57

جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد: کامیابی کا امکان کتنا؟

جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد: کامیابی کا امکان کتنا؟

(ڈیلی طالِب)

بلوچستان اسمبلی میں متحدہ حزب اختلاف نے 16 اراکین کے دستخط کے ساتھ وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے۔

صوبہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے، جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے 16 اراکین کے دستخط ہیں۔

صوبائی اسمبلی کے سیکرٹری کے پاس منگل کی شب جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد میں لکھا ہے کہ تین سال کے دوران بلوچستان میں شدید مایوسی، بدامنی اور بے روزگاری رہی ہے اور اداروں کی کارکردگی متاثر ہوئی۔

تحریک عدم اعتماد کے مطابق آئین کی شق 37 اور 38 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر منصفانہ، عدم مساوات اور متعصبانہ ترقیاتی بجٹ پیش کیا گیا۔

بلوچستان اسمبلی کے 65 رکنی ایوان میں متحدہ اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 23 ہے، جن میں جمعیت علمائے اسلام ف کے 11، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 10، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک اور ایک آزاد رکن نواب اسلم رئیسانی شامل ہیں۔

ایک ٹویٹ میں وزیراعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ انہیں اس تحریک سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کی پارٹی ان کے ساتھ ہے۔

پارلیمانی امور کے ماہرین کا کہنا ہے تحریک کو کامیاب ہونے کے لیے متحدہ اپوزیشن کو اسمبلی میں 33 اراکین کی حمایت کی ضرورت ہے اور اگر حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) میں اراکین نے بھی اپوزیشن کی حمایت کردی تو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا امکان ہے۔

وزیراعلیٰ کو ’مستعفی ہونے کا مشورہ‘
تحریک عدم اعتماد جمع کروانے والوں میں شامل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نصر اللہ زیرے کا کہنا ہے جن نکات پر انہوں نے یہ قدم اٹھایا ان کی بنیاد پر کامیابی یقینی ہے۔

انہوں نے ڈیلی طالِب کو بتایا کہ موجودہ حکومت کے تین سالوں کے دوران نہ صرف بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال خراب ہوگئی بلکہ اربوں روپے کرپشن کی نظر ہوگئے ہیں۔

امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ضلع پنجگور میں ہی حالیہ مہینوں میں ٹارگٹ کلنگ میں 38 افراد مارے گئے ہیں۔

نصر اللہ زیرے نے کہا: ’ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے علاوہ کوئلہ کانوں کے مزدوروں کا قتل، مانگی ڈیم میں لیویز اہلکاروں کو بم سے نشانہ بنانا اور آئے روز ہونے والے بم دھماکے حکومت کی ناکامی واضح کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد اس لیے بھی کامیاب ہوسکتی ہے کیونکہ بلوچستان کے ایک کروڑ 23 لاکھ عوام حکومت سے بے زار ہوچکے ہیں۔ ’یقیناً ان کے نمائندے بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔‘

نصراللہ زیرے نے دعویٰ کیا کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل ہے اور مزید لوگ بھی حمایت کریں گے، تاہم انہوں نے اپنی عددی برتری بتانے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی نظام میں وزیراعلیٰ ہی ہر چیز کا ذمہ دار ہوتا ہے اور گذشتہ تین سالوں کے دوران اسمبلی میں حکومت کو ہر طرح سے بتایا کہ امن وامان اور کرپشن کے معاملات کو روکا جائے، مگر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔

نصراللہ زیرے نے وزیراعلیٰ جام کمال کو مشورہ دیا کہ وہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل ہی مستعفیٰ ہوجائیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا۔

دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کے ویمن ونگ کی رکن شانیہ خان نے کہا کہ ہر دورمیں اپوزیشن حکمران جماعت کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتی ہے، لیکن موجودہ تحریک عدم اعتماد ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ باپ پارٹی متحد ہے اور وہ وزیراعلیٰ جام کمال کےساتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’عوام کی طاقت وزیراعلیٰ جام کمال کے ساتھ ہے، انہوں نے بلوچستان کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’حزب اختلاف کو بلوچستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی اور آئے روز نئی نئی سازشیں کرتے ہیں، لیکن ان کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا اور وہ ماضی کی طرح ایک بار پھر شرمندہ ہوں گے۔

تحریک کی کامیابی کے امکان؟
بلوچستان اسمبلی کے پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی عبدالخالق رند سمجھتے ہیں کہ اس وقت صورت حال کارکردگی کی نہیں بلکہ ارکان اسمبلی کی طرف سے کسی ایک طرف جانے پر منحصر ہے۔

ڈیلی طالِب سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بظاہر تو یہی لگتا ہےکہ اپوزیشن نے اپنی پوری تیاری کرلی ہے اور اس کے بعد تحریک اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن صورت حال کے مزید واضح ہونے میں اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں، جس کے بعد ہی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے بتایا جاسکتا ہے۔

عبدالخالق کے بقول: ’اس وقت ہمیں جو وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے لیے مسائل بننے کے اسباب نظر آتے ہیں، ان میں ان کی جماعت باپ کارکنوں کی ناراضی بھی شامل ہے، جس کے بارے میں سردار صالح بھوتانی اور سپیکر عبدالقدوس بزنجو اظہار کرتے رہتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ سابق وزیر سردار صالح بھوتانی نے وزارت چھن جانے کے بعد اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

عبدالخالق نے بتایا کہ سابقہ دور میں نواب ثنااللہ زہری کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد لائی گئی تھی اور انہوں نے رائے شماری سے قبل ہی استعفیٰ دیا تھا۔ اگر اس وقت صورت حال کو اس سے تشبیہ دیں تو اس وقت کوئی ناراض ارکان نہیں تھے۔ ’اتحادی جماعتیں نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی حکومت کے ساتھ تھیں، لیکن مسلم لیگ ن کے ارکان میں سے بعض نے حمایت نہیں کی اور نواب ثنااللہ زہری کو مستعفیٰ ہونا پڑا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر باپ کے ارکان متحد رہتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ اگر وہ تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہیں کریں گے تو باقی بھی ہوا کا رخ دیکھ کر مخالف سمت میں نہیں جاسکتے۔

عبدالخالق کے مطابق اس وقت بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کو 23 ارکان کی حمایت حاصل ہے اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 33 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں