40

کیا ہمیں لمبی عمر پانے کے لیے جاپانیوں جیسی خوراک کھانی چاہیے، مگر جاپانی خوراک میں ایسا خاص کیا ہے؟

کیا ہمیں لمبی عمر پانے کے لیے جاپانیوں جیسی خوراک کھانی چاہیے، مگر جاپانی خوراک میں ایسا خاص کیا ہے؟

(ڈیلی طالِب)

دنیا میں جاپان وہ ملک ہے جہاں سو برس یا اس سے زیادہ عمر کے سب سے زیادہ افراد موجود ہیں۔ جاپان میں ہر ایک لاکھ شہریوں میں سے 48 افراد سو برس یا اس سے زیادہ عمر پاتے ہیں۔ دنیا کا کوئی دوسرا ملک معمر افراد کی آبادی کے لحاظ سے جاپان کے قریب بھی نہیں۔

زیادہ عمر پانے والوں کی اتنی بڑی تعداد دنیا میں دیگر حصوں میں بسنے والوں کی توجہ اس جانب مبذول کرواتی ہے کہ جاپانیوں کے پاس آخر ایسا کیا ہے جو اُن کے پاس نہیں یا جاپانی ایسا کیا کھا رہے جو وہ اتنی لمبی عمر جی پاتے ہیں؟

یہ ایسے ہی ہے جیسے بحیرہ روم کی خوراک ہو۔ بحیرہ روم سے باہر اس کی شہرت کے بارے میں جاننے کے لیے 1970 کی دہائی میں امریکی ماہر غذائیت اینسل کیز کی تحقیق کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اٹلی میں سو سال اور سو سال سے زیادہ عمر والے افراد کو دیکھا۔ ان کی خوراک میں جانوروں کی چربی کا کم استعمال ہوتا تھا۔

1990 کی دہائی میں غذائیت پر تحقیق کرنے والے ایک محقق والٹر ویلیٹ نے اپنی تحریر میں جاپان کا غیرمعمولی طور پر طویل عرصے تک زندہ رہنے والی آبادی کی حیثیت سے ذکر کیا۔

اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جاپان میں لوگ دل کی بیماری سے کم مرتے ہیں۔

اس وقت سے متعدد تحقیقی مقالوں میں یہ پوچھا گیا کہ کیا جاپانیوں کی عمریں دراز ہونے کا تعلق کھانے سے جڑا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر کون سے کھانے پینے کی چیزیں اس طرح کی زندگی گزارنے کی خواہش کے ساتھ ہماری خریداری کی فہرستوں میں شامل ہو سکتی ہیں۔

جاپانی غذا کافی حد تک ایک وسیع تصور ہے۔ اس کی نشاندہی ایک محقق پروفیسر شو زانگ نے کی ہے جو جاپان میں بڑھاپے کے امراض کے قومی سینٹر سے منسلک ہیں۔

جاپان میں غذا اور صحت کے مابین تعلق پر تحقیق کرنے والے 39 مطالعوں کا ایک جائزہ لیا گیا۔ اس میں یہ معلوم ہوا کہ بہت سے مقالوں میں کچھ یکساں پہلوؤں پر زور دیا گیا۔ سمندری غذا، سبزیاں، سویابین اور اس سے بننے والی چیزیں جیسے سویا ساس، چاول اور مسو سوپ وغیرہ۔

جانگ کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کینسر جیسے مرض سے متعلق نہیں لیکن اس طرح کی غذا کے استعمال سے دل کے امراض کے باعث کم اموات ہوتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اموات کی مجموعی شرح سے بھی بظاہر تعلق ہے۔

توہوکو یونیورسٹی کے فوڈ اینڈ مالیکیولر بائیو سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر تیوسوشی سسوڈکی نے اس بات کا مطالعہ کیا ہے کہ جاپانی غذا کا کون سا ورژن لمبی عمر میں مددگار ہو سکتا ہے۔

ابتدائی طور پر انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے 1990 کی دہائی میں قومی سروے کے اعداد و شمار کا استعمال کیا۔

والے کھانوں اور اسی عرصے میں موجود امریکی خوراک کو دیکھا۔ اس میں انھوں نے فریز اور خشک کھانا چوہوں کو تین ہفتوں تک کھلایا جن کی صحت کا محققین نے بغور جائزہ لیا۔

حیرت انگیز طور پر جاپانی غذا کھانے سے چوہوں کے پیٹ میں کم چربی ہوئی اور ان کے خون میں چربی کی کم مقدار ہوئی، حالانکہ کہ دونوں غذاؤں میں چربی، پروٹین اور لحمیات کی ایک جتنی ہی مقدار ہوتی ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے غذائی اجزا کے لیے ذرائع میں گوشت کے مقابلے میں مچھلی، چاول کے مقابلے میں گندم ہے۔

اس تحقیق کی مزید گہرائی میں جاتے ہوئے محققین نے نصف صدی کی جاپانی غذا کی مختلف اقسام تیار کی کیونکہ جاپانی لوگ جو کھاتے ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ کافی حد تک بدل چکا ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں مغربی غذا کے اثرات زیادہ ہیں۔

ماہرین نے سنہ 1960، 1975، 1990 اور 2005 کے عرصے کے دوران قومی غذا پر مبنی کھانے کے منصوبوں کو ترتیب دیا گیا اور پھر انھیں چوہوں کو کھلایا گیا۔

بہت سے کھانا پکانے اور کھانے کو فریز اور خشک کرنے والی مشینوں کو چوہوں کی نگرانی پر رکھا گیا اور اب کی بار ان تجربات کو آٹھ ماہ تک جاری رکھا گیا۔

ظاہر ہوا کہ تمام جاپانی غذا برابر نہیں۔

جن چوہوں کو 1975 میں کھائی جانے والی خوراک کو کھلایا گیا ان میں ذیابیطس اور چربی سے جگر کی بیماری کا خطرہ دوسروں کے مقابلے میں کم تھا اور جب سائنس دانوں نے ان کا معائنہ کیا تو اس میں ایسے جین سامنے آئے جن میں فیٹی ایسڈ نہیں بن رہا تھا جبکہ دوسروں میں یہ متحرک تھا۔

اس غذا میں خاص طور پر سمندری غذا، پھل، روایتی خمیر شدہ مچھلیاں بہت زیادہ تھیں اور عموماً اس میں خوراک کی ورائٹی تھی۔

بعد کے تجربات میں انھوں نے دیکھا کہ سنہ 1975 کی اس غذا کی وجہ سے چوہوں کی عمر طویل ہوئی ان کی یاداشت بہتر ہوئی اور ان میں کم جسمانی خرابیاں ہوئیں۔

(حقیقت یہ ہے کہ شو زانگ جو کہ وبائی امراض کے ماہر ہیں اور ان کے ساتھیوں نے حال ہی میں یہ نتائج شائع کیے ہیں کہ جاپانی غذا زیادہ صحتمند اور لوگوں کی بڑھاپے میں بھی فعال زندگی سے منسلک ہے۔)

سوڈوکی گروپ اور ان کے ساتھیوں نے یہ دیکھا کہ خوراک کے انسانوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے۔

جدید جاپانی غذا یا 1975 کے عرصے میں کھائی جانے والی غذا لینے والے افراد کی 28 دن کی آزمائش کی گئی۔

اس سے یہ ظاہر ہوا کہ 1975 کی خوراک کھانے والے گروپ نے زیادہ وزن کم کیا اور ان میں کولیسٹرول کی تعداد بہتر ہے۔

دوسرے صحتمند وزن کے حامل افراد جنھوں نے 1975 کے عرصے میں کھایا جانے والا کھانا کھایا تھا وہ آزمائش کے اختتام پر دوسروں کے مقابلے میں بہتر حالت میں تھے۔

سوڈوکی اور ان کے ساتھیوں نے اپنی ایک تحقیق میں مائیکروبیوم میں تبدیلیاں دیکھنے کے بعد یہ خیال ظاہر کیا کہ لوگوں کے مائیکرو بیوم ان اثرات میں معاونت کرنے والی چیزوں میں سے ایک چیز ہو سکتے ہیں۔

تو پھر راز کیا ہے؟

سوندوکی کے مطابق جاپانی غذا کے اس ورژن کے مثبت اثرات ہیں کہ کھانا کس طرح تیار کیا جاتا ہے۔ کھانا کئی چھوٹی ڈشز سے بنا ہوتا ہے جو مختلف قسم کے ذائقے مہیا کرتا ہے۔

کھانے کے اجزا تلے ہوئے سے کہیں زیادہ ابلے ہوئے ہوتے ہیں یا انھیں پانی میں بغیر ابالے ہلکی آنچ پر تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں نمک یا چینی کی زیادہ مقدار کے بجائے تھوڑی مقدار میں ذائقہ دار اشیا میں پکایا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہ جاپانی کھانوں کے جادوئی فوائد سمندری ہونے یا پھر سویا ساس کی وجہ سے نہیں بلکہ اعتدال سے صحت مند طریقوں سے پکی ہوئی متعدد غذائیں کھانے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سبزیوں اور دالوں پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

مشورہ تو دوسرے معنوں میں کوئی بھی استعمال کر سکتا ہے لیکن اس تجویز کے ساتھ ساتھ جدید جاپان کے اپنے اور بھی مسائل ہیں۔

جاپان میں حالیہ برسوں میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ کچھ تو عمر رسیدہ آبادی میں اضافہ ہے لیکن ایک وجہ بڑھتا ہوا موٹاپا بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں