30

گلوکار بھائیوں ’بلوچ ٹوئنز‘ کی وائرل ویڈیو کا اصل معاملہ کیا تھا؟

گلوکار بھائیوں ’بلوچ ٹوئنز‘ کی وائرل ویڈیو کا اصل معاملہ کیا تھا؟

(ڈیلی طالِب)

کراچی کے علاقے لیاری سے تعلق رکھنے والے گلوکار بھائیوں ’بلوچ ٹوئنز‘ عادل اور عاصم بلوچ کی کراچی ایئرپورٹ سے بنائی گئی ایک وڈیو چند روز قبل سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی جس میں بلوچ ٹوئنز نے تعصب کی بنیاد پر ایوارڈ شو میں دبئی نہ لے جائے جانے کا دعوی کیا تھا تاہم ڈیلی طالِب کو معلوم ہوا کہ ان کی فلائٹ منسوخ ہو گئی تھی۔

اس وڈیو کو بنانے سے قبل بلوچ ٹوئنز دبئی میں پانچ نومبر کو ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل سکرین ایوارڈز (پیسا ایوارڈز) میں شرکت کرنے کی تیاری کر رہے تھے مگر آخری وقت میں ٹکٹ ہونے کے باوجود انہیں دبئی کی فلائٹ نہ مل سکی جس کا ذمہ دار انہوں نے پیسا ایوارڈز کی انتظامیہ کو قرار دیا اور اس کی وجہ تعصب بتائی۔

بلوچ ٹوئنز نے کراچی ایئرپورٹ سے اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر ویڈیو اپلوڈ کی جس میں انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بہت ہی حیران ہیں اور صدمے کا شکار ہیں یہ کہتے ہوئے کہ ساری چیزیں (دبئی کا ویزا اور ٹکٹس) مکمل ہوجانے کے بعد ہمیں کوئی جواب دیے بغیر انہوں نے (پیسا) نے ہمارے ٹکٹس واپس کروا دیے ہیں اس وقت جب ہم یہاں جناح ٹرمینل پر پہنچ چکے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ اب ہم کیا کریں۔ یہ کون سا طریقہ ہے اپنے فنکاروں سے سلوک کرنے کا۔ ہمارے سامنے باقی تمام فنکار اپنی فلائٹس پر پیسا ایوارڈز میں شرکت کرنے کے لیے دبئی جارہے ہیں اور ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمیں اس سلوک کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔‘

پیسا کا کہنا ہے کہ بلوچ ٹوئنز کی دبئی آںے والی فلائٹ منسوخ ہوگئی تھی اور اگلی فلائٹ بہت تاخیر سے مل رہی تھی جبکہ بلوچ ٹوئنز کا دعویٰ ہے کہ ان کی فلائٹ منسوخ نہیں ہوئی اور پیسا کی جانب سے ان سمیت کچھ دیگر فنکاروں کے ٹکٹس کو ریفنڈ کروا کے اس کے پیسے واپس لے لیے گئے۔

اس معاملے پر چانچ کرنے کے لیےڈیلی طالِب نے بلوچ ٹوئنز اور پیسا سے بات کی ہے۔

بلوچ ٹوئنز کے عاصم بلوچ نے بتایا کہ: ’لکس سٹائل ایوارڈز میں نامزد ہونے کے بعد ہم سے پیسا نے رابطہ کیا اور ہمیں اس سال کے بہترین گلوکاروں کے ایوارڈ کی کیٹیگری میں نامزد کیا۔ ہم ان کے ساتھ اپنے تمام دستاویزات اور پروموشنل وڈیوز شیئر کرچکے تھے۔ دبئی کا ویزا اور ٹکٹ بھی ہوچکا تھا مگر دو نومبر کی رات ہم جب اپنا کرونا کا ٹیسٹ کروا کے گھر لوٹے تو ہمیں پیسا کے نمائندے معیز احمد کا میسج آیا کہ ایمریٹس نے ہماری فلائٹ منسوخ کردی ہے آخری وقت میں کوئی فلائٹ موجود نہیں اس لیے اب ہم آپ کو نہیں لے جاسکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ: ’اگلے دن ہم اپنے والد کے ساتھ ایمریٹس ایئر لائن کے ہیڈ آفس گئے جہاں ہمیں یہ معلوم ہوا کہ فلائٹ منسوخ نہیں ہوئی اور نہ ہی فلائٹ میں کسی قسم کی تاخیر ہوئی ہے۔ ہم دونوں بھائیوں کے نام پر فلائٹ کی بکنگ موجود ہے۔ ایمریٹس والوں نے ہمیں کہا کہ ہم اگلے دن یعنی تین نومبر کو اپنی فلائٹ کے لیے معمول کے مطابق ائیر پورٹ آجائیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ: ’گھر آکر ہمارے والد نے پیسا کے نمائندے معیز احمد سے بات کی کہ جب فلائٹ میں کوئی مسئلہ نہیں ہے تو وہ انہیں فلائٹ منسوخ ہونے کا کیوں کہہ رہے ہیں۔ جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو معلومات حاصل کر کے بتاتے ہیں۔ اگلے دن ایئرپورٹ پر پہنچنے تک ان کی جانب سے ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔ ایئرپورٹ پر ہمارے ساتھ اور بھی فنکار موجود تھے جو کہ آرام سے ٹکٹ دکھا کر فلائٹ پر پہنچ گئے۔ مگر ہمیں بورڈنگ کاؤنٹر پر بتایا گیا کہ ہماری ٹکٹس کو ریفنڈ کروا دیا گیا ہے اس لیے اب ہم اس فلائٹ پر نہیں سوار ہو سکتے۔‘

بلوچ ٹوئنز کے مطابق اس واقعے کے بعد انہوں نے پیسا کی انتظامیہ سے بہت رابطہ کرنے کی کوشش مگر ان کی جانب سے نہ کوئی آفیشل بیان آیا اور نہ ہی ان کے اس معاملے کی وجہ بیان کی گئی۔

تاہم پیسا کے نمائندے معیز احمد نے جو کہ بلوچ ٹوئنز سے مسلسل رابطے میں تھے انہوں نے ڈیلی طالِب کو بتایا کہ ’اس کی وجہ تعصب نہیں ہے۔ اگر ہم نے تعصب کی بنیاد پر ان کے ساتھ یہ کیا ہوتا تو ہم سب سے تعلق رکھنے والے گلوکار عابد بروہی اور کوئٹہ کی عروج فاطمہ کو کیوں پیسا میں شرکت کرواتے؟‘

انہوں نے کہا کہ ’میں نے 250 افراد کی فلائٹس کا مینیج کیا جس میں 100 نامزد ہونے والے فنکار اور باقی ان کے خاندان کے افراد شامل تھے۔ اگر اتنے افراد کو ہم لے کر جارہے ہیں تو چند لوگوں کو کیوں چھوڑیں گے۔‘

خیال رہے کہ معاملات طے ہوجانے کے بعد پیسا میں شرکت نہ کرنے کا معاملہ جو بلوچ ٹوئنز کے ساتھ پیش آیا ویسا ہی معاملہ میوزک بینڈز ’مغل فنک‘ اور ’بیان‘ کے ساتھ پیش آیا تھا۔

معیز کا کہنا تھا کہ: ’ایمریٹس ایئر لائن نے ہماری ایک فلائٹ کراچی اور دو اسلام آباد سے منسوخ کیں۔ اس کے علاوہ ایمریٹس ہمیں چار نومبر کی رات 10 بجے کی فلائٹ دے رہے تھی جبکہ پیسا ایوارڈز کا ریڈ کارپیٹ ایونٹ شام چار بجےسے شروع ہونا تھا۔ جب تک یہ دبئی پہنچتے ریڈ کارپیٹ ختم ہو چکا ہوتا۔‘

ان کے مطابق: ’ہم نے انہیں بتایا کہ ہمارا یہ بجٹ ہے آپ اس میں کوئی ٹکٹ کروا کے دبئی آجائیں، اسے بعد میں ریفنڈ کردیا جائے گا۔ انہیں کوئی اور فلائٹ نہیں ملی۔ میں خود بھی دبئی نہیں گیا کیوں کہ مجھے بھی کوئی فلائٹ نہیں ملی۔ ہم نے بلوچ ٹوئنز اور ان کے والد کو یہ بھی آفر کی کہ ہم انہیں کچھ وقت بعد دبئی میں تین دن کا گھومنے کا ٹرپ دے دیں گے مگر یہ اس پر بھی آمادہ نہیں ہوئے۔‘

خیال رہے کہ پیسا ایوارڈز کی تقریب 5 نومبر کو تھی اور پاکستان سے شرکت کرنے کے لیے آنے والے مہمانوں کو چار تا چھ نومبر تک پیسا کی انتظامیہ کی جانب سے دبئی میں ٹھہرایا گیا تھا۔

ایمریٹس کی ہیلپ لائن پر کال کر کے فلائٹ EK 601 حوالے سے جانچ کرنے پر معلوم ہوا کہ تین نومبر کو کراچی سے دبئی جانے والی فلائٹ EK 601 منسوخ ہوگئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں