43

ترقی کی راہ میں حائل ہماری بڑی غلطیاں

ترقی کی راہ میں حائل ہماری بڑی غلطیاں

(ڈیلی طالِب)

میرے دوست نے کچھ دن پہلے فیس بک پر پوسٹ شیئر کی جس میں ایک اسٹنٹ کمشنر کو روڈ کی انسپیکشن کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس پوسٹ کا لب لباب یہ تھا کہ ہمارے ملک کی افسر شاہی یہ سمجھتی ہے وہ ملک کے تمام اُمور کے ماہر ہیں جبکہ میرے خیال میں یہ ان کے وہم سے زیادہ کچھ نہیں۔

وارن بفیٹ ایک امریکن بزنس ٹائیکون اور فلاسفر ہیں، وہ کہتے ہیں “Risk comes from not Knowing what you are doing”۔ وارن بفیٹ کا یہ قول ہمارے ملک کے تقریباً تمام طبقات کےلیے ہے، کیوں کہ یہاں بدقسمتی سے زیادہ تر لوگ اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کا کام بہتر انداز میں کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور جس کے نتائج ہم سب کے سامنے آرہے ہیں۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔

سچی بات یہ ہے کہ ہم مانیں یا نہ مانیں، ہمارا سب سے بڑا مسئلہ جھوٹ بولنا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ عظیم کی سورۃ توبہ کی آیت نمبر 119 میں فرماتے ہیں۔
ترجمہ: اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔

پاکستان کی 74 سالہ تاریخ پر نظر ڈالیے اور قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے تو ہم پر اپنی بربادی کی بنیادی وجہ عیاں ہوجائے گی۔ اور وہ بنیادی وجہ ہمارا اپنی قوم سے مسلسل جھوٹ بولنا ہے۔

زندگی کے خلاصے کو سمجھنے کےلیے قرآن کو سمجھنا بہت ہی اہم ہے۔ آج ہم اپنی تاریخ کو دیکھیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہم نے زیادہ تر جھوٹے لوگوں کا ساتھ دیا اور سچ بولنے والوں سے کنارہ کشی کی اور انہیں عبرت کا نشان بنتے ہوئے دیکھتے رہے۔ میرے خیال میں جب تک ریاست کے شہریوں میں اوپر سے نیچے تک احساس نہیں ہوگا کہ وہ جھوٹ بول کر کس قدر اِس ملک کےلیے مہلک ثابت ہورہے ہیں، تب تک ہم یوںہی بھٹکتے رہیں گے۔ فیض احمد فیض کا شعر آج کے معاشرے میں پورا اترتا ہے

زمانہ اس قدر قائل ہوا ہے فیض جھوٹوں کا
جو سچ کہتے ہیں ان کی ایک بھی مانی نہیں جاتی

ویسے ایسا بھی بالکل نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں اچھے سیاستداں اور بیوروکریٹ نہیں آئے یا آتے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اچھے افراد ہمیشہ ملک کے موجودہ کرپٹ سسٹم سے مار کھا جاتے ہیں۔ آپ کو ہمارے ملک میں چپڑاسی سے لے کر وزیراعظم تک ایسی بہت سی مثالیں ملیں گی جہاں اچھے لوگوں نے جیسے ہی سسٹم میں بہتری کےلیے کوشش کی تو انہیں اسی کرپٹ سسٹم نے عبرت کی مثال بنادیا۔

ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں مداخلت کرنا اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں۔ پی آئی اے، پاکستان اسٹیل مل، شپ یارڈ انجینئرنگ، مشین ٹول فیکٹری، پیٹرومین ٹریننگ انسٹیٹوٹ… اور ان جیسے درجنوں بڑے ادارے ہم نے اپنی نااہلی سے برباد کردیے۔ آپ غور کیجئے تو پی آئی اے نے دوسری ایئر لائنزکی بنیاد رکھی اور آج یہ خود تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ جو ایئر لائن 1961 میں کراچی سے نیویارک اپنے جہاز آپریٹ کر رہی تھی، آج اس کےلیے دنیا کے زیادہ تر روٹس بند ہوگئے ہیں۔ ایک ایسی ایئر لائن جس نے دنیا کی تین بڑی ایئر لائنز، (سعودی، ایمریٹس اور سنگاپور ایئرلائن) کی بنیاد رکھی ہو اور آج بدقسمتی سے اس کی اپنی بنیادوں میں دیمک لگ چکا ہے۔ آج پی آئی اے دنیا کے بیس ممالک میں آپریٹ کررہی ہے، جبکہ ایمریٹس دنیا کے 134 سے زیادہ ممالک میں سروسز پیش کررہی ہے۔

دنیا بدل گئی ہے اور اِس بدلی ہوئی دنیا میں اگر ہم واقعی اپنی کوئی شناخت بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں داستانوں، فرضی اور خیالی کہانیوں سے باہر آکر حقیقی زندگی کا سامنا کرنا ہوگا، جس میں ہمیں خیال و افکار کے نئے دریچے کھولنے ہوں گے۔ نئی ایجادات تو شاید ہمارے لیے اگلا مرحلہ ہو لیکن پہلے ہمیں ترقی یافتہ ممالک خاص طور پر چین کے ترقی کے ماڈل کو سمجھنے اور نافذ کرنے کی عملی ضرورت ہے۔

آپ غور کیجئے ہم 1947 سے اب تک انگریز کے زمانے کا لایا ہوا کمشنری نظام چلا رہے ہیں، جو کہ اس نے اس علاقے کے لوگوں کو محکوم بنانے کےلیے تشکیل دیا تھا اور جب بھی ہماری حکومتوں نے اس کے متبادل کوئی نظام لانے کی کوشش کی تو ہماری افسر شاہی نے اس کےلیے رکاوٹیں کھڑی کیں۔
دوسروں پر سارے الزامات ڈالنا ہماری عادت سی بن گئی ہے۔ ہم نے اپنا آدھا وجود کھو دیا لیکن آج بھی تاریخ میں کچھ لوگوں پر الزامات ہی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے پاس رکھنے کی روش، جھوٹ بولنے کی عادت اور میرٹ سے فرار ہم اپنے ملک میں مسلسل دیکھ رہے ہیں، جس کے مضر اثرات سے پوری طرح واقف تو ہیں لیکن پھر بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھے ہیں کہ شاید بچ جائیں۔ لیکن قدرت کا اپنا نظام ہے جو ہماری بے اعتدالیوں پر اپنا فیصلہ مسلط کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔

دنیا کے زیادہ تر ممالک میں جہاں بہت تیزی سے ترقی ہوئی ان میں ایک قدر مشترک تھی کہ وہاں گورننس کو غیر مرکزی (Decenterlized) کیا گیا اور میرٹ کے کلچر کو پروموٹ کیا گیا۔ ادارے ان افراد کے ہاتھ میں دیے گئے جو اس کے اہل تھے، جبکہ ہمارے ہاں میرٹ کا قتلِ عام کیا گیا اور گورننس کو زیادہ سے زیادہ مرکزیت دینے کی کوشش کی گئی۔ جس کے نتائج اداروں کی زبوں حالی کی صورت میں سامنے آرہے ہیں۔

ایسا بھی بالکل نہیں ہے کہ پاکستان میں کامیاب ادارے نہیں ہیں۔ پاکستان میں کہوٹہ ریسرچ لیب، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن SIUT ،Indus ہاسپٹل، جیسے کئی ادارے موجود ہیں جو آج پاکستان کےلیے فخر کا باعث ہیں۔ مگر ایک بات ان تمام اداروں میں مشترک ہے کہ ان تمام اداروں کو صرف پروفیشنلز نے لیڈ کیا اور سسٹم کو غیر مرکزی کرتے ہوئے میرٹ کو پروموٹ کیا۔

چین ہمارے بعد آزاد ہوا اور دنیا کا سپر پاور بن گیا۔ مشرقی یورپ ترقی کرتا ہوا مغربی یورپ کے برابر ہوگیا اور تو اور افریقہ تک کے ممالک بہتر ہورہے ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہم دنیا میں کیا یوںہی رہنا چاہتے ہیں یا پھر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب میرے نزدیک تین الفاظ میں موجود ہے، سچ، غیر مرکزیت اور میرٹ۔

ہمیں اپنی قوم سے سچ بولنا ہوگا۔ اختیارات وفاق سے تحصیل کی سطح تک منتقل کرنے ہوں گے اور میرٹ، میرٹ اور صرف میرٹ کو سسٹم کا حصہ بنانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں