54

ط ال ب ان بھارت کے لیے جیک پاٹ بھی اور سر درد بھی.

ط ال ب ان بھارت کے لیے جیک پاٹ بھی اور سر درد بھی.

(روزنامہ طالب)

کیا بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ط ال ب ان کے معاملے پر نفرت اور دوستی کے دوراہے پر کھڑی ہے؟

افغانستان میں طالبان کی آمد سے بھارت کے مفادات شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں، جس کے اثرات بھارت کی سیاست پر تیزی سے پڑے ہیں۔

تاہم سب سے دلچسپ ہے یہاں کے بدلتے سیاسی حالات اور ط ال ب ان کے بارے میں ردعمل۔ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے ط ال ب ان کا قضیہ جیک پاٹ بھی ہے اور درد سر بھی۔

جیک پاٹ داخلی سیاست کے تناظر میں، جس میں بی جے پی پوری فراغت سے نفرت کے جشن کو آگے بڑھا رہی ہے اور بھارتی مسلمانوں کو ط ال ب ان حامی قرار دے کر اپنے سخت گیر ہندو رائے دہند گان کو متحد کررہی ہے تاکہ ریاستی انتخابات میں اس کا بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔

دوسری طرف خارجہ پالیسی سے وابستہ اقدامات ہیں، جہاں وہ ط ال ب ان سے مشاورت اور مذاکرات کا عندیہ دے رہی ہے۔

حالت یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی طالبان کی مذمت تو دور، ان کا نام لینے سے بھی کترا رہے ہیں کہ کہیں مذاکرات کے راستوں میں تلخی نہ پیدا ہو جائے۔

’ط ال ب ا ن حامی‘ نعروں کا جن

افغانستان میں ط ال ب ان کی واپسی بھارتی مسلمانوں کی دوبھر زندگی میں تازہ اضافہ ہے۔

بی جے پی کے زیراقتدار ریاستوں میں ط ال ب ا ن کے نام پر مسلم شہریوں کو ’شکار‘ کرنا شروع کردیا گیا ہے۔

آسام، جہاں شہریت قانون کے نفاذ کے بعد لاکھوں مسلم شہریوں کی شہریت سلب ہوجانے کا اندیشہ ہے، میں 21 اگست کو ایک دن میں 15 گرفتاریاں ہوئیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق ’آسام کے 10 اضلاع سے حراست میں لیے گئے مسلم شہریوں میں ایک ایم بی اے ڈگری یافتہ، ایک ٹیچر اور ایک سپاہی ہے۔‘

ان سب پر ط ال ب ان کی حمایت میں سوشل میڈیا پیغامات لکھنے کے الزام میں انسداد دہشت گردی کے سیاہ قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں جو بھارت میں سب سے خطرناک جرائم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

بی جے پی کے زیر اقتدار دوسری ریاست مدھیہ پردیش میں 20 اگست کو چھ مسلمان نوجوانوں کو ط ال ب ان حامی نعرے لگانے پر ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

سب سے زیادہ خوف اترپردیش میں ہے، جہاں یوگی آدتیہ ناتھ وزیراعلیٰ ہیں اور اسی ریاست میں آئندہ برس انتخابات ہیں۔

یہاں کے مسلمان شہریوں کے سوشل میڈیا پیغامات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہاں سے ط ال ب ان کے نام پر مسلمان شہریوں کو ہراساں کرنے کی مسلسل خبریں آرہی ہیں۔

لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے مشہور عالم دین اور مسلم پرسنل بورڈ کے رکن اور سابق ترجمان مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی بال بال بچ گئے۔

ان کے ط ال ب ان سے متعلق ایک ذاتی بیان کو ملک سے غداری قرار دیا گیا۔ رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمان برق پر ط ال ب ان کی حمایت کا الزام لگا دیا گیا۔

بی جے پی کے مقامی رہنما مسلسل مسلمان رہنماؤں پر ط ال ب ان کی حمایت کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ حالات کیسے پیدا ہو رہے ہیں؟ آلٹ نیوز نامی ایک ویب سائٹ نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں بتایا کہ بھارتی مسلمانوں پر پاکستان حامی نعرے لگانے کے الزامات نئے نہیں۔

اب ط ال ب ان حامی نعرے ایک نیا اضافہ ہیں۔ مدھیہ پردیش کے اجین سے جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے وہ محرم کے جلوس میں شریک تھے اور اسی جلوس کا ایک ویڈیو بی جے پی کے لیڈر گورو بھاٹیہ نے ٹویٹ کیی جس میں پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگنے کی آواز آ رہی تھی۔

اس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہوگئی اور پھر اسی ویڈیو سے ط ا ل ب ان زندہ آباد کے نعرے لگنے کی آواز سنائی دی جبکہ جلوس کے شرکا قاضی صاحب زندہ آباد کے نعرے لگا رہے تھے۔

جس کا مطلب جان بوجھ کر ط ال ب ان کے قضیہ کو سلگایا جارہا ہے جس سے بی جے پی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

افغان سکھوں کا انخلا:

بھارتی اخبارات، پورٹلز اور ٹی وی چینلز میں طالبان کی خبروں کا سیلاب آگیا ہے۔ ط ال ب ان سے وابستہ خبروں کے ہونے کی ضروری وجوہات بھی ہیں۔

24 اگست کو صبح تقریباً 10 بجے 78 افغانی شہری اور بھارتی شہری کابل سے نئی دہلی پہنچے۔

اس قافلے میں سکھ شامل تھے جو اپنے ساتھ گروگرنتھ صاحب کے تین مقدس مخطوطہ ساتھ لائے تھے۔

ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کے لیے وزارت خارجہ، انڈین ایئرفورس اور حکومت کے ایک سکھ وزیر ہردیپ پوری کھڑے تھے جنہوں نے بھاری میڈیا کیمروں کی موجودگی میں ان مخطوطوں کو اپنے سر پر اٹھایا اور چند قدم چلے۔

یہ ویڈیوز دن بھر ٹی وی پر نشر کی گئیں۔ بھارتی میڈیا کے نامہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد ہوائی اڈے پر دن اور رات موجود ہے جو وہاں سے مختلف اپڈیٹس دیتے ہیں۔

نیوز لانڈری نامی ایک ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسی دن کئی رپورٹر بھارت آنے والے افغان سکھوں سے یہ سوال کررہے تھے کہ اس کے لیے وہ کسے کریڈٹ دیتے ہیں اور پھر خود ہی یہ جملہ دہرا رہے تھے کہ انخلا کا عمل نریندری مودی کرا رہے ہیں۔

بھارتی مسلمان نشانے پر

دوسری طرف میڈیا میں ایک خاص طبقے کو طالبان حامی قرار دینے کی دوڑ لگی ہے۔

اترپردیش کے مشہور شاعر منور رانا، جنہوں نے یہ کہہ کر اپنی مٹی سے محبت کا اظہار کیا تھا کہ ‘چلو چلتے ہیں مل جل کر وطن پر جان دیتے ہیں،

بہت آسان ہے کمرے میں وندے ماترم کہنا‘ کے ایک بیان ’(افغانستان) سے لوگ بھاگ رہے ہیں لیکن مر نہیں رہے، معاف کیجیے گا اترپردیش کی حالت یہ ہے کہ مجھے بھی بھاگ جانے کا من کرتا ہے‘ پر ہنگامہ مچ گیا۔

غداری کے الزامات عائد ہوئے بس مقدمہ ہونا باقی ہے۔ رکن پارلیمنٹ کے بیان شفیق الرحمان برق کے بیان ’جیسے بھارت میں آزادی کے لیے لڑائی ہوئی تھی، ویسے امریکہ اور روس کے قبضے سے بھی وہ لوگ لڑ رہے ہیں۔ وہ بھی آزاد رہنا چاہتے ہیں اپنے ملک کو آزاد کرانا چاہتے ہیں، ان کا ذاتی معاملہ ہے۔‘ پر ملک سے غداری کے مقدمات درج کرنے کے مطالبات کیے جارہے ہیں۔

مولانا سجاد نعمانی نے امارت اسلامیہ افغانستان کو مبارک باد پیش کردی۔ ’آپ سے دور بیٹھا ہوا یہ ہندوستانی مسلمان آپ کو سلام کرتا ہے۔‘ پر شدید تنقید ہوئی۔

ان سب بیانات کے بعد جیسے بھارتی مسلمانوں کو طالبان کا حامی ہونے کا الزام لگانے کا سلسلہ چل پڑا۔ ریپبلک ٹی وی، ٹائمز ناؤ (انگریزی اور ہندی)، زی نیوز، انڈیا ٹی وی، آج تک، اے بی پی نیوز، دینک جاگرن، جو کہ میڈیا کے بڑے حصہ کا احاطہ کرتے ہیں، مسلسل ایک ہفتے سے طالبان کے متعلق خبریں چلارہے ہیں۔

یہ وہ میڈیا گروپس ہیں جو حکومت کی حمایت میں سب سے آگے رہتے ہیں۔ زیادہ تر حکومت کی ترجمانی کرنے والے یہ میڈیا ہاؤسز طالبان کو شیطان ثابت کرکے حکمران جماعت کے رہنماؤں کو ان سے گفتگو نہ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

افغان مہاجرین کا احتجاج

دو روز قبل افغان مہاجرین نے بھارتی حکومت سے مہاجرین کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق انہیں بھارت میں بنیادی سہولیات جیسے تعلیم، روزگار دستیاب نہیں۔ اس لیے وہ بھارت کی دارالحکومت میں احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب بھارتی حکومت افغانستان سے انخلا کے عمل پر بہت زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ حکومت نے افغان شہریوں کے لیے ویزہ کے حصول کو آسان بنانے کا اعلان کیا اور کرونا وبا کے مدنظر آرٹی پی سی آر ٹیسٹ کی لازمیت ختم کردی۔

جن افغان مہاجرین نے نئی دہلی میں واقع یو این ایچ آر سی کے سامنے مظاہرہ کیا، ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں انہیں طویل مدتی ویزہ نہیں دیے جا رہے۔

طالبان سے گفتگو کا عندیہ:

بھارت کی سب سے بڑی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس بھارت اور طالبان کے متعلق کوئی بھی موقف واضح کرنے سے گریز کررہی ہے۔

کانگریس کے قومی ترجمان پون کھیرا کے مطابق ’ہم طالبان کے متعلق حکومت کا ہاتھ نہیں باندھنا چاہتے۔ ہمیں تو کہا جا رہا تھا کہ ہم طالبان کے حامی ہیں۔ طالبان کے حامی وہ ہیں جو چھپ چھپ کر دوحہ میں طالبان سے ملے ہیں۔‘

کانگریس کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت بہروپیے کا کھیل کھیل رہی ہے۔ بھارت کے اندر طالبان کے نام پر نفرت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور خود طالبان سے خفیہ ملاقات کررہے ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ پہلے کہہ رہی ہے کہ وہ افغانستان کے تمام حصہ داروں سے بات کر رہی ہے۔ آج اور کل میں ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں بھی چلائی جا رہی ہیں کہ بھارت طالبان سے مذاکرات پر غور کررہا ہے۔ بہت صاف اشارے ہیں کہ بھارت جلد طالبان سے بات چیت کرسکتا ہے۔

بھارت کے سفارتی حلقوں سے مسلسل یہ بیانات آ رہے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات ہونے چاہییں۔ گوتم مکھو اپادھیائے نے پریس کلب آف انڈیا میں منقعدہ ایک تقریب میں کہا کہ بھارت کو طالبان سے ضرور بات کرنی چاہیے مگر اسے تسلیم کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے۔

سابق سفارت کار وویک کاٹجو نے بھی کہا کہ طالبان کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رہنے چاہییں۔

سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے پی ٹی آئی کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت کو طالبان سے معاملات کرنے میں کھلی ذہنیت رکھنی چاہیے اور افغانستان میں اپنا سفارت خانہ کھول دینا چاہیے۔

اگر ایسا نہیں ہوا تو طالبان پاکستان کی گود میں بیٹھ جائیں گے۔


’بھارت بات کرے گا‘

مسلسل اسلامی شدت پسندی کے خلاف بولتی آئی ہے۔

ایسے تناظر میں ط ال ب ان سے مذاکرات ایک دوراہے پر کھڑا ہونا جیسا ہے مگر طالبان کا وجود ایک حقیقت ہے اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

باتوں باتوں میں انہوں نے ط ال ب ان سے مذاکرات کرنے پر بی جے پی کی داخلی سیاست کمزور پڑنے کے اندیشوں کو تسلیم کیا کہ اگر بی جے پی کی حکومت طالبان سے بات کرتی ہے تو کانگریس بہت واویلا مچائے گی۔ جس کی وجہ سے بھارت کھلے طور پر کچھ بھی کرنے سے گریز کررہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں