21

لاہور کا گورنر ہاؤس، جس کی تاریخ اکبر سے جا ملتی ہے

لاہور کا گورنر ہاؤس، جس کی تاریخ اکبر سے جا ملتی ہے

(ڈیلی طالِب)

گورنر ہاؤس پنجاب کی عمارت کی تاریخ کم و بیش 421 سال قدیم ہے۔ 700 کنال پر محیط اس وسیع و عریض ہاؤس کی تاریخ ہمیں 1600 کے اکبر اعظم کے دور میں لے جاتی ہے جنہوں نے یہاں اپنے چچا زاد بھائی قاسم خان کی قبر پر مقبرہ تعمیر کروایا اور اس کے ارد گرد وسیع باغ لگوایا۔

بعد ازاں رنجیت سنگھ کے جنرل خوشحال سنگھ نے یہاں اپنی اور دیگر فوجی افسروں کی رہائش گاہیں بنوائیں۔ جب انگریزوں نے 1849 میں پنجاب پر قبضہ کر کے اسے ہندوستان کا حصہ بنا دیا تو انہوں نے خوشحال سنگھ کے بھتیجے تیجا سنگھ سے یہ جگہ خرید لی۔ 1851 سے 1853 کے دوران سر ہنری لارنس کی زیر نگرانی لیفٹیننٹ فجان نے اس کی تعمیر نو کی، جس کے بعد لاہور کے ڈپٹی کمشنر مسٹر بورنگ یہاں کے نئے مکین ٹھہرے۔ اس کے بعد ہنری لارنس یہاں خود منتقل ہو گئے۔

1858 میں اس عمارت کو پنجاب کے گورنر ہاؤس کا درجہ دے دیا گیا۔ بعد میں 1892 میں میو سکول آف آرٹس کے پرنسپل مسٹر لاک ووڈ کپلنگ کی زیر گرانی تعمیرات کی گئیں۔ 1905 میں یہاں مزید عمارتیں بنائی گئیں، جبکہ 1913 میں یہاں گورنر ونگ، فیملی ونگ اور دربار ہال کا اضافہ ہوا۔ جبکہ پرنس آف ویلز کے لیے یہاں ایک رائل سوٹ بھی بنایا گیا۔

برطانوی عہد میں یہاں شاہی مہمان اور وائسرائے قیام کرتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد یہاں غیر ملکی سفیروں کے علاوہ قائداعظم محمد علی جناح بھی بطور گورنر جنرل ٹھہر چکے ہیں۔

تاریخ کے جھروکوں سے حال میں آتے ہیں۔ پنجاب کی پر شکوہ عمارت کے دربار ہال میں ایک مختصر سی تقریب ہو رہی ہے جس میں برطانوی پاکستانیوں کی ایک تنظیم المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین عبدالرزاق ساجد کو پاکستان میں فلاحی سرگرمیوں کے طفیل گورنر ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔

تقریب کی نظامت ایک خاتون کے ہاتھ میں ہے، جس پر پہلے گمان گزرا کہ یہ کسی میڈیا گروپ سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں گورنر ہاؤس میں ایسی تقریبات کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کی بیوی پروین سرور ہیں، تو بے اختیار یہ خیال آیا کہ واقعی ہر کامیاب شخصیت کے پیچھے ایک ایسی ہی کامیاب خاتون کا ہاتھ ہوتا ہے۔

وہ گویا ہوئیں کہ پہلی بار وہ لندن سے پاکستان تشریف لائیں تو موجودہ گورنر چوہدری سرور انہیں لاہور ہوائی اڈے سے لے کر اپنے گاؤں نزد ٹوبہ ٹیک سنگھ پہنچے تو گاؤں میں وہ چارپائی پر بیٹھ کر ایک ہاتھ سے مکھیاں اڑایا کرتے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی کتابوں کے ورق الٹتے تاکہ وہ امتحانات کی تیاری کر سکیں۔

پھر ان کی شادی ہوئی اور وہ سکاٹ لینڈ میں اپنے بھائی کے ساتھ کیش اینڈ کیری کے بزنس میں شامل ہو گئے۔ 1997 میں وہ برطانوی پارلیمنٹ کے پہلے مسلمان رکن بنے جنہوں نے قرآن پاک پر حلف اٹھایا۔ وہ 2010 تک 13 سال برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد 2013 میں مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم پر گورنر پنجاب بنے اور پھر تبدیلی کا خواب لیے مستعفی ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔

2018 میں وہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے، مگر عمران خان نے انہیں پھر گورنر پنجاب لگا دیا۔ اب وہ پنجاب کے 33ویں گورنر ہیں اور اگر انگریز دور کے گورنروں کو بھی شامل کیا جائے تو ان کا نمبر 58 واں بنتا ہے۔

ان کا تعلق پنجاب کی آرائیاں برادری سے ہے جن کے والدین تقسیم کے وقت بھارتی پنجاب سے ہجرت کر کے یہاں مقیم ہوئے تھے۔ جب وہ تقریر کرنے آئے تو کہنے لگے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان شفٹ ہونے کا منصوبہ بہت پہلے بناچکے تھے اور آج بھی وہ خود کو سیاستدان کے بعد سماجی کارکن سمجھتے ہیں جو اپنی باقی زندگی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر چکے ہیں۔ انہوں نے سرور فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کی تفصیلات کا ذکر کیا اور کہا کہ کرونا کے دوران یہاں اتنا امدادی سامان اکٹھا کیا گیا کہ اس وسیع و عریض عمارت میں جگہ کم پڑ گئی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ آج جس مقام پر ہیں اس کے پیچھے ان کی بیگم کا ہاتھ ہے۔

لیکن انہوں نے تقریب میں اگر ذکر نہیں کیا تو اپنی حکومت کی کارکردگی کا نہیں کیا۔

پنجاب میں ان سے پہلے 57 گورنر آ چکے ہیں جن میں وہ انگریز گورنر بھی شامل تھے جن کے دربار جب اسی ہال میں لگا کرتے تو یہاں انگریز کے مصاحبین کو خلعتیں عطا کی جاتیں مگر آج یہاں فلاحی سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو ایوارڈ دیے جا رہے ہیں۔

گورنر ہاؤس اب سیاسی سرگرمیوں کی بجائے فلاحی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے اور یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا کہ چوہدری سرور پنجاب کے پہلے فلاحی گورنر ہیں۔

گورنر پنجاب کی دلچسپیوں کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہ سیاست سے بیزار ہیں اور کسی دن اعلان کر دیں گے اب باقی زندگی سرور فاؤنڈیشن کو دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں