63

جنرل فیض کابل کیا کرنے گئے تھے؟

جنرل فیض کابل کیا کرنے گئے تھے؟

(ڈیلی طالِب)

ہوٹل کی لابی میں جب ایک رپورٹر نے ان سے اس دورے کے بارے میں پوچھا تو جنرل فیض نے مختصر جواب دیا: ’فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کا حالیہ دورہ کابل میڈیا پر چھایا رہا۔ یہ دورہ دنیا بھر میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے کہ جب افغانستان کی نئی حکومت بنی نہیں تو ان کے جانے کا اصل مقصد کیا تھا۔

جنرل فیض حمید پاکستان میں تو محض سرکاری بیانات یا تصاویر میں ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن کابل میں وہ پبلک میں نظر آئے۔

’چائے یا کافی کی پیالی‘ کے ساتھ تصویر پر بھی بحث ہوئی کہ آیا وہ جان بوجھ کر جاری کی گئی یا محض ایک اتفاق تھا۔

کابل سرینا ہوٹل میں لی گئی اس تصویر میں وہ بہت کیژول تھے۔ پھر ط ال ب ان کنٹرول کے بعد حالات کی کوریج کے لیے آئے صحافیوں سے بھرے اس ہوٹل میں وہ ان سے ملے بھی اور بظاہر چلتے چلتے ایک دو سوالوں کے جواب بھی دے گئے۔

کابل میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان بھی قریب ہی ان کی مدد کے لیے موجود تھے۔

ان کے دورے کی خبر پاکستان یا کہیں اور چلی یا نہ چلی ہوں بھارت میں خوب نشر ہوئی۔ ہر چینل اسے اپنے زاویے سے پرکھتا رہا۔

کسی نے اس کیژول تصویر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستان اب مکمل کنٹرول میں ہے لیکن کسی کے لیے یہ تصویر ظاہر کر رہی تھی کہ شاید انہیں کابل میں کوئی زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔

ہوٹل کی لابی میں جب ایک رپورٹر نے ان سے اس دورے کے بارے میں پوچھا تو جنرل فیض نے مختصر جواب دیا: ’فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘

حکومت پاکستان نے اس بارے میں کچھ زیادہ بیان نہیں کیا ماسوائے وزیر اطلاعات فواد چوہدری، جنہوں نے کہا کہ جنرل فیض صورت حال کا جائزہ لینے کابل گئے تھے۔

ان کے دفاع میں فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جنرل فیض سے قبل امریکہ، ترکی اور قطر کے انٹیلی جنس حکام بھی افغانستان کے دورے کر چکے ہیں لہٰذا جنرل فیض کے دورے پر پروپیگینڈا غیرضروری ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ باقی ایجنسی سربراہان کے مقابلے میں ان کا دورہ میڈیا میں اتنا ہائی پروفائل کیوں رہا۔

ابہام اس بارے میں بھی رہا کہ آیا یہ دورہ ط ال ب ان کی درخواست پر ہوا یا پاکستان کی۔ پاکستانی میڈیا نے خبر دی کہ جنرل فیض حمید ط ا ل ب ان کی دعوت پر کابل گئے تھے تاہم ط ال ب ان نے وضاحت کی کہ پاکستان نے اس دورے کی تجویز دی تھی۔

جنرل فیض نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے لیے افغانستان کو تکنیکی مدد فراہم کرے گا۔

کابل پر ط ا ل ب ان کے کنٹرول کے بعد جنرل فیض افغانستان کا دورہ کرنے والے اعلیٰ ترین پاکستانی عہدیدار ہیں۔

شاہ محمود قریشی یا کسی اور اعلیٰ اہلکار کی ابتدائی دنوں میں دورے کی خبریں تھیں لیکن پھر اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔

ماہرین کے خیال میں ط ا ل ب ان کی مدد جیسے الزامات کے تناظر میں پاکستان کے لیے بہتر یہ تھا کہ ابھی افغانستان کے ہائی پروفائل دوروں سے اجتناب کیا جائے۔

ط ال ب ان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں سوموار کو نیوز کانفرنس میں دورے سے متعلق چند معلومات صحافیوں سے شیئر کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سکیورٹی وفد پاکستان کے تحفظات پر بات کے لیے آیا تھا۔ ان میں سرحدوں کے کھولنے اور ڈیورنڈ لائن جیسے معاملات شامل تھے۔

’اس سکیورٹی وفد نے ملاقاتوں میں افغان جیلوں سے بھاگے ہوئے قیدیوں کے بارے میں تشویش سے آگاہ کیا۔ پاکستان کا خیال ہے کہ سرحد کھولنے سے ایسے لوگ پاکستان پہنچ سکتے ہیں۔‘

ذبیح اللہ نے کہا کہ جواب میں ط ال ب ا ن نے انہیں یقین دہانی کروائی کہ ’افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔‘

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ انہوں نے پاکستان سے سرحدیں کھولنے کا مطالبہ کیا کیونکہ اس سے تاجروں اور مریضوں سمیت عام افغانوں کو مسائل درپیش ہیں۔

حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ جنرل فیض نے ان سے بھی ملاقات کی اور ملک کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ وہ دیگر افغان سیاسی شخصیات سے بھی ملے ہیں۔

اگرچہ جنرل فیض حمید کہتے ہیں کہ ان کا دورہ دوطرفہ مسائل اور مسافروں کی آمدورفت سے متعلق ہے لیکن میرے خیال میں اس نے افغانوں میں تشویش پیدا کی ہے۔‘

بعض اطلاعات کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ نئی طالبان حکومت میں گلبدین حکمت یار اور پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر عمر زاخلوال کو شامل کیا جائے۔ اس بارے میں سرکاری تصدیق موجود نہیں لیکن بظاہر یہی لگتا ہے کہ پاکستان اپنے چند ’فیورٹ‘ سیاست دانوں کو نئی انتظامیہ میں دیکھنا چاہتا ہے۔

انڈپینڈنٹ فارسی کے فریدون آژاند نے ایک تحریر میں لکھا کہ جنرل فیض دراصل کابل میں طالبان کے درمیان شہر کے کنٹرول اور حکومت سازی کو لے کر اختلافات ختم کرنے کے لیے آئے تھے۔

ان کی تحریر کے مطابق: ’جنرل فیض کی موجودگی صرف ملا عبدالغنی برادر اخوند اور حقانی رہنماؤں کے ساتھ ان کے اتحادیوں کے درمیان کشیدگی کو دور کرنے کے لیے تھی۔‘ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ’حقیقت یہ ہے کہ حقانیوں اور ان کے جنگجوؤں کے کابل میں تیزی سے داخل ہونے اور شہر کے سٹریٹجک علاقوں پر قبضے کے آغاز سے ہی اختلاف واضح ہو گیا تھا۔‘

تاہم ذبیح اللہ مجاہد نے اخباری کانفرنس میں طالبان کے اندرونی اختلافات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ تاخیر کی وجہ ایک اچھے طریقے سے مشاورت کے بعد حکومت سازی کرنا ہے۔

آئی ایس آئی کے ماضی کے کردار کی وجہ سے کوریج ملنا یقینی بات تھی لیکن کیا اتنی پبلسٹی جان بوجھ کر دی گئی یہ واضح نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں