66

افغانستان میں تالبان: کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والے افغان آرمی کے کرنل کا تاحال سراغ نہیں مل سکا

افغانستان میں طالبان: کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والے افغان آرمی کے کرنل کا تاحال سراغ نہیں مل سکا

(ڈیلی طالِب)

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان پہنچنے اور پھر کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والے افغان آرمی کے ایک کرنل کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں موجود افغان قونصل خانے نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ شہر کے مصروف ترین منان چوک سے افغان فوج کے ایک کرنل سردار محمد ہوتک کو ’نامعلوم مسلح افراد ساتھ لے گئے تھے اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔‘

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ وہ معلومات اکٹھی کر کے ہی اس واقعے پر بیان دیں گے تاہم بعد میں انھوں نے نہ بارہا رابطے کے باوجود جواب نہیں دیا جبکہ بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا لانگو نے اس واقعے کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

کوئٹہ میں افغانستان کے قائم مقام قونصل جنرل عبدالخالق ایوبی کے مطابق اُنھیں پاکستانی حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ لاپتہ کرنل ’اُن کے پاس نہیں ہیں۔‘

افغانستان کے صوبے زابل سے تعلق رکھنے والے افغان آرمی کے کرنل سردار محمد ہوتک دیگر سینکڑوں افغان شہریوں کی طرح افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد بیرون ملک جانا چاہتے تھے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ افغان آرمی کے یہ کرنل پاکستانی ویزے پر آئے تھے یا پھر غیر قانونی راستے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

سردار محمد ہوتک کے ایک رشتہ دار کے مطابق وہ افغانستان کے صوبے زابل میں افغان آرمی سے منسلک تھے اور اب امریکہ جانا چاہتے تھے۔ کوئٹہ میں افغان قونصلیٹ کے حکام کے مطابق سردار محمد ہوتک نے اپنا نیا پاسپورٹ 21 ستمبر کو کوئٹہ میں واقع افغان قونصلیٹ سے حاصل کیا تھا۔

زابل سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار محمد ہوتک کے بھائی نے بتایا کہ ’ان کے بھائی کو کوئٹہ شہر کے منان چوک سے نامعلوم افراد نے 21 ستمبر کو اغوا کیا ہے اور تاحال کسی نے اُن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی ہیں۔‘

کوئٹہ میں پشتون قوم پرست پارٹی کے ایک کارکن نصیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سردار محمد ہوتک اُن کے دوستوں کے ساتھ کوئٹہ میں رہ رہے تھے اور 21 ستمبر کو منان چوک سے نامعلوم افراد انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے ایک ساتھی سردار محمد ہوتک کے ساتھ افغان قونصلیٹ گئے تھے، جہاں وہ اپنے پاسپورٹ کی تجدید کروانا چاہتے تھے۔ واپسی پر جب وہ منان چوک پہنچے ہیں تو ایک گاڑی میں سوار کچھ لوگ انھیں اپنے ساتھ لے گئے۔‘

نصیب خان کے مطابق ’سردار محمد ہوتک اس سے پہلے بھی کوئٹہ میں افغان پناہ گزین کی حیثیت سے رہ چکے ہیں اور تب سے اُن کے کوئٹہ شہر میں کئی دوست ہیں۔‘

منان چوک کوئٹہ شہر کے مصروف ترین بازاروں میں سے ایک ہیں اور یہ چوک شہر کے دو پولیس تھانوں کے حدود میں آتا ہے، جس میں ایک سول لائن پولیس تھانہ اور دوسرا سٹی پولیس تھانہ ہیں۔

اُن کے پاس کسی نے بھی پولیس رپورٹ کے لیے درخواست نہیں دی ہے اور نہ ہی اس واقعے کے بارے میں اُن کو کوئی علم ہے۔

پولیس نے ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی؟

سردار ہوتک کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایف آئی آر اس لیے درج نہیں کروا سکے کیونکہ وہ خود پاکستان جا نہیں سکتے اور اُن کے کہنے پر کوئی پاکستانی شہری ایف آئی آر درج کرنے کے لیے درخواست نہیں دے رہا۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ ہو سکتا ہے اُن کے بھائی کوئٹہ سے کہیں باہر دوسرے شہر یا دوسرے ملک چلے گئے ہوں؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ ’بھائی کا فون نمبر، واٹس ایپ اور فیس بک 21 ستمبر سے بند ہے اور اُنھیں بھائی کے پاکستانی دوستوں نے بتایا ہے کہ سردار ہوتک اغوا ہوئے ہیں۔‘

افغان آرمی کے لاپتہ کرنل کے بھائی کے مطابق کرنل سردار محمد ہوتک کے دو بچے (دس سالہ بیٹا اور سات سالہ بیٹی) پانچ سال قبل ایک بم حملے میں ہلاک ہوئے تھے اور اب گھر پر صرف ان کی اہلیہ موجود ہیں۔

اگرچہ ابھی تک لاپتہ کرنل کے بارے میں پاکستانی حکام نے کچھ نہیں بتایا، لیکن اس سے پہلے گذشتہ ماہ کوئٹہ سے حکام نے پچاس کے قریب ایسے افغان خاندانوں کو واپس افغانستان بھیج دیا تھا، جو حال ہی میں چمن کے راستے کوئٹہ آئے تھے۔

پاکستانی حکام کے مطابق وہ مزید افغان پناہ گزینوں کو قبول نہیں کریں گے۔

دوسری جانب چمن میں بعض ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان چمن بارڈر پر باب دوستی کے راستے قریبی افغان صوبوں کے شہریوں کو تذکرہ (افغان شناختی کارڈ) پر پاکستان آنے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن یہ افغان شہری چمن اور قلعہ عبداللہ سے آگے کوئٹہ کی جانب سفر نہیں کر سکتے۔

کابل پر طالبان کنٹرول کے بعد ہزاروں افغانوں نے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لی اور اب بھی ہزاروں افراد وہاں سے دوسرے ممالک میں پناہ لینے کی کوشش میں ہیں۔ ان افراد میں بیشتر وہ لوگ ہیں جنھوں نے صدر اشرف غنی کی حکومت کے ساتھ کام کیا تھا۔

اگرچہ طالبان کی جانب سے ان تمام افغانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جا چکا ہے اور انھیں ملک نہ چھوڑنے کا کہا گیا ہے لیکن ملک سے باہر جانے والے بیشتر افغان کہتے ہیں کہ وہ طالبان پر اعتماد نہیں کر سکتے اور ان کے جنگجوؤں نے ‘عام معافی کے اعلان کے باوجود بھی کئی لوگوں کو ہلاک کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں