33

62 سالہ زاہدہ، جنہوں نے ہاتھ سے پورا قرآن لکھ ڈالا

62 سالہ زاہدہ، جنہوں نے ہاتھ سے پورا قرآن لکھ ڈالا

(ڈیلی طالب)

پاکستان میں عموماً گھریلو خاتون 55 سال کی ہو جائے تو اکثر و بیشتر اس کی زندگی ان خواہشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں گزر رہی ہوتی ہے کہ اگر بیٹی شادی شدہ نہیں تو اس کی رخصتی ہو جائے۔

اگر بیٹا بے روزگار ہے تو نوکری مل جائے۔ شوہر بیمار ہے تو دواؤں کا خیال اور پوتے پوتیاں نواسے نواسیاں ہیں تو ان کا خمار۔

دل میں کچھ نیا کرنے کی خواہش پیدا ہو بھی تو اسے پورا کرنے کی فرصت نہیں ملتی لیکن ملتان کی زاہدہ سلیمان نے 55 سال کی عمر میں غیر روایتی خواہش کی۔

اپنے ہاتھ سے قرآن لکھنے کی خواہش اور پھر سات سال لگا کر اسے پایہ تکمیل تک بھی پہنچایا۔

زاہدہ اب 62 برس کی ہیں۔ انہوں نے اپنی تگ و دو کے آغاز کے بارے میں بتایا: ’مجھے لکھنے کا شوق ہوا تو میں نے اپنے طور پر یہ شروع کیا۔ میرا کوئی استاد نہیں تھا۔ اس وقت مجھے کسی نے گائیڈ نہیں کیا۔ میں نے خود ہی لکھا۔‘

دھیمے اور شائستہ لہجے میں گفتگو کرنے والی زاہدہ بڑے فخر سے اپنے والد، شریک حیات اور بچوں کا تعارف کراتی ہیں۔ ان کے والد فوجی افسر تھے۔ شوہر چائلڈ سپیشلسٹ ہیں اور نشتر ہسپتال سے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ریٹائر ہوئے۔ چار بچے ہیں اور سب ڈاکٹر بن کر اپنے گھر بسا چکے ہیں۔

سکول کے دنوں سے قرآن لکھنے تک کے سفر نے زاہدہ کو ہمہ گیر شخصیت کا مالک بنا دیا۔ والد کے تبادلوں کے ساتھ ساتھ کراچی، پشاور اور راولپنڈی میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔

شادی ملتان میں ہوئی تو ہاؤس وائف ہونے کے باوجود مصوری، ڈریس ڈیزائننگ، ڈیکوریشن کے لوازمات اور مصنوعی پھول بنانے میں مہارت حاصل کی۔

انہوں نے اپنے گھر کو اپنے ہاتھوں سے بنائے فن پاروں کے ساتھ سلیقے سے سجا رکھا ہے۔ پھر قرآن لکھنے کا شوق ہوا تو خوش خطی کی خاطر خطاطی سیکھ لی۔

وہ بتاتی ہیں: ’12 سپارے لکھ چکی تھی تو اتفاقاً میری ملاقات ملک کے مایہ ناز خطاط راشد سیال صاحب سے ہوئی۔ پھر میں نے دوبارہ سے قرآن شروع کیا ان کی نگرانی میں۔ روزانہ میں ان کو وٹس ایپ پر بھیجتی تھی اور وہ چیک کرتے تھے۔‘

ملتان ہی کے خطاط راشد سیال کو خط راشد اور خط راشد القلم ایجاد کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کا شمار صف اول کے قومی اور بین الاقوامی خطاطوں میں ہوتا ہے۔

زاہدہ کے اس سفر میں مایوسی کا ایک موقع بھی آیا، جب انہیں لگا کہ ان کی خطاطی قرآن لکھنے کے معیار کی نہیں ہوئی تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، لیکن چین سے نہ بیٹھیں اور اسلامی دعاؤں پر مشتمل کتاب لکھ ڈالی۔ اس کے باوجود مکمل قرآن لکھنے کی خواہش زندہ رہی۔

بقول زاہدہ: ’اللہ ہی ہمت دے دیتے تھے کہ نہیں، میں لکھوں اس کو۔‘

دو سال بعد دوبارہ لکھنا شروع کیا تو اس قدر لگن سے کہ راتوں کو دیر تک لکھتی رہتیں۔ خطاطی کا قلم اور دیگر سامان ملتان سے نہیں ملتا تھا تو لاہور سے لے کر آتیں۔

مجموعی طور پر سات سال لگا کر زاہدہ سلیمان نے بالآخر مکمل قرآن لکھ لیا اور اسے سیاہ رنگ کی جلد کروا کر محفوظ کرلیا۔

ان کے بقول: ’میں یہ سمجھتی ہوں کہ اللہ نے جس بندے سے جو کام لینا ہوتا ہے وہ اسے اس راستے پر ڈال دیتے ہیں اور آسانیاں بھی پیدا کر دیتے ہیں۔ سبب بنتے جاتے ہیں اور کام ہوتے جاتے ہیں۔‘

اب 62 سال کی عمر میں زاہدہ کے دل میں ایک نئی لگن جاگی ہے۔

انہوں نے بتایا: ’ایک قرآن اور لکھنے کا ارادہ ہے جو اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت لکھنے کی کوشش کروں۔ ایک ہی کاپی لکھوں اور مدینہ بھیجوں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ سنہری رنگ میں لکھوں۔ اس میں چمک پیدا ہو جائے سونے جیسی۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں