44

محمد رضوان کی حالت دیکھ کر خیال آیا کہیں یہ ہارٹ اٹیک تو نہیں، علاج کرنے والے ڈاکٹر سہیر سین العابدین

محمد رضوان کی حالت دیکھ کر خیال آیا کہیں یہ ہارٹ اٹیک تو نہیں، علاج کرنے والے ڈاکٹر سہیر سین العابدین

(ڈیلی طالِب)

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر اور اوپننگ بیٹسمین محمد رضوان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جب انھیں ہسپتال لایا گیا تھا تو ان کی حالت دیکھ کر یہ خیال آیا کہ کہیں یہ ’ہارٹ اٹیک‘ تو نہیں۔

یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپنر رضوان کو 9 نومبر کی علی الصبح طبیعت خراب ہونے پر دبئی کے ایک ہسپتال لے جایا گیا تھا جہاں وہ تقریباً 36 گھنٹے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں رہے تھے۔

محمد رضوان کا علاج کرنے والے دبئی کے میڈیور ہسپتال کے ڈاکٹر سہیر سین العابدین نے ڈیلی طالِب کو بتایا کہ جب رضوان کو ہسپتال لایا گیا تو ان کے سینے میں شدید درد تھا، ’جسے ہم طبی زبان میں (درد کے پیمانے پر) دس میں سے دس کا سکور کہتے ہیں۔‘

’یہ درد رضوان کے لیے ناقابل برداشت تھا لہذا فوری طور پر یہ چیک کیا گیا کہ کہیں یہ ہارٹ اٹیک کا معاملہ تو نہیں۔‘

ڈاکٹر سہیر نے بتایا کہ ’ان کے گلے میں انفیکشن کی وجہ سے ان کی سانس اور کھانے کی نالیاں سکڑ گئی تھیں۔ اس موقعے پر ایمرجنسی میں موجود میڈیکل ٹیم نے دواؤں کے ذریعے سینے کا درد کم کرنے کی کوشش کی اور پھر انھیں آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا۔‘

ڈاکٹر سہیر نے بتایا کہ محمد رضوان نے اس دوران مثبت رسپانس دیا جس کی وجہ سے ان کی حالت میں بتدریج بہتری آتی گئی۔

رضوان کی سب سے بڑی خوبی جو ڈاکٹر سہیر نے دیکھی وہ ان کا بلند حوصلہ ہے۔

’وہ یہی کہتے رہے تھے کہ انھیں ٹیم کے پاس واپس جانا ہے، انھیں میچ کھیلنا ہے۔ عام طور پر اس طرح کی حالت میں مریض کو ٹھیک ہونے میں پانچ سے سات روز لگتے ہیں لیکن رضوان کی حالت میں غیرمعمولی طور پر بہت جلدی بہتری آئی۔‘

ڈاکٹر سہیر اس کی وجہ محمد رضوان کی قوت ارادی اور دین سے قربت سمجھتے ہیں۔

جب ڈاکٹر سہیر سین العابدین سے پوچھا گیا کہ 36 گھنٹے آئی سی یو میں رہنے والے کھلاڑی کو میچ کھیلنے کی اجازت دینا کیا درست فیصلہ تھا تو ان کا جواب تھا کہ محمد رضوان کو اس وقت تک ہسپتال سے جانے کی اجازت نہیں دی گئی جب تک ڈاکٹرز کی ٹیم ان کی حالت سے مطمئن نہیں ہو گئی۔

’انھیں ہسپتال سے جاتے وقت بھی مختلف دوائیں دی گئیں تاکہ وہ میچ سے قبل اور میچ کے دوران بھی ان کا استعمال کرسکیں۔ جہاں تک ان کے کھیلنے کا تعلق ہے تو یقیناً پاکستانی ٹیم کے میڈیکل پینل نے بھی تمام پہلوؤں پر اطمینان کر لینے کے بعد ہی ان کے کھیلنے کا فیصلہ کیا ہو گا۔‘

ڈاکٹر سہیر سین العابدین کا کہنا ہے کہ یہ ان کے کریئر میں پہلا موقع تھا کہ انھوں نے کسی کرکٹر کا اس حالت میں علاج کیا ہو تاہم سپورٹس انجریز کا شکار کھلاڑی ہسپتال میں اکثر لائے جاتے ہیں۔

رضوان کی شرٹ کا تحفہ

ڈاکٹر سہیر سین العابدین نے بتایا کہ ہسپتال سے جانے کے بعد محمد رضوان نے آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل میں جس طرح جارحانہ بیٹنگ کی اور چھکے لگائے، وہ اس پر بہت خوش تھے۔

محمد رضوان نے ڈاکٹر سہیر کو اپنی پاکستانی ٹیم کی ٹی شرٹ خصوصی طور پر پیش کی جس پر ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ ٹی شرٹ فریم کروا کر رکھیں گے تاکہ ان کے بچے اور پوتا پوتی بھی اسے دیکھ سکیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے پوتا پوتی ہیں تو انھوں نے قہقہے لگا کر بتایا کہ ابھی ان کی عمر چالیس برس ہے اور ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔

ڈاکٹر سہیر کا کہنا تھا کہ محمد رضوان ویسے بھی ان کے پسندیدہ بیٹسمین ہیں اور انھیں وکٹ کیپر بیٹسمین کی بلے بازی اور ان کا ہر وقت مسکراتے رہنے والا انداز بہت پسند ہے تاہم وہ اپنے پسندیدہ بیٹسمین کے ساتھ تصویر نہیں بنا سکے کیونکہ ہسپتال کی پالیسی کے تحت اس کی اجازت نہیں تھی۔

وہ چھ سال سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ وہ خود کرکٹ کے بڑے شوقین ہیں لیکن کووڈ کی صورتحال کے باعث وہ گراؤنڈ میں جا کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز نہیں دیکھ پائے ہیں۔

اپنے نام کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جس طرح ظہیر اور زین العابدین لکھا اور بولا جاتا ہے اسی طرح ہمارے یہاں ’ظ‘ کی جگہ ’س‘ مروج ہے اور اسی لیے ان کا نام سہیر سین العابدین ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کا ہسپتال وی پی ایس میڈیل گروپ کا حصہ ہے جس نے آئی پی ایل اور اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران بائیو سکیور ببل تیار کر کے دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں