23

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: پاکستان کے جوہری پروگرام کے کلیدی کردار 85 برس کی عمر میں وفات پا گئے، اسلام آباد میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: پاکستان کے جوہری پروگرام کے کلیدی کردار 85 برس کی عمر میں وفات پا گئے، اسلام آباد میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

(ڈیلی طالِب)

پاکستان کے جوہری پروگرام میں کلیدی کردار کے حامل سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اسلام آباد میں وفات پا گئے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جسد خاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر فیصل مسجد کے احاطے میں لایا گیا جہاں ان کی نمازِ جنازہ ادا کیے جانے کے بعد انھیں ایچ ایٹ کے قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

ڈاکٹر اے کیو خان کی عمر 85 برس تھی اور وہ خاصے عرصے سے علیل تھے۔

وزیرِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا تھا کہ پہلے فیصل مسجد کے احاطے میں قبر تیار کی گئی تھی تاہم اب ڈاکٹر عبدالقدیر کے اہلِ خانہ کی خواہش پر ان کی تدفین ایچ ایٹ کے قبرستان میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق ان کی وفات پر ’قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔‘

ڈاکٹر عبدالقدیر خان 26 اگست 2021 کو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جس کے بعد حالت اچانک بگڑ گئی تھی اور انھیں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹری ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاہم کچھ روز بعد ان کی طبیعت سنبھلنے لگی تھی اور انھیں واپس گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔

11 ستمبر کو میڈیا کو جاری کردہ ویڈیو میں انھوں نے بتایا تھا کہ وہ صحت یاب ہو چکے ہیں تاہم انھیں آج صبح کو دوبارہ ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔

انھیں 2004 میں جوہری ٹیکنالوجی کی مبینہ منتقلی کے بارے میں ‘اعترافِ جرم’ کے بعد نظربند کیا گیا تھا اور وہ پانچ برس نظربند رہے تھے۔ تاہم 2009 میں عدالتی حکم پر نظربندی کے ’خاتمے‘ کے بعد بھی وہ عوامی تقریبات میں دکھائی نہیں دیتے تھے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی پر ایک نظر

عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی تھی۔

کراچی میں ابتدائی تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ یورپ گئے اور 15 برس قیام کے دوران انھوں نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوین سے تعلیم حاصل کی۔

1974 میں پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر رابطوں کے بعد 1976 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان واپس پاکستان آئے اور 31 مئی 1976 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی۔

اس ادارے کا نام یکم مئی 1981 کو فوجی آمر جنرل ضیاالحق نے تبدیل کر کے ان کے نام پر ‘ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز’ رکھ دیا تھا۔

یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہےـ

انھوں نے ایک کتابچے میں خود لکھا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا ـ

پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک اس پروگرام کے سربراہ رہے تاہم مئی 1998 میں جب پاکستان نے انڈیا کے ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب جوہری تجربہ کیا تو بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان کے پاس نہیں تھی بلکہ یہ سہرا پاکستان اٹامک انرجی کے ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے سر رہاـ

ڈاکٹر قدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام اور کتابوں میں موجود ہیںـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کر دیا تھاـ

انھیں دو مرتبہ ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز نشانِ امتیاز دیا گیا۔ پہلے چودہ اگست 1996 کو صدر فاروق لغاری اور پھر 1998 کے جوہری دھماکوں کے بعد اگلے برس 1999 میں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے انھیں اس اعزاز سے نوازا۔ اس سے قبل 1989 میں انھیں ہلال امتیاز بھی دیا گیا تھا۔

جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے الزامات اور اعتراف

ڈاکٹر خان کو پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹیو اپنا مشیر نامزد کیا تھا۔ تاہم جنرل مشرف کے دور میں ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سرکاری ٹی وی پر دیگر ممالک کو جوہری راز کی فروخت کے الزامات تسلیم کیے تھے جس کے بعد سنہ 2004 میں انھیں معافی دینے کے بعد ان کے گھر میں نظربند کر دیا گیا تھا۔

یہ نظربندی پانچ برس جاری رہی تھی اور اس کا خاتمہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ہوا تھا۔ تاہم نظربندی کے خاتمے کے باوجود ڈاکٹر خان کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی تھی۔ انھوں نے آزادانہ نقل و حرکت کے لیے عدالت سے رجوع بھی کیا تھا تاہم ان کی وفات تک اس بارے میں کوئی فیصلے نہیں ہو سکا تھا۔

2008 میں بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ وقت آنے پر وہ یہ انکشاف کر دیں گے کہ انھوں نے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیوں کیا تھا۔

انھوں نے اپنے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایک آدمی کے اعتراف سے پورے پاکستان کا فائدہ ہو رہا تھا۔

جب ڈاکٹر قدیر خان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں ان پر جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ‘الزامات’ کیوں لگائے گئے تو ڈاکٹر قدیر کا جواب تھا: ‘ایک آدمی پر ڈال دیں تو ملک بچ جاتا ہے۔ بات ملک پر سے ہٹ جاتی ہے۔’

نظربندی کے خاتمے کے بارے میں بات کرتے ہوئِے انھوں نے کہا تھا کہ ‘بات کرنے اور آزادی میں بہت فرق ہے۔ آزادی کے معانی ہیں کہ میں گھر سے باہر جاسکوں، لوگوں سے ملوں لیکن ایسا نہیں ہے۔ اور یہ (بات کرنے کی آزادی) کوئی بڑی آزادی نہیں۔ کیا ہم کوئی سرکاری راز کھول رہے ہیں کہ ہمیں باہر نہیں جانے دیا جا رہے۔ ہمیں تو دعا سلام ہی کرنا ہے۔’

ڈاکٹر قدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہینریٹا (ہنی خان) سے شادی کی جن سے ان کی دو بیٹیاں ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر پاکستان میں ردِعمل

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات کی خبر پر پاکستانی سوشل میڈیا پر حکومتی وزرا، سیاستدانوں سے لے کر عوام تک سبھی غمگین ہیں اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے لیے جوہری پروگرام کے ‘بانی’ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

عبدالقدیر خان کی وفات پر وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہمیشہ ان کی خدمات کو یاد رکھے گا اور پوری قوم ان کی جانب سے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے ان کی مقروض ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر گہرے دکھ اورغم کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ اپنی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اللہ محسن پاکستان کو جنت الفردوس میں اعلی ترین مقام اور ڈاکٹر خان کے سوگواران اور لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔‘

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ٹویٹ کیا ’پاکستان کو نا قابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اللہ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔‘

پنجاب کے وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے میں کردار ناقابل فراموش ہے۔ وہ پاکستانی قوم کے محسن تھے، ان کی وفات سے پاکستان ایک محب وطن شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے ٹویٹ کیا کہ آج قوم ایک سچے محسن سے محروم ہو گئی ہے جس نے دل و جان سے مادر وطن کی خدمت کی۔‘

انھوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات کو ملک کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے لکھا ’پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ان کا کردار مرکزی ہے۔ اللہ ان کی روح پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔‘

پاکستان میں اس وقت سوشل میڈیا پر #DrAbdulQadeerKhan ٹاپ ٹرینڈ ہے۔

پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے لیے پاکستانی عوام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں خراجِ عقیدت بھی پیش کر رہے ہیں۔

سدرہ نے ٹویٹ کیا ’آج ہم نے اپنا اثاثہ کھو دیا، ایک لیجنڈ، ایک حقیقی ہیرو ۔‘ جبکہ عمر خِالد نے لکھا ’آپ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ ہم آپ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔‘

عبدل اورکزئی نے ان کے دعائیہ کلمات کے ساتھ لکھا کہ اگر آج 20 کروڑ پاکستانی 1.3 ارب ہندوستانیوں کے سامنے فخر محسوس کرتے ہیں تو یہ صرف اس ہیرو کی وجہ سے ہے۔

تاہم کچھ صارفین ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر نالاں بھی نظر آتے ہیں۔

اسی حوالے سے محمد نے لکھا ’وہ محب وطن تھا، وہ محسن تھا، اس نے ملک کی خدمت کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا بدلے میں اس کی تذلیل کی گی، اپنے گناہ اس پر تھوپ دیے گے۔ وہ عدالتوں سے اپنی آزادی کی بھیک مانگتا دنیا سے چلا گیا۔‘

علی حسن نے ٹویٹ کیا ’بطور قوم ہم آپ کی قدر نہ کر سکے۔۔۔ آپ کو بہت شکایتیں تھیں قوم سے۔۔۔ ہمیں معاف کر دیجیے گا۔‘

اور رحمت اللہ بگٹی نے اس حوالے سے شعر ٹویٹ کیا:

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن

یہ الگ بات ہے دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں