38

پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا نہ ہی دوں گا: جام کمال

پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا نہ ہی دوں گا: جام کمال

(ڈیلی طالِب)

اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جام کمال کا کہنا تھا کہ میں نے عہدہ چھوڑنے کی بات ٹویٹ کے ذریعے کی کیونکہ میں نہیں چاہتا پارٹی میں انتشار پھیلے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال نے اپنے خلاف اپنی ہی پارٹی کے ارکان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے بعد کہا ہے کہ وہ پارٹی سے استعفیٰ نہیں دے رہے نہ ہی دیں گے۔

اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جام کمال کا کہنا تھا کہ میں نے عہدہ چھوڑنے کی بات ٹویٹ کے ذریعے کی کیونکہ میں نہیں چاہتا پارٹی میں انتشار پھیلے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ میں پارٹی الیکشن تک پارٹی کا صدر رہوں۔ انتخابات کے بعد جو بھی صدر بنا اس کے ساتھ چلیں گے، دوستوں کی خواہش کی وجہ سے پارٹی الیکشن تک صدر رہوں گا۔‘

تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پارٹی صدارت سے باقاعدہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا تھا۔

’اگر کسی فیصلے سے کچھ لوگ اختلاف رکھتے ہیں تو اکثریت پر ان کو بھی فیصلے میں ضم ہونا ہوتا ہے۔‘

’پارٹی بچانے کی کوششیں‘

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف ان ہی کی پارٹی کے ارکان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جانے کے بعد اب پارٹی کو بچانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ان ارکان نے تحریک اعتماد جمع کرائی ہے جو پہلے ہی جام کمال سے بغاوت کر کے انہیں مستعفی ہونے کا کہہ چکے ہیں۔

اس سب کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے چیف آرگنائزر جان محمد جمالی جماعت میں اختلافات کو دور کرنے کے لیے میدان میں آگئے ہیں۔

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سے جان محمد جمالی نے کہا کہ جماعت دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے کیونکہ ہماری اپنی جماعت کے ارکان نے ہی وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت کے انتخابات کے بعد نومبر کے پہلے ہفتے تک نئے صدر اور عہدیداروں کا انتخاب مکمل ہو جائے گا۔

جان محمد جمالی نے کہا کہ وہ بحیثیت آرگنائزر وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کریں گے اور جماعت کو بچانے کے لیے اقدامات کریں گے۔

’ہمیں اپنے اتحادیوں کا بھی خیال رکھنا ہوگا کسی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کو جماعت کے پارلیمانی گروپ کا اجلاس طلب کرنے کا مشورہ دوں گا۔‘

انہوں نے پارلیمانی لیڈر کے حوالے سے کہا کہ اس وقت اس عہدے کے لیے 12 درجن سے زائد نام سامنے آ رہے ہیں۔

’سعید ہاشمی سمیت دیگر اہم رہنما جماعت کو بچانے میں لگے ہیں۔ برف پگل رہی ہے اور امید ہے کہ سب کچھ بہتری کی جانب جائے گا۔‘

پریس کانفرنس میں جان محمد جمالی نے اعتراف کیا کہ سیاسی بحران کے باعث تمام معاملات ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں اور افسران دفاتر میں گپیں لگا رہے ہیں۔

ایک اور تحریک عدم اعتماد
وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف گذشتہ روز تحریک عدم اعتماد ممبر صوبائی اسمبلی ظہور بلیدی اور دیگر ارکان نے جمع کرائی۔

تحریک جمع کرانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ممبر صوبائی اسمبلی ظہور بلیدی نے کہا کہ پچھلے ایک ماہ سے سیاسی بحران ہے اور اسمبلی کی اکثریت نے جام کمال پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ چونکہ اسمبلی ممبران کے علاوہ عوام کا اعتماد بھی کھو چکے ہیں اس لیے وہ باعزت طریقے سے مستعفیٰ ہوں جائیں۔ لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی اور کہا کہ وہ 12 ارکان کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔

ظہور بلیدی نے بتایا تھا کہ 14 ارکان کے دستخط سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی ہے، جن میں اکثریت بلوچستان عوامی پارٹی کے ممبران کی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمیں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور تحریک انصاف کی بھی حمایت حاصل ہے۔ ہم اب بھی جام کمال کو کہتے ہیں کہ ان کے پاس باعزت راستہ یہی بچا ہے کہ استعفیٰ دے دیں تاکہ ووٹنگ کی نوبت نہ آئے۔‘

ظہور بلیدی نے کہا کہ جام کمال خود اعتراف کرچکے ہیں کہ انہیں بلوچستان اسمبلی میں 24 ممبران کی حمایت حاصل ہے۔ اس اعتبار سے بھی 65 ممبران کی اسمبلی میں اتنے ارکان کی حمایت پر ان کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

س سے قبل نو اکتوبر کو اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک سکندر ایڈووکیٹ و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف اکثریت نہیں ہے، اس لیے وہ مستعفیٰ ہو جائیں۔

تحریک عدم اعتماد کی قرارداد میں کے متن میں کہا گیا ہے کہ تین سال کے دوران جام کمال وزیراعلیٰ بلوچستان کی ’خراب طرز حکمرانی‘ کے باعث شدید مایوسی، بدامنی، بےروزگاری اور اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

متن کے مطابق جام کمال اقتدار پر براجمان ہوکر خود عقل کل سمجھ کر صوبے کے تمام معاملات کو مشاورت کے بغیر ذاتی طور پر چلا رہے ہیں، جس سے صوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے قوائد و انضباط کار مجریہ 1974 کے قائدہ نمبر 19 کے مطابق: تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے سات روز کے بعد کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

بلوچستان اسمبلی 65 ارکان پر مشتمل ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 ارکان کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ اس وقت حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد 23 جبکہ حکومتی جماعت کے 14 ارکان نے تحریک جمع کرائی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی۔ تاہم اس پر کوئی عمل نہیں ہوا تھا۔

ادھر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد اور اپنی پارٹی کے ناراض ارکان کے مطالبے کے باوجود نجی ٹی وی چینلز سے بات چیت کے دوران مستعفیٰ ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ساتھ اکثریت موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں