59

بیٹی ہوئی تو گھر سے نکال دیا، بیٹا ہوتا تو نہ نکالتے ۔۔ ایک ایسی باہمت عورت کی کہانی جس نے بیٹیوں کو کمزوری نہیں بنایا

بیٹی ہوئی تو گھر سے نکال دیا، بیٹا ہوتا تو نہ نکالتے ۔۔ ایک ایسی باہمت عورت کی کہانی جس نے بیٹیوں کو کمزوری نہیں بنایا

(ڈیلی طالِب)
میرے شوہر ایدھی سینٹر کے باہر کھڑے ہوگئے اور مجھ سے کہا کہ تم ان لڑکیوں کو اپنے ساتھ لے جاؤ ورنہ میں ان کو ایدھی سینٹر میں دے دوں گا۔ میں ماں تھی نا اس لئے اپنی دونوں بیٹیوں کو لے آئی۔ کیا بیٹیوں کے بجائے بیٹے ہوتے تو انھیں کوئی ایسے چھوڑتا؟

امبرین موسیٰ کے یہ سوالات دراصل اس معاشرے کی دوغلی پالیسیوں پر طمانچہ ہیں جو منہ سے تو عورتوں کے حقوق کی دہائی دیتا نہیں تھکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی یہاں بیٹیوں کے مقابلے میں بیٹوں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔ امبرین ایک ایسی خاتون ہیں جن کو ان کے شوہر نے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا اور تعلیم مکمل نہ ہونےکی وجہ سے انھوں نے کئی مشکلات کا سامنا کیا اور اپنی دو کمسن بیٹیوں کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑی ہوئیں۔

ایک بیٹی جو کچھ پل کی مہمان ہے
امبرین موسیٰ کی بڑی بیٹی اسپیشل چائلڈ ہیں یعنی ایسی بچی جو جسمانی یا ذہنی طور پر مکمل نہیں اور امبرین کا کہنا ہے کہ ان کی اس بیٹی کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں کہ اسے ایک سال جینے کی مہلت ملتی بھی ہے یا نہیں۔ لیکن وہ اپنی چھوٹی بیٹی کی تعلیم پر توجہ دیتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ وہ پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے۔ امبرین کا کہنا ہے کہ جب وہ کام کرنے جاتی تھیں تو ان کی پانچ سال کی بیٹی اپنی دس سال کی بہن کو کھانا کھلاتی تھی اور باتھ روم لے کر جاتی تھی کیونکہ بڑی بیٹی یہ سارے کام خود کرنے کے قابل نہیں تھی۔

میکے میں بھی کوئی نہیں
امبرین کا کہنا ہے کہ ان کے سابق شوہر نے دوسری شادی کرلی اور ایک بار جب وہ گروسری اسٹور میں کھڑی تھیں تو انھیں پتہ چلا کہ ان کے کریڈٹ کارڈز بلاک کیے جاچکے ہیں کیونکہ ان کے شوہر بیٹیوں کا خرچہ نہیں اٹھانا چاہتے تھے۔ امبرین نے یہ بھی بتایا کہ ان کی ماں نہیں ہیں اس لئے میکے والے بھی نہیں پوچھتے۔ اس لئے انھیں لگتا ہے کہ ہر لڑکی کو اپنے پیروں پر ضرور کھڑا ہونا چاہئیے تاکہ جو کچھ ان کے ساتھ ہو ہے کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں