73

طالبان دور میں طبی مراکز کے امداد سے محروم ہونے پر غریب افغان خواتین کے لیے بچوں کو جنم دینا مزید مشکل

طالبان دور میں طبی مراکز کے امداد سے محروم ہونے پر غریب افغان خواتین کے لیے بچوں کو جنم دینا مزید مشکل

(ڈیلی طالِب)

مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں چند دن قبل ہی بچے کو جنم دینے والی رابعہ اسے اپنی باہوں میں جھلاتے ہوئے بتاتی ہیں کہ یہ میرا تیسرا بچہ ہے لیکن اس بار کا تجربہ بہت مختلف اور خوفناک تھا۔

جس زچہ و بچہ سینٹر میں رابعہ کے بچے کی پیدائش ہوئی وہ چند ہی ہفتوں میں بنیادی سہولیات سے محروم ہو گیا تھا۔ انھیں نہ کوئی درد سے نجات کی دوا ملی نہ دوائی اور نہ خوراک۔

ہسپتال میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا۔ بجلی کٹ چکی تھا اور جنریٹر چلانے کے لیے ایندھن نہیں تھا۔ رابعہ کی دائی عابدہ جنھوں نے موبائل فون کی روشنی میں بچہ ڈیلیور کروانے کے لیے انتھک کام کیا، کہتی ہیں کہ ‘ہم پسینے میں ایسے شرابور تھے جیسے نہا رہے ہوں۔’

‘یہ میری ملازمت کا اب تک کا بدترین تجربہ تھا۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا۔ مگر یہ طالبان کے قبضے کے بعد سے ہر دن اور ہر رات کی کہانی ہے۔’

بچے کی پیدائش کے عمل سے زندہ بچ جانے کا مطلب ہے کہ رابعہ خوش قسمت ہیں۔ افغانستان میں زچہ و بچہ کی اموات کی شرح دنیا کی بدترین شرحوں میں سے ایک ہے اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق 10 ہزار زندہ پیدائشوں پر 638 خواتین ہلاک ہو جاتی ہیں۔

صورتحال اس سے بھی خراب تھی مگر سنہ 2001 میں امریکی حملے کے بعد سے زچہ و بچہ کی دیکھ بھال پر ہونے والی پیش رفت اب تیزی سے کھو رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نتالیہ کنیم کہتی ہیں: ‘اب فوری ضرورت اور ہنگامی حالت کا احساس زیادہ ہونے لگا ہے۔ مجھے اس کا بوجھ محسوس ہو رہا ہے۔’

پاپولیشن فنڈ کا اندازہ ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے فوری مدد کے بغیر 51 ہزار مزید خواتین پیدائش کے دوران ہلاک ہو سکتی ہیں، 48 لاکھ حمل بغیر منصوبہ بندی کے ہو سکتے ہیں، اور اب سے لے کر 2025 تک دو گنا سے زیادہ لوگ خاندانی منصوبہ بندی کے کلینکس تک نہیں جا پائیں گے۔

صحتِ عامہ کے محکمے کے وزیر ڈاکٹر واحد مجروح کہتے ہیں کہ ‘افغانستان بھر میں بنیادی صحت کی سہولیات تباہ ہو رہی ہیں اور بدقسمتی سے ماؤں اور بچوں کی شرحِ اموات میں اضافہ ہوگا۔’

ڈاکٹر مجروح گذشتہ ماہ کابل پر قبضے کے بعد کابینہ میں بچ جانے والے واحد وزیر ہیں۔

اُنھوں نے افغانوں کی صحت کے لیے لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے مگر اُن کا سامنا ایک مشکل جنگ سے ہے۔

چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا یہ ملک اب دنیا سے کٹ چکا ہے۔ جب غیر ملکی فوجیوں نے یہاں سے نکلنا شروع کیا اور طالبان نے ملک پر قبضہ حاصل کرنا شروع کیا تو غیر ملکی امداد بند ہو گئی جو افغانستان کے نظامِ صحت کو مالی طور پر سہارا دیتی ہے۔

مغربی عطیہ کنندگان بشمول امریکہ اور عالمی ادارہ صحت جیسے گروہوں کا کہنا ہے کہ اُنھیں طالبان کو فنڈز فراہم کرنے اور طبی ساز و سامان فراہم کرنے میں مشکلات ہیں۔

خواتین کی تولیدی صحت کے لیے ضروری جان بچانے والی ادویات اور سامان کی رسد پر بھی بے حد اثر پڑا ہے۔

اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے یہ مصیبت دہری ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر مجروح کہتے ہیں کہ ‘کووڈ کی ممکنہ چوتھی لہر کے لیے کوئی تیاری نہیں کی گئی ہے۔’

عابدہ کے تولیدی یونٹ کے لیے فنڈز منجمد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی ایمبولینس سروس بھی نہیں چلا سکتے کیونکہ ایندھن کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں۔

عابدہ کہتی ہیں کہ ‘کچھ رات پہلے ہی ایک خاتون دردِ زہ کے قریب تھیں اور اُنھوں نے فوری طور پر ایمبولینس کی درخواست کی کیونکہ وہ شدید تکلیف میں تھیں۔ ہم نے اُنھیں ٹیکسی کا انتظام کرنے کو کہا مگر کوئی ٹیکسی دستیاب نہیں تھی۔’

‘جب اُنھیں بالاخر گاڑی ملی تو تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اُنھوں نے گاڑی میں بچے کو جنم دیا اور شدید گرمی اور درد کی وجہ سے وہ کئی گھنٹوں تک بے ہوش رہیں۔ ہمیں نہیں لگ رہا تھا کہ وہ بچ پائیں گی۔ بچہ بھی بہت تشویشناک حالت میں تھا اور ہمارے پاس ان دونوں کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔’

خوش قسمتی سے خاتون کی نوزائیدہ بیٹی بچ گئیں اور تین دن تک فنڈز کی شدید کمی کے شکار اس ہسپتال میں رہنے کے بعد خاتون کو ڈسچارج کر دیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے ڈاکٹر کنیم کے مطابق ‘ہم دن رات وقت سے زیادہ کام کر رہے ہیں تاکہ کوئی نظام مرتب کر سکیں مگر ہمیں فنڈز کی ضرورت ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے ڈرامائی واقعات سے پہلے بھی ہر دو گھنٹے میں ایک افغان خاتون بچے کو جنم دیتے ہوئے ہلاک ہو رہی تھیں۔’

اقوامِ متحدہ کی جانب سے افغانستان کے لیے 60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی اپیل کی گئی ہے اور اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کو افغان خواتین اور لڑکیوں کی زندگیاں بچانے والی ضروریات کے لیے دو کروڑ 92 لاکھ ڈالر چاہییں۔

پاپولیشن فنڈ پرامید ہے کہ انسانی امداد کی انتہائی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اہم طبی ساز و سامان کی ترسیل کے لیے اور موبائل ہیلتھ کلینکس کے قیام کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔

مگر ادارے کو یہ بھی خدشہ ہے کہ کم عمری کی شادیوں میں اضافہ سے شرحِ اموات میں مزید اضافہ ہوگا۔

تیزی سے بڑھتی غربت، لڑکیوں کے سکول نہ جا پانے کی بے چینی اور جنگجوؤں کی نوبالغ لڑکیوں سے زبردستی شادی کے خدشات سے یہ مسئلہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر کنیم کہتی ہیں کہ ‘اگر آپ نوجوان ماں ہیں تو آپ کے بچنے کے امکانات فوراً ہی کم ہو جاتے ہیں۔’

خواتین پر طالبان کی نئی پابندیوں کے باعث پہلے سے ہی نازک نظامِ صحت مزید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔

افغانستان کے کئی علاقوں میں خواتین کو اپنے چہروں کو برقعے یا نقاب سے ڈھانپنا پڑتا ہے۔

مگر اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ اطلاعات ہیں کہ ہسپتالوں اور کلینکس کو احکامات ہیں کہ صرف خواتین عملہ ہی خواتین مریضوں کا علاج کرے۔

ایک دائی نے بتایا کہ طالبان نے ایک مرد ڈاکٹر پر اس لیے تشدد کیا تھا کیونکہ اُس نے تنہائی میں ایک خاتون کا علاج کیا تھا۔

اُن کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرق میں واقع میڈیکل سینٹر میں ‘اگر کسی خاتون کا علاج کوئی خاتون ڈاکٹر نہیں کر سکتیں تو مرد ڈاکٹر صرف تب مریض کو دیکھ سکتا ہے جب دو یا اُس سے زیادہ لوگ موجود ہوں۔’

اس کے علاوہ خواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ ‘محرم’ یعنی کسی مرد رشتے دار کے بغیر گھر سے نہ نکلیں۔

صوبہ ننگرہار میں پانچ ماہ کی حاملہ زرمینہ کہتی ہیں کہ ‘میرے شوہر ایک غریب شخص ہیں جو ہمارے بچوں کو کھلانے کے لیے کام کرتے ہیں، تو میں اُنھیں میرے ساتھ طبی مرکز جانے کے لیے کیسے کہوں؟’

عابدہ کہتی ہیں کہ مرد کے ساتھ موجود ہونے کی شرط کا مطلب یہ ہے کہ دائی اور وسائل کی کمی کے شکار کلینکس کی موجودگی کے ساتھ بھی زرمینہ جیسی کئی خواتین اہم چیک اپس کے لیے نہیں جا سکتیں۔ اسی طرح کئی خواتین طبی کارکنان بھی کام پر نہیں جا سکتیں۔

عالمی ادارہ صحت کا اندازہ ہے کہ 10 ہزار افغانوں کے لیے صرف 4.6 ڈاکٹر، نرسیں اور دائیاں موجود ہیں۔ ادارے کے نزدیک یہ ‘تشویشناک کمی کی سطح’ سے تقریباً پانچ گنا کم ہے۔

اب امکان یہ ہے کہ یہ عدد مزید نیچے آئے گا کیونکہ کئی نے طالبان کے قبضے کے بعد یا کام پر آنا بند کر دیا ہے یا پھر ملک چھوڑ دیا ہے۔

اگست کے اواخر میں طالبان نے خواتین طبی کارکنان سے کام پر لوٹنے کے لیے کہا تھا مگر ڈاکٹر مجروح کے مطابق ‘اعتماد بحال کرنے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ اُنھیں کوئی مسائل درپیش نہیں ہوں گے، اس میں وقت لگتا ہے۔’

کابل میں ایک خاتون گائناکولوجسٹ ڈاکٹر نبی زادہ کہتی ہیں کہ ‘سب کچھ راتوں رات بدل گیا۔’

طالبان کے قبضے کے بعد اُنھوں نے استعفیٰ دے دیا تھا اور 24 گھنٹوں تک کابل ایئرپورٹ کے باہر ملک سے نکلنے کے لیے بے سود انتظار کرتی رہیں۔ اُن کے سابق ساتھی یا تو افغانستان سے فرار ہونے میں کامیاب رہے یا پھر کام چھوڑ کر حفاظت سے گھر بیٹھ گئے۔

‘میری پڑوسن 35 ہفتوں کی حاملہ ہے اور اسے سیزیرین سیکشن کے لیے تاریخ کی ضرورت تھی مگر اُس کی ڈاکٹر کا فون بند ہے۔ وہ سخت پریشان اور فکرمند ہے اور بچے کی حرکت محسوس نہیں کر پا رہی ہے۔’

سرکاری طبی سٹاف کو تقریباً گذشتہ تین ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ عابدہ بھی اُن میں سے ایک ہیں۔ مگر پھر بھی تنخواہ کے بغیر اُنھیں مزید دو ماہ کام کرنے کی اُمید ہے۔

‘میں نے یہ ہمارے مریضوں اور ہمارے لوگوں کے لیے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مگر فنڈنگ کے بغیر یہ صرف ہمارے لیے پریشان کُن نہیں بلکہ ہمارے مریضوں کے لیے بھی ہے۔ وہ بہت غریب ہیں۔’

ہیومن رائٹس واچ میں خواتین کے حقوق کے ڈویژن کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہیتھر بار کہتی ہیں: ‘افغان لوگ جنگ میں نقصانات کے بارے میں بہت سنتے ہیں مگر کچھ ہی لوگ اس حوالے سے بات کرتے ہیں کہ کتنی خواتین اور بچے پیدائش سے منسلک اُن اموات کے شکار بنتے ہیں جو روکی جا سکتی ہیں۔’

وہ کہتی ہیں کہ مئی میں کابل کے دورے پر اُنھوں نے دیکھا کہ ایک ہسپتال نے ہر چیز کے لیے فنڈنگ روک کر اپنے عملے کی تنخواہیں بچائیں۔ دردِ زہ میں مبتلا کئی خواتین سے کہا گیا کہ وہ دوائیں اور سامان خود خریدیں۔

‘ایک عورت نے دستانوں، جراثیم کش محلول اور کیتھیٹر جیسی چیزوں پر 26 ڈالر خرچ کر دیے۔ اُنھوں نے اپنے آخری پیسے تک خرچ کر دیے اور وہ شدید تشویش میں تھیں کہ اگر اُنھیں سیزیریئن سیکشن کی ضرورت پڑی تو اُنھیں سرجری کے اوزار بھی خود خریدنے پڑتے۔’

مگر اب دواؤں اور طبی سامان کی کمی کا مطلب ہے کہ یہ صرف نجی طبی مراکز سے خریدا جا سکتا ہے جو زیادہ تر افغان لوگوں کی مالی دسترس سے باہر ہے۔

زرمینہ کہتی ہیں کہ ‘میں نے دیگر حاملہ خواتین کو پورا دن ہمارے مقامی کلینک پر کسی دوائی کا انتظار کرتے دیکھا جو پھر خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتیں۔ میں ہسپتال کے بجائے گھر پر پیدائش کو ترجیح دوں گی کیونکہ وہاں نہ دوائیں ہیں اور نہ کوئی سہولیات۔ مجھے اپنے بچے اور اپنی صحت کی فکر ہے۔’

ورلڈ بینک کے مطابق افغانستان کی 54.5 فیصد آبادی غربت کی قومی لکیر سے نیچے رہتی ہے اور ان میں سے زیادہ تر دور دراز علاقوں میں مقیم ہے۔

مغربی صوبے ہرات کے الگ تھلگ دیہات میں غریب مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر لودی کہتی ہیں کہ ‘ہم ایسے لوگوں میں کام کر رہے ہیں جن کی ضروریات نہایت سخت ہیں اور ہمارے پاس اس کے لیے ناکافی فنڈز ہیں۔’

طالبان کے قبضے کے بعد سے اُن کی ٹیم نے غذائی قلت، خون کے سرخ خلیوں کی کمی، ذہنی امراض اور پیدائش کی پیچیدگیوں میں اضافہ دیکھا ہے۔’

اٹھائیس سالہ لینا کہتی ہیں کہ ‘طالبان کے اقتدار میں آنے سے قبل ایک طبی کلینک نے مجھ میں غذائی قلت اور خون کے سرخ خلیوں کی کمی کی تشخیص کی تھی جب میں حاملہ تھی۔’ وہ ہرات کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی ہیں۔ جب طالبان نے اس خطے کا کنٹرول سنبھالا تو اُن کے چرواہے شوہر کا روزگار بھی ختم ہو گیا۔

کیونکہ اُن کے پاس پیسے نہیں تھے اور طالبان کا خوف تھا، اس لیے وہ دردِ زہ شروع ہونے تک کلینک نہیں گئیں۔

‘میرے شوہر مجھے گدھے پر وہاں تک لے گئے۔ ایک دائی نے پیچیدگیوں سے بچا کر میری ڈیلیوری کروائی اور میں کم وزن کے حامل ایک بچے کو جنم دے پائی۔’

لینا اب گھر پر ہیں اور ‘بہت بری صورتحال میں ہیں۔’ اور آمدنی کے بغیر اُنھیں نہیں معلوم کہ وہ اپنے بچے کو کیسے کھلائیں گی۔

کئی افغانوں کو فکر ہے کہ ملک کا طبی نظام اس بحران کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو گی اور کچھ سب سے زیادہ خطرے کی زد میں موجود لوگ مثلاً حاملہ خواتین، نئی مائیں اور نوزائیدہ بچے اس کا نقصان اٹھا رہے ہیں۔

عابدہ نااُمیدی کی کیفیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘صورتحال ہر دن کے ساتھ بگڑ رہی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارا کیا بنے گا۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں