کی وجہ سے انہوں نے بینک سے قرضہ لیا اور آج وہ اپنے قرضہ واپس کرنے کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کرونا کے دوران صحافی اپنی زندگیوں کو اپنی ہتھیلی پر رکھ کے گھومتے رہے۔

سکردو سے تعلق رکھنے والے صحافی عابد شگری نے بتایا کہ انہیں ہر وقت اپنی جان کی فکر رہتی ہے۔ بحیثیت صحافی انہیں قرنطینہ سینٹر جانا پڑا، کرونا کے مریضوں سے ملنے کے لیے ہسپتالوں کا وزٹ کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کی زندگی رسک پر رہی اور انہیں گھر والوں اور بچوں سے بھی دور رہنا پڑا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان کے صحافیوں کی آمدنی مختلف طریقوں پر منحصر ہے، جیسا کہ وہ صحافت کے ساتھ ساتھ سٹیشنری کا کام بھی کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے کووڈ 19 کے دنوں میں تمام سکول بند ہونے کی وجہ سے سٹیشنری کے کاروبار میں بھی انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔

گلگت بلتستان کے پریس کلب کے صدر نے اس حوالے سے بتایا کہ یہاں کے صحافی مالی طور پر بہت بری طرح تباہ ہوئے اور میڈیا اداروں کے دفاتر کو بھی تالے لگ گئے۔

چلاس سے صحافی مجیب الرحمٰن نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دو مرتبہ کرونا کا شکار ہوئے، جس کی وجہ سے ان کے صحافتی امور میں خلل پیدا ہوا اور ان کے لیے صحافتی ذمہ داریاں سر انجام دینے میں کافی مشکلات پیدا ہوئیں اور کافی عرصے آئیسولیشن میں رہنے کی وجہ سے صحافتی ذمہ داریاں بھی ادا نہیں کرسکے۔

گلگت کے صحافی بشارت حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرونا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے انہیں آمدورفت میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر اپنے صحافتی امور کی انجام دہی کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے ٹیکسی کرکے جانا پڑتا تھا، جس کا کرایہ بھی ان کی جیب پر بوجھ تھا۔

گلگت سے سینیئر صحافی شبیر میر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کے دنوں میں خاص کر لاک ڈاؤن میں جب تمام لوگ گھروں میں تھے اور لوگوں کا واحد سہارا موبائل بن چکا تھا، اس وقت ہم نے اپنے یو ٹیوب چینل کے لیے دن رات ایک کرکے انٹرویو کیا اور عوام کو مصروف رکھا اور تمام معلومات سے آگاہ کرتے رہے، جس سے ہمارے چینل پر پروگرام دیکھا گیا اور لوگوں نے ہمارے پروگرام کو سراہا۔یوں صرف سٹوڈیو میں بیٹھ کر ہی ہم نے اپنا کام جاری رکھا۔

ہنزہ سے جیو نیوز کے صحافی علی احمد نے اس حوالے سے بتایا کہ چینل نے پہلے ہی تنخواہ بند کر رکھی تھی، کرونا کے دوران مقامی کاروبار بھی سب بند ہو چکے تھے، لہذا کام نہ ملنے سے گھریلو اخرجات پورا کرنا مشکل ہوا اور رشتہ داروں سے امداد لے کر گھر کے اخراجات پورے کیے۔

گلگت پریس کلب کے صدر خورشید احمد نے اس حوالے سے بتایا کہ سینکڑوں صحافیوں نے مہینوں کی تنخواہ نہ ملنے کے وجہ سے نوکریوں کو خیرباد کہہ دیا۔ اس کے علاوہ اخبارات کو بروقت اشتہارات کی ادائیگی نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے براہ راست ورکنگ صحافی متاثر ہوئے اور ان کی تنخواہیں نہیں ملی۔

غذر سے پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عابد کے مطابق یہاں کرونا سے متاثر ہونے والے صحافی تین تھے، جو محکمہ صحت غذر کے جانب سے قائم کردہ آئسولیشن وارڈ میں تین ہفتوں تک داخل رہے۔

گلگت بلتستان کے پسماند ترین ضلعے استور میں بھی کرونا وائرس کے باعث جہاں کاروباری مراکز بند ہوئے، لوگ بے روزگار ہوئے اور درجنوں اموت ہوئیں، وہیں پر استور کے فرنٹ لائن کے سپاہی یعنی صحافی بھی سخت مشکلات سے دو چار ہوئے۔

اس ضمن میں استور کے ایک صحافی سبخان سہیل، جو بول نیوز اور روزنامہ کے ٹو کے بیورو چیف اور پریس کلب کے سابق صدر رہ چکے ہیں، کرونا وائرس کے باعث دو مہینے تک ہسپتال میں ایڈمٹ رہے اور سخت مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔

استور کے پانچ صحافیوں کے کرونا کے باعث گھروں کے چولہے بند ہوئے اور اداروں کی جانب سے ملنے والے پیکج بھی بند ہوگئے۔

قصہ مختصر یہ کہ گلگت بلتستان کے صحافیوں کو کرونا وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران شدید معاشی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر نہ ہی صوبائی حکومت نے اور نہ ہی وفاقی حکومت سے کسی قسم کی گرانٹ یا مدد فراہم کی گئی، جس کی وجہ سے گلگت بلتستان کا شعبہ صحافت اَن گنت مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہے۔کوئی ہے جو صحافت کی اس ڈوبتی کشتی کو کنارے لگائے؟ا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں