46

وہیل چیئر پر مصر کی سیر کو نکلی تین پاکستانی خواتین: ’ہم چاہتی تھیں دنیا کو دکھائیں کہ معذور لڑکی کسی کی محتاج نہیں ہوتی‘

وہیل چیئر پر مصر کی سیر کو نکلی تین پاکستانی خواتین: ’ہم چاہتی تھیں دنیا کو دکھائیں کہ معذور لڑکی کسی کی محتاج نہیں ہوتی‘

(ڈیلی طالِب)
اگرچہ ہم 2021 میں ہیں مگر آج بھی پاکستان میں کوئی لڑکی اکیلے ملک سے باہر سفر کرنے کا ذکر کرے تو کئی لوگوں کی بھنویں چڑھ جاتی ہیں اور سوالات کا ایک لاتعداد سلسلہ ہو جاتا ہے۔۔۔ کس کے ساتھ جا رہی ہو، کیوں جا رہی ہوں، وہاں کس کے پاس رہو گی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن اگر وہ لڑکی جسمانی طور پر معذور ہو اور سیر کے لیے کسی دوسرے ملک اکیلے جانا چاہیے تو سوچیے لوگوں کا کیا ردِعمل ہو گا؟

گذشتہ برس کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد جب اچانک بڑھی تو میں اس وقت ترکی میں تھی۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہوٹل سے لے کر ریستورانوں تک سب بند ہونے لگے، فلائٹس کینسل ہو گئیں، حتیٰ کہ پاکستان نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی اور میں نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے کہ اللہ میاں اس بار کسی طرح واپس پاکستان پہنچا دیں آئندہ ایسا رسک نہیں لوں گی۔۔ لیکن پھر گذشتہ روز میری نظر ویل چئیر پر مصر کی سیر کرتی تین پاکستانی لڑکیوں کی تصاویر پر پڑی۔

کورونا وائرس کی وبا کے بعد سے جہاں اچھے بھلے چلتے پھرتے لوگ کہیں بھی سیر کے منصوبے بناتے ڈر رہے ہیں وہیں یہ تین معذور پاکستانی خواتین وہیل چیئر ہر پاکستان سے باہر مصر جیسے ملک کا دورہ کر رہی ہیں اور یقین مانیے خوبصورت ملبوسات میں ان کی رنگا رنگ تصاویر دیکھ کر میرا تو دل چاہا کہ سب چھوڑ کر میں بھی قاہرہ پہنچ جاؤں۔

ظاہر ہے جنھوں نے اپنی معذوری سے ہار نہیں مانی، کورونا کی وبا ان کے ارادوں میں کیسے رکاوٹ بن پاتی۔

یہ تین خواتین تنزیلہ، افشاں اور زرغونہ ہیں۔ تنزیلہ کا تعلق لاہور سے ہے، افشاں پشاور کی ہیں جبکہ زرغونہ کوئٹہ میں رہتی ہیں۔ معذوری نے ان تینوں کو آپس میں بہترین دوست بنا دیا۔ آئیے آپ کو ان تینوں بہادر خواتین سے ملواتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ ویل چئیر پر بنا کسی مددگار کے دنیا بھر کی سیاحت کیسے کر رہی ہیں۔

تنزیلہ: انسان اگر ذہنی طور پر معذور نہ ہو تو وہ بہت حد تک خود مختار ہو جاتا ہے

30 سالہ تنزیلہ بچن سے معذور ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’گھٹنوں سے نیچے میری ٹانگیں ہیں ہی نہیں اور میں نے پوری زندگی وہیل چیئر ہر گزاری ہے‘ لیکن اب تک وہ اسی ویل چیئیر پر دنیا کے 20 ممالک گھوم چکی ہیں۔

اکیلے سفر کرنے کے فیصلے کے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ میں چاہتی تھی ’ایک قسم کا جھنڈا گاڑ دوں کہ معذور لڑکی کسی کی محتاج نہیں ہوتی، وہ خودمختار ہو سکتی ہے، اپنے فیصلے خود لے سکتی ہے۔‘

تنزیلہ کہتی ہیں کہ ’اللہ نے تو انسان کو خودمختار بنایا ہے لیکن ہمارے ملک میں معذور انسان کو دوسروں کا محتاج بنا دیا جاتا ہے اور وہ کسی کی مدد کے بغیر کہیں آ جا نہیں سکتا، ریستورانوں سے لے کر پبلک واش روم تک ایک معذور انسان کے لیے کہیں ایسی سہولیات نہیں کہ وہ خود اکیلا جا سکے۔۔۔ اسے واش روم تک مجبوراً کسی کو ساتھ لیجانا ہی پڑتا ہے۔۔۔ کوئی پرائیویسی نہیں رہتی اور پرائیویسی نہیں تو آپ کی خوداعتمادی بھی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔‘

’میں نے سوچا میں آگے بڑھوں گی تو میری مثال دیکھ کر اور بھی لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔‘

میں نے تنزیلہ سے پوچھا کہ اب تک کی زندگی کیسی رہی اور والدین نے ان کا کتنا ساتھ دیا، اس کے جواب میں وہ کہتی ہیں کہ ا’نسان اگر ذہنی طور پر معذور نہ ہو تو وہ بہت حد تک خود مختار ہو جاتا ہے۔‘

تنزیلہ بتاتی ہیں انھیں کسی بہت بڑے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن اگر کوئی مشکل صورتحال درپیش آئی بھی تو ’میں نے بہت بہادی سے اس کا مقابلہ کیا ہے۔‘

ایک سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ تنزیلہ اپنی دو کمپنیاں چلا رہی ہیں، انھوں نے یونیورسٹی آف لندن سے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ میں بیچلرز کر رکھا ہے۔ وہ ایک پبلک سپیکر اور معذور افراد پر بننے والی ایک فلم اور کئی منصوبوں بھی کا حصہ ہیں۔

ٹریولنگ تنزیلہ کا شوق ہے اور وہ وہ اپنے سفر کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کرتی ہیں تاکہ ان کے ذریعے دوسرے معذور افراد کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کے گھر والے بھی ان کا ویسے ہی ساتھ دیں جیسے تنزیلہ کے اہلِ خانہ انھیں سپورٹ کرتے ہیں۔

یہ تنزیلہ کا بیرونِ ملک کا پہلا سفر نہیں۔ وہ مصر جانے سے قبل 19 ممالک کا دورہ کر چکی ہیں مگر ان کی والدہ ہمیشہ ان کے ہمراہ موجود ہوتی تھیں۔

رواں برس تنزیلہ نے پہلی مرتبہ اکیلے ترکی کا سفر کیا۔ تنزیلہ کی تصاویر دیکھ کر افشاں اور زرغونہ نے ان سے رابطہ کیا کہ مل کر کسی ملک کی سیر کو چلتے ہیں۔

بغیر کسی مددگار کے اکیلے سفر کا تجربہ اتنا اچھا رہا کہ تنزیلہ نے فیصلہ کیا ہے اب سے آگے وہ اکیلے ہی سفر کریں گی۔

افشاں: کیوں نہ دنیا کو دکھائیں کہ معذور خواتین کیسے دوسرے ملکوں کا سفر کر سکتی ہیں

درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ افشاں پشاور میں رہتی ہیں، بچپن میں انھیں پولیو ویکسین نہ کروائے جانے کے سبب 22 سال کی عمر میں ان کے جسم کا 75 فیصد حصہ اپاہج ہو گیا تھا۔ فزیو تھراپی سے ان کی صحت کچھ حد تک بحال ہوئی اور اب وہ کم از کم ویل چئیر پر بیٹھ سکتی ہیں۔

اکیلے سفر کرنے کے فیصلے کے متعلق وہ کہتی ہیں کہ معذور عورتوں کو اکثر ترس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ کہیں نہیں جا سکتیں، میں نے سوچھا ’کیوں نہ دنیا کو دکھائیں کہ اگر حوصلہ ہے تو کچھ ناممکن نہیں اور معذور خواتین کیسے دوسرے ملکوں کا سفر کر سکتی ہیں اور کن گائیڈ لائنز پر عمل کر سکتی ہیں۔‘

افشاں بتاتی ہیں کہ ہم دیکھتے تھے کہ پاکستان سے لڑکیاں باہر سیر کو جا رہی ہیں لیکن معذور افراد کا کہیں ذکر نہیں تھا، کہ ان کے لیے کیا سہولیات ہیں، وہ کیسے باہر کا سفر کر سکتی ہیں، دوسرے ملکوں میں معذور افراد کے لیے وہی حالات ہیں جو پاکستان میں ہیں یا وہاں بہتر سہولیات ہیں۔

انھوں نے مائیکروبیالوجی میں بی ایس آنزر کر رکھا ہے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر معذور افراد کے لیے بنائے جانے والے کئی منصوبوں کا حصہ ہیں۔ مخلتف اداروں میں معذور خواتین کی شرکت کو یقینی بنانا ان کے کام کا حصہ ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کی تعلیم کے حوالے سے ان کے والدین کو بھی وہی مسائل پیش آئے جن کا سامنا معذور بچوں کے والدین کو سہولیات نہ ہونے کے سبب کرنا پڑتا ہے ’ٹرانسپورٹ سے لے کر بلڈنگ اور واش روم تک کہیں بھی معذور افراد کے لیے کوئی سہولیات نہیں تھیں۔‘

’سکول میں کلاس روم اوپری منزل پر تھے اور میرے لیے اوپر جانا بہت بڑا مسئلہ تھا۔۔ میں سکول میں کھیل نہیں سکتی تھی، کچھ کھا پی بھی نہیں سکتی تھیں کہ کہیں رفع حاجت کی ضرورت نہ پڑ جائے کیونکہ وہاں تو واش روم تھے ہی نہیں۔۔۔ سوچیں ایک چھٹی کلاس کی بچی کسی اذیت سے گزرتی ہو گی (پانی نہ پینے کے باعث بعد میں انھیں گردوں کے مسائل کا بھی سامنا رہا)۔‘

وہ کہتی ہیں کہ معذور لڑکیوں کو پاکستان میں بہت ترس کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور فیصلوں میں انھیں شامل کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ تاہم ان کے والدین نے ان کا بہت ساتھ دیا۔

یہ افشاں کا بھی پہلا سفر نہیں وہ اس سے پہلے کانفرنس اور ورکشاپس وغیرہ کے لیے چھ ممالک کا دورہ کر چکی ہیں تاہم اس سب دوروں میں وہ گروپس کا حصہ تھیں یا ان کے ساتھ کوئی موجود ہوتا تھا۔

زرغونہ: ’اس سے پہلے میں اکیلے کوئٹہ سے اسلام آباد یا کراچی تک بھی نہیں گئی‘
پٹھان گھرانے سے تعلق رکھنے والی 36 سالہ زرغونہ سات ماہ کی تھیں جب انھیں پولیو کا اٹیک ہوا اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئیں ’پوری زندگی میں محسوس نہیں کر پائی کہ چلنا پھرنا کیسا ہوتا ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’اس سے پہلے میں اکیلے کوئٹہ سے اسلام آباد یا کراچی تک بھی نہیں گئی اور میرے ساتھ کوئی نہ کوئی اٹینڈنٹ ہوتا ہے۔حتیٰ کہ کوئٹہ میں بھی کہیں جاؤں تو کسی کو ساتھ لے کر جانا پڑتا ہے۔‘

یہ ان کا پہلا سفر تو نہیں تو مگر اکیلے پہلا سیاحتی دورہ ضرور ہے۔ اس سے پہلے وہ گروپس کے ساتھ مختلف کاموں کے سلسلے میں تین ممالک کا دورہ کر چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ تنزیلہ اور افشاں کو دیکھ کر میری بہت حوصلہ افزائی ہوئی اور میں نے بھی اکیلے سفر کی ہمت کی کہ ’اگر یہ دونوں اکیلے سفر کر سکتی ہیں تو میں کیوں نہیں۔‘

انھوں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز اور ایل ایل بی کر رکھا ہے اور معذور افراد کے لیے کام کرنے والی سوشل ایکٹویسٹ ہیں اور اپنی آرگنائزیشن بھی چلاتی ہیں۔

کورونا کی وبا میں سفر کرنے کی ہمت کیسے کی؟

ان تینوں نے فروری سے منصوبے بنانے شروع کیے، واٹس ایپ پر ایک گروپ بنایا۔۔۔ کبھی مالدیپ تو کبھی کوئی اور ملک اور آخر کار انھوں نے مصر کا انتخاب کیا۔

اس ٹرپ کو پلان کرنے میں انھیں پانچ مہینے لگے مگر ان تینوں بہادر خواتین نے کسی ٹریول ایجنٹ کی خدمات نہیں لیں اور سب انتظام خود کیا۔

تنزیلہ نے تینوں کے کاغذات اکھٹے کرکے ویزے لگوائے، ہر جگہ بکنگ کروائی، تین بار ان کی ٹکٹیں کیسنل ہو گئیں۔۔۔ انھیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا مگر انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور آخر کار اسلام آباد میں اکھٹے ہوئیں جہاں سے انھوں نے مصر کی فلائیٹ پکڑی۔

کیا انھیں کورونا وائرس کے باعث کوئی فکر نہیں ہوئی کہ صورتحال کسی بھی وقت غیر یقینی ہو سکتی ہے اور سفر میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں؟

اس کے جواب میں تنزیلہ کہتی ہیں کہ ’ہاں ٹینشن تو ضرور تھی لیکن ہم جذبے میں بہت آگے ہیں، لہذا ہم نے اپنی ویکسینیشن کروائی، پی سی آر کروایا اور کہا کہ اب ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔‘

گھر والوں نے روکا نہیں؟
کیا گھر والوں نے بھی نہیں روکا؟ تنزیلہ بتاتی ہیں کہ شروع میں تو میرے گھر والوں کا ردِعمل بھی وہی تھا جو کسی بھی لڑکی کے گھر والوں کا ہوتا ہے جب وہ بیرونِ ملک اکیلے جانے کا نام لے ’انھیں خدشات تھے لیکن انھیں میرے حوصلے اور ہمت کا اندازہ ہے اور یہ بھی یقین ہے کہ مسئلہ پیش آئے گا تو تنزیلہ نمٹ لے گی۔‘

’میرا خیال ہے کہ میری فیملی میرے بجائے دوسروں کے لیے زیادہ دعاگو رہتی ہو گی کہ کوئی اس کے ہتھے چڑھ گیا تو وہ نہیں بچے گا۔‘

افشاں مانتی ہیں کہ یقیناً والدین کے لیے معذور بیٹی کا اکیلے ملک سے باہر جانا زیادہ پریشان کن ہوتا ہے اور اس سفر کے متعلق ان کے والدین شروع میں ذار شاکڈ تھے کہ اکیلے کیوں جانا ہے جبکہ وہاں کوئی کانفرنس وغیرہ بھی نہیں۔۔ انھیں گرمی کا بھی ڈر تھا اور چونکہ ویل چئیر پر انسان کو زیادہ پسینہ آیا ہے تو وہ پریشان تھے کہ میں بہت تھک جاؤں گی۔۔۔ ’انھیں خدشات تو تھے لیکن میں نے یہ کہہ کر منا لیا کہ میں کب تک آپ انحصار کرتی رہوں گی۔‘

ان تینوں کے مطابق ’اب تک ہمارے گھر والے دیکھتے آئے ہیں کہ ہم کتنی خود مختار ہیں، وقت لگا لیکن ہمارے خاندانوں (بھائیوں اور والدین) نے ہمیں سپورٹ کیا اور ان کے خاندان انھیں اسلام آباد ائیر پورٹ چھوڑنے بھی آئے۔

مصر میں معذور افراد کے لیے سہولیات کیسی ہیں؟
تنزیلہ بتاتی ہیں کہ اگرچہ مصر میں معذور افراد کے لیے سہولیات کا فقدان ہے ’جب ہم نے ائیر پورٹ پر لینڈ کیا تو سامان کا کوئی اتا پتا نہیں تھا، ویل چیئرز بہت دیر سے آئیں، باتھ روم گئے تو پانی ہی نہیں تھا اور ہم تینوں اکیلے ہی ادھر سے ادھر جا رہی تھیں۔۔۔ ایک گاڑی میں ویل چئیرز نہیں آ سکتیں لہذا دوسری گاڑی منگوانی پڑی، لوگوں کو ویل چئیرز فولڈ نہیں کرنی آ رہی تھیں اور ٹوٹنے کا خطرہ تھا اور ہمیں آگے بڑھ کر خود ہی اپنی ویل چیئرز فولڈ کرنی پڑ رہیں تھیں، ساتھ میں پاسپورٹ اور پی سی آر اور دیگر کاغذات مانگے جا رہے ہیں۔۔۔‘

زرغونہ بتاتی ہیں کہ ائیرپورٹ پر ٹیکسیوں والے اور لوگ آوازیں لگا رہے تھے ادھر آ جائیں یہ پیکج یہ ٹیکسی لے لیں، ’تب تھوڑا سا ڈر تو لگا کہ کس انجان ملک میں آ گئے ہیں جہاں زبان بھی مختلف ہے لیکن ہم نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑے، بیگ اٹھائے اور باہر آ کر اوبر لی۔‘

’ایسا نہیں ہے کہ ہمارے لیے سب کچھ پلیٹ میں تیار پڑا ہے لیکن اگر گاڑی کا ڈرائیور بھی نیا ہو تو ہم سب کچھ سے خوشی خوشی نمٹ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو مزاحیہ انداز میں بتاتے ہیں کہ آج پھر ویل چئیر کا سارا ٹیوٹوریل کروانا پڑے گا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ہوٹل میں بھی اگر لفٹ نہ ہو اور سیڑھیوں سے نیچے لانے والوں کو بتانا پڑتا ہے کہ ویل چئیر کو کہاں سے پکڑے تاکہ توازن برقرار رہے، ان پر بھی بوجھ نہ بنے اور ہم بھی نہ گریں۔

تنزیلہ کہتی ہیں کہ ’حتیٰ کہ ابھی جس باتھ روم میں ہم ہیں وہاں بندہ نہا ہی نہیں سکتا، ہمارے ساتھ سب کچھ ہی ہو چکا ہے لیکن ہمارے لیے یہ مسئلے نہیں زندگی کا حصہ ہیں لہذا ہم شکایت نہیں کریں گی اور سب کچھ خود کر رہی ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کر رہی ہیں۔‘

لیکن اس سب کے باوجود وہ اب تک مکمل خود مختاری سے گھوم رہی ہیں، خود ہی گاڑی میں بیٹھتی ہیں، خود ہی شاپنگ کرنے جا رہی ہیں، نئے نئے کھانوں کا ذائقہ چکھ رہی ہیں اور بھرپور انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے بہت سے چیزیں سیکھ بھی رہیں ہیں اور سب سے بڑھ کر آزاد محسوس کر رہی ہیں۔

اس بارے میں افشاں کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ویل چئیر پر دیکھ کر اکثر اوبر ڈرائیور ڈبل کرایہ مانگ لیتے ہیں، کیونکہ ان کو پتا ہے کہ ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں، معذور ہیں تو بس لوٹ لو ۔۔۔ مسائل تو ہوتے ہیں لیکن اب ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ پر موجود معلومات، اتنی سروسز آ گئیں کہ ضروری نہیں آپ اسی ٹیکسی ڈرائیور پر انحصار کریں، بلکہ ان سروسز کا استعمال کریں اور ان رکاوٹوں کو دور کریں۔ لوگوں کو بتائیں کہ آپ معذور ضرور ہیں لیکن آپ کے پاس بھی دوسری ٹیکسی یا دوسری سروس استمعال کرنے کا آپشن ہے۔‘

بغیر مددگار کے اکیلے سفر کرکے کیا سیکھا؟
اس کے جواب میں تنزیلہ کہتی ہیں کہ ’میں نے سیکھا ہے کہ اللہ نے انسان کو بہت طاقت دی ہے اور اسے اس طاقت کو استعمال کرتے ہوئے کچھ اچھا کرنا چاہیے اور اسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ میں خود کو روزشیشے میں ویل چئیر پر بیٹھے تو نہیں دیکھتی لیکن جب میں افشاں اور زرغونہ کو ویل چئیر پر اپنے زندگی مینج کرتے دیکھتی ہوں تو مجھے اس میں اپنا عکس نظر آتا ہے تو میں سوچتی ہوں کہ اللہ نے مجھے کتنا لاجواب بنایا ہے۔۔۔ جیسے یہ کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں میں بھی اسی طرح بڑھ رہی ہوں۔

اکیلے سفر کرنے کے فیصلے کے متعلق وہ بتاتی ہیں کہ ’پہلے تو دل میں خوف تھا کہ کیسے سب ممکن ہو گا لیکن یہ تجربہ بہت اچھا رہا میں نے بہت کچھ سیکھا۔‘

اس بارے میں افشاں کہتی ہیں کہ ’میں نے خود پر اعتماد کرنا سیکھا ہے اور یہ سیکھا ہے کہ اپنی ذات کو مکمل سمجھیں۔ ایک بار آپ نے فیصلہ کر لیا تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو روک نہیں سکتی۔ گھر بیٹھ کر سوچتے رہنا کہ میں تو معذور ہوں وہاں اس ملک میں پتا نہیں میرے ساتھ کیا ہو گا۔۔۔ مسائل ہوتے ہیں لیکن ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

جبکہ زرغونہ کا کہنا ہے انھوں نے سیکھا کہ خاندان ہر وقت آپ کے ساتھ نہیں ہوتا، آپ کا اٹنڈینٹ بھی انسان ہے اسے بھی کوئی بیماری ہو سکتی ہے، اسے بریک چاہیے اور اس صورتحال سے میں کیسے نمٹ سکتی ہوں ’اس ٹرپ سے ہم نے اتنا کچھ سیکھا ہے کہ اس کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ کوئی چیز ہمارے لیے مشکل ہو گی۔

تنزیلہ بتاتی ہیں کہ اب تک ہوٹل سے لے کر ڈارئیوروں اور سیر کے مقامات پر انتظامیہ، سبھی نے ہم سے بہت تعاون کیا ہے۔

ابھی یہ تینوں شرم الشیخ میں ہیں اس سے قبل وہ الیگزینڈریہ اور قاہرہ کا دورہ کر چکی ہیں۔ مستقبل میں یہ تینوں مزید ممالک کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ اور بھی معذور خواتین کو اپنے سفر میں شریک کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں