41

ناظم جوکھیو قتل کیس: ’جام پر اعتبار کر کے بھائی کو وہاں لے گیا مگر بھائی کفن میں واپس آیا‘

ناظم جوکھیو قتل کیس: ’جام پر اعتبار کر کے بھائی کو وہاں لے گیا مگر بھائی کفن میں واپس آیا‘

(ڈیلی طالِب)

‘میں نے جام اویس پر اندھا اعتماد کیا اور اپنے بھائی ناظم کو اس کے پاس لے گیا۔ اس نے کفن میں میرا بھائی واپس کیا ہے، مجھے معلوم نہیں تھا کہ انسان کی زندگی سے تلور زیادہ اہم ہے۔‘

کراچی کے علاقے ملیر میں مبینہ طور پر رکنِ سندھ اسمبلی جام اویس کے تشدد سے قتل ہونے والے ناظم جوکھیو کے بھائی افضل جوکھیو کا الزام ہے کہ ناظم نے چند غیر ملکی شکاریوں کو اپنے علاقے میں تلور کے شکار سے روکا تھا اور ان کی ویڈیو بنائی تھی جس کے بعد انھیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔

کراچی پولیس نے ناظم کے قتل کے الزام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی جام اویس گہرام جوکھیو اور ان کے ملازمین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ رکن اسمبلی نے گذشتہ رات گرفتاری پیش کی اور پولیس نے جمعے کی صبح عدالت سے ان کا جسمانی ریمانڈ لے لیا ہے۔

مقتول 27 سالہ ناظم جوکھیو کا تعلق ملیر کے گاؤں آچر سالار جوکھیو سے تھا۔ وہ ضلع کونسل کراچی میں ملازم تھے، ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جن کی عمریں ایک سال سے پانچ سال تک ہیں۔

ناظم کے بھائی افضل جوکھیو نے بی بی سی کو بتایا کہ عرب شکاری ان کے علاقے بالخصوص کارو جبل میں تلور کی تلاش میں آتے رہے ہیں مگر اس بار انھوں نے ان کے گاؤں کا رخ کیا۔

ناظم نے نصف کلومیٹر دور جا کر انھیں روکا جس پر ان کی ہاتھا پائی ہوئی اور بعد میں ناظم نے ان کی ویڈیو بنا کر وائرل کی۔

‘مجھے جام کے لوگوں کے ٹیلیفون آئے، میں نے بھائی کو کہا کہ یہ ویڈیو ڈیلیٹ کرو۔ اس نے کہا کہ میں کسی سے نہیں ڈرتا میں یہ ڈیلیٹ نہیں کروں گا، جس کے بعد رات کو جام کا مینیجر آیا کہ چلو جام صاحب نے بلایا ہے۔‘

افضل جوکھیو کا کہنا ہے کہ ’ناظم نے جانے سے انکار کردیا تھا لیکن میں نے اس پر زور ڈالا کہ چلو جام صاحبان میری عزت کرتے ہیں، میں ضلع کونسل کا رکن بھی منتخب ہو چکا ہوں، مجھے ان پر اعتماد ہے۔‘

افضل جوکھیو کے تین بھائی تھے اور ناظم ان سے چھوٹا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ ان کی اوطاق پر پہنچے تو جام کے لوگوں نے ناظم پر لاٹھیوں اور بندوقوں کے بٹ سے تشدد کیا۔

‘میں نے جام سے ہاتھ جوڑ کر معافی طلب کی۔ جام صاحب نے کہا کہ کوئی معافی نہیں، تم لوگوں نے میرے مہمان کی بے عزتی کی ہے، جس کے بعد وہ اس کو مارتے رہے اور بعد میں ایک کمرے میں بند کر دیا اور مجھے کہا کہ جاؤ صبح آنا۔ ہمیں لوگوں نے بتایا ہے کہ صبح پانچ بجے دوبارہ اُنھوں نے بھائی پر بے پناہ تشدد کیا جس میں وہ ہلاک ہو گیا۔‘

افضل جوکھیو کی قیادت میں گذشتہ روز قومی شاہراہ پر دھرنا بھی دیا گیا تھا۔ رات کو صوبائی وزیر سعید غنی، امتیاز شیخ اور دیگر نے ان سے مذاکرات کیے جس کے بعد سڑک کھولی گئی۔

افضل جوکھیو نے بتایا کہ امتیاز شیخ نے ٹیلیفون پر ان کی وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ سے بات کروائی تھی جنھوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیا ہے، ان کے ساتھ انصاف ہوگا اور ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔

جام خاندان کون ہے؟

جام خاندان جوکھیو قبیلے کے سردار ہیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق ان کی مقامی کلمتی قبیلے سے جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ حکومت سندھ کے مرتب کیے گئے انسائیکلوپیڈیا سندھیانہ کے مطابق جوکھیو شاہ بلاول نورانی کے پہاڑی علاقے میں رہتے تھے اور وہاں سے تقریباً 300 سال قبل ملیر کی وادی میں آباد ہوئے۔

کلہوڑو دور حکومت میں راجہ ساکری لاہوری نامی سردار کو بجار خان نے قتل کیا تھا جس کے بعد کلہوڑو حکمرانوں نے اُنھیں جام کا لقب دیا۔ ان کی آبادی کراچی اور ٹھٹہ میں زیادہ تعداد میں موجود ہے۔

جام اویس گہرام کے والد بجار خان قبیلے کے سردار ہیں اور ان کے بڑے بھائی جام کریم رکن قومی اسمبلی ہیں۔ اس خاندان کی سردار عطا اللہ مینگل کے خاندان سے قریبی رشتے داری ہے۔

جام اویس گہرام اور ان کے بھائی جام کریم خاندان کے پہلے فرد ہیں جو اسمبلیوں میں پہنچے ہیں۔ اس سے قبل جام کریم، ان کے والد جام بجار اور چچا جام ستار ضلع کونسل سے لے کر صوبائی اسمبلی تک انتخابات میں کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔

سنہ 2013 کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد یہ خاندان پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوا۔ اس سے قبل یہ خاندان مقامی برادری کی سطح پر اتحاد کے ذریعے الیکشن میں حصہ لیتا تھا۔

اس وقت جام اویس ٹھٹہ کی میر پور ساکرو کی صوبائی نشست جبکہ ان کے بڑے بھائی ملیر کی دیہی قومی اسمبلی کی نشست سے رکن اسمبلی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں