68

کوئی بھیک مانگا تھا تو کوئی ماں باپ کی مرنے کے بعد سڑک پر سویا.


کوئی بھیک مانگا تھا تو کوئی ماں باپ کی مرنے کے بعد سڑک پر سویا.
.فیشن انڈسٹری کے 3 ایسے ڈیزائنر جنہوں نے بہت زیادہ غربت دیکھی لیکن آج مشہور شخصیات بن گئے

(ڈیلی طالِب)

اللہ اپنے بندے کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا کیونکہ وہ اپنے بندے سے 70 ماؤ ں سے زیادہ پیار کرتا ہے اس بات کا عملی نمونہ آج ہم آپکو بتائیں گے کہ کس طرح انتہائی غربت کے حالات دیکھنے والے ان فیشن ڈیزائنر نے فیشن کی دنیا میں اپنا سفر شروع کیا ۔یہ سچے واقعات آپ کو ضرور دکھی تو کر دیں گے مگر آپکویقین ہو جائے گا کہ اللہ پاک کوشش کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

محمود بھٹی:


پاکستانی نثراد دنیا کے مشہور و معروف فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی کا ابتدائی سفر بہت ہی پریشان کن ہے کیونکہ 6 سال کی عمر میں والدین دنیا سے چلے گئے پھر داتا دربار جا کر کھانا کھاتے تھے اور ایک فیملی کے ساتھ پاکستان میں رہتے تھے جو کبھی انہیں نکال دیتے اور پھر کبھی دوبارہ گھر میں لےآتے ، اپنا گزر بسر کرنے اور پڑھائی کے اخراجات برداشت کرنے کیلئے چھوٹی سے عمر میں لوڈنگ کا کام یعنی کہ دوکانوں پر سامان یہاں سے وہاں لے جایا کرتے تھے۔

پاکستان میں انکا رہنا مشکل ہو گیا تھا تو 18 سال کی عمر میں دوست کے بلوانے پر فرانس جانا چاہتے تھے مگر ٹکٹ کیلئے پیسے نہ تھے پر جیسے تیسے کر کے چلے گئے مگر وہاں بھی قسمت نے انکا امتحان لینا نہ چھوڑا اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ سال دوست کے ہی ساتھ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہے لیکن پھر وہاں سے بھی نکال دیا گیا۔

جس کے بعد ایک میٹرو ٹرین کے پل کے نیچے سخت سردی کی راتوں میں لاہور سے ہی لیا ہو ا لنڈے کا کوٹ پہنے جس کے بازو بہت برے تھے اور سر پر اپنا اٹیچی کیس رکھے بیٹھا رہا اور اسی ہی طرح کئی راتیں گزار دیں۔یاد رہے کہ ان راتوں میں درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا تھا۔

اس کے علاوہ اب انکی سختی کے دن قدرت کی ہی طرف سے کم ہوتے جا رہے تھے، پہلے تو انہیں ایک فیشن اسٹور میں صفائی کرنے کی نوکری ملی جب تو یہ کبھی کبھی مالک کے ساتھ ہول سیل مارکیٹ میں سامان کا تھیلا اٹکائے چلے جاتے تھے لیکن ایک دن مالک نہیں آیا تو یہ خود ہی بڑے اچھے طریقے سے تمام دوکانوں والوں کو مال فروخت کر آئے۔

جس پر مالک بہت خوش ہوا اوقر انہیں “سیلزمین” کی نوکری دے دی، پھر کی اتھا وقت گررتا رہا اور یہ سیلز مین سے سیلز مینیجر بن گئے اور 2 سال بعد اپنا کاروبار شروع کر لیا اور آج پورا یورپ انہیں جانتا ہے۔

ایچ ۔ ایس ۔ وائے


حسن شہریار یاسین جنہیں دنیا ایچ۔ایس۔وائے کے نام سے جانتی ہے انکا بھی ماضی خاصا اچھا نہیں ہے کیونکہ یہ شروع سے ہی بطور فیشن ڈیزائنر فیشن کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتے تھے جس کیلئے انہوں نے 4 سال یونیورسٹی میں فیشن ڈ یزائننگ کی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد ہزاروں لوگوں کے پاس نوکری کیلئے دھکے کھائے پر کسی نے بھی نوکری پر نا رکھا تھے کہ اس کام میں لڑکے اچھے نہیں لگتے۔

کیونکہ لوگ مجھے کہتاور تو اور جب اپنے دوستوں کیساتھ مل کر اپنا برانڈ لانچ کرنے لگے تو دوستوں کے گھر والوں نے انہیں میرے ساتھ کام کرنے سے منع کر دیا کیونکہ میں غریب تھا اور پیسے بھی نہیں تھے اس وقت میرے پاس۔

لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور پاکستان کے بڑے دیزائنر کے مشورے پر انہوں نے ماڈلنگ کے ایونٹس ڈیزائن کرنا شروع کردیے لیکن جب اس فیلڈ میں تھوڑا نام بننے لگا تو ملک کے ایک اور بڑے فیشن ڈیزائنر نے کہا کہ اب آپکو کچھ اور کام کرنا چاہیے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ کی وجہ سے ہمارا کام متاثر ہو۔

یہ سننا تھا کہ میں گھر آیا اور امی سے کہا کہ مجھے خود کچھ کرنا ہے اور آپکی مدد چاہیے تو والدہ نے پو چھا کہ کیسی مدد تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کے یہ پردے، بید شیٹ مجھے چاہیے جس پر والدہ کہا کیوں ، تو انہوں نے کہا کہ آپ بس مجھے کام کرنے دیں میں انشاءاللہ آپ کو اس سے اچھی چیزیں دلوا دوں گا۔

تو بس لاہور کے بازار گیا اور وہاں سے میں نے گھر میں موجود سلائی مشین کو پاؤں سے چلنے والی ایک مشین لگوائی ،دھاگہ،کینچی اور ایک یا دو اسکیل خریدےے پاس صرف 2500 روپے ہی تھے۔ کیونکہ اس وقت میر مزید یہ کہ واپسی پر ایک درزی سے بات کی کہ 7 ہزار میں آپکو نوکری پر رکھتا ہوں اور یہ کام کرنا ہوگا آپکو۔

تو پہلے تو وہ سمجھے کہ یہ پاغل ہے لیکن انہوں نے درزی کے ساتھ مل کام شروع کیا اور کچھ قمیضیں،جیکٹس اور گاؤن بنا لیے اور انکی تصاویر ایچ ۔ایس۔وائے نے تمام میگزین میں بھیج دیں تو اگلے ہی دن 5 میگزین کے سر ورق پر انکے برانڈ کی تصاویر لگی ہوئی تھیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کپڑوں کو پہن کر ماڈلنگ کیلئے میں نے آج کی مشہور زمانہ ماڈل ایمان علی کو بلایا جو کہ اس وقت اتنی مشہور نہیں تھیں لیکن ناہوں نے ماڈلنگ کی اور اس طرح حسن شہریار یاسین اس دن سے ایچ ایس وائے کے نام سے جانا جانے لگا۔

خاور ریاض:

انکے نام سے کون واقف نہیں یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے آج تک کئی ماڈل بنائے انکا کہنا ہے کہ اس انڈسٹری میں قدم رکھنے سے پہلے وہ کوئی بہت بڑے گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے تھے ۔اور پہلے تو انہیں سمجھ ہی نہیں آتی تھی کہ اب زندگی میں آگے کیا کروں۔

کیونکہ کسی کے کہنے پر یہ سائنس کے مضامین میں دلچسپی لینے لگے لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد انہیں یہ احساس ہونے لگا کہ یہ اسکول کالج میں سائنس کے مضامین پڑھنا انکے لیے نہیں بنے بلکہ انکا دل تو کسی اور کام کو کرنے کا کہتا ہے جس پر یہ فیشن کی دنیا میں چلے آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں