24

پرمبیر سنگھ: ممبئی میں خصوصی ’انکاؤنٹر سکواڈز‘ بنانے والے لاپتہ اعلیٰ پولیس افسر کہاں گئے؟

پرمبیر سنگھ: ممبئی میں خصوصی ’انکاؤنٹر سکواڈز‘ بنانے والے لاپتہ اعلیٰ پولیس افسر کہاں گئے؟

(ڈیلی طالِب)

انڈیا میں یکم اکتوبر کو حکام نے ایک سنسنی خیز اعلان کیا کہ ملک کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی کے سابق پولیس چیف لاپتہ ہیں۔

پرمبیر سنگھ کو بمشکل دو سال قبل 45 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ممبئی پولیس فورس کی سربراہی سونپی گئی تھی۔ ایک اعلیٰ سطحی افسر کی حیثیت سے ان کی شہرت نڈر افسر کے طور پر تھی۔

59 سالہ مسٹر سنگھ نہ تو اب اپنے دفتر، نہ ہی ممبئی میں اپنے اپارٹمنٹ اور نہ ہی شمالی شہر چندی گڑھ میں اپنے خاندانی گھر میں ہیں۔

یہاں تک کہ جب پولیس نے اپنے چیف کی تلاش شروع کی تو مسٹر سنگھ کا خاندان ان کے لاپتہ ہونے کے متعلق خاموش نظر آیا۔ ان کے خاندان میں ان کی بیوی اور بیٹی ہیں جو ممبئی میں ان کے ساتھ رہتی ہیں جبکہ بیٹا بیرون ملک مقیم ہے۔ ان کے وکلا نے بھی افسر کے ٹھکانے کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

یہ سب فروری میں اس وقت شروع ہوا جب پراسرار انداز میں دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک ایس یو وی گاڑی ایشیا کے سب سے امیر آدمی مکیش امبانی کے گھر کے باہر سے ملی تھی۔ اس کے چند روز بعد اس گاڑی کے مبینہ مالک کی لاش شہر کے قریب ساحل سمندر پر ملی۔ پولیس نے بعد میں کہا کہ اس شخص کو قتل کر کے اس کی لاش کو نامعلوم افراد نے پانی میں پھینک دیا تھا۔

معاملات اس وقت مزید گھمبیر ہو گئے جب مبینہ طور پر مردہ شخص کے جاننے والے ایک پولیس افسر کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ کرائم برانچ کے ایک اسسٹنٹ انسپکٹر سچن وازے مسٹر امبانی کے گھر کے باہر کار کو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ پارک کرنے اور گاڑی کے مالک کے قتل میں بھی ملوث تھے۔ وازے نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

مارچ میں پرمبیر سنگھ کو ممبئی پولیس چیف کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ریاست مہاراشٹر کی ہوم گارڈ کی سربراہی کا عہدہ سونپ دیا گيا جس میں ریاستی دارالحکومت ممبئی بھی آتا ہے۔ ہوم گارڈز ایک کم وسائل والی فورس ہے جو پولیس کی مدد کرتی ہے۔ انڈین میڈیا میں یہ کہا گیا کہ مسٹر سنگھ سے در اصل ’جان چھڑوا‘ کر انھیں ایک غیر پسندیدہ محکمے میں بھیج دیا گیا تھا۔

ریاست کے اس وقت کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے کہا تھا کہ ’یہ کوئی معمول کا تبادلہ نہیں۔ ممبئی پولیس کے سربراہ ہونے کے ناطے پولیس کمشنر کے دفتر میں کام کرنے والے افسران سے سنگین غلطیاں ہوئی ہیں۔ یہ غلطیاں سنگین ہیں اور اسی وجہ سے ان کا تبادلہ کیا گیا ہے۔‘ بہرحال یہ کبھی واضح نہیں کیا گیا کہ وہ سنگین غلطیاں کیا تھیں۔

پرمبیر سنگھ نے رواں برس مارچ کے وسط میں اپنے پہلے والے دفتر سے بمشکل چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک معمولی دفتر میں اپنے نئے عہدے کا چارج سنبھالا جو شہر کے وسط میں ایک اینگلو گوتھک آثار والی عمارت میں واقع ہے۔ تقریباً اس کے فوراً بعد انھوں نے حکومت کو ایک خط لکھا، جس میں انھوں نے اپنے باس مسٹر دیش مکھ پر جبری وصولی اور بدعنوانی کا الزام لگایا۔ ایک بار پھر، کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو لکھے گئے خط میں افسر نے مسٹر دیش مکھ پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے سچن وازے کو حکم دیا تھا کہ وہ شہر کے ان بار مالکان اور ہوٹل والوں سے لاکھوں ڈالر رشوت لینے کا حکم دیا تھا جو ضابطوں کی پاسداری نہیں کر پا رہے ہیں۔

مسٹر دیشمکھ نے ان الزامات کی تردید کی لیکن اپریل کے شروع میں انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ ایک وفاقی مالیاتی تحقیقاتی ایجنسی نے اس معاملے میں تفتیش شروع کی ہے اور مسٹر دیش مکھ کو پوچھ گچھ کے لیے اب تک پانچ بار طلب کیا ہے۔ نومبر میں خود سابق وزیر کو گرفتار کر لیا گیا۔ مسٹر سنگھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، انھوں نے کہا: ’جس نے مجھ پر الزام لگایا وہ بیرون ملک بھاگ گیا ہے۔‘

دریں اثنا، مئی میں مسٹر سنگھ خرابی صحت کی بنیاد پر چھٹی پر چلے گئے، اور اس کے بعد سے انھوں نے چھٹی میں دو بار توسیع کرائی ہے۔

اور پھر وہ اچانک منظڑ عام سے غائب ہو گئے۔

شہر کے اعلیٰ درجے کے مالابار ہلز کے پڑوس میں ایک اونچی عمارت میں مسٹر سنگھ کی رہائش گاہ ہے جہاں ان کی بیوی اور بیٹی رہتی ہیں لیکن انھوں نے ان کے ٹھکانے کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا ہے۔ بی بی سی سے رابطہ کرنے پر ان کے وکیل انوکول سیٹھ نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اس صورتحال میں انڈیا کے ذرائع ابلاغ نے بے دھڑک قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ سابق پولیس چیف بیرون ملک ’فرار‘ ہو گئے ہیں۔ چند ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ وہ روس میں ہیں جبکہ کسی نے دعویٰ کیا کہ وہ بیلجیئم میں روپوش ہیں۔

نئے وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم ان کی تلاش کر رہے ہیں۔ ایک سرکاری افسر کے طور پر، وہ حکومت کی منظوری کے بغیر بیرون ملک نہیں جا سکتے۔۔۔اگر وہ چلے گئے ہیں تو یہ اچھی بات نہیں ہے۔‘

مہاراشٹر حکومت نے کیس کی تحقیقات کے لیے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک پینل تشکیل دیا ہے۔ مسٹر سنگھ کو اب ریئلٹرز، ہوٹل والوں اور بکیز کی طرف سے جبری وصولی کے لیے دائر چار مجرمانہ مقدمات کا سامنا بھی ہے۔ ان کے سابق چیف مسٹر دیشمکھپر پر ابھی تک کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے اور انھیں 12 نومبر تک حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔

جس چیز نے شبہات کو مزید تقویت دی ہے وہ ہے مسٹر سنگھ کا پینل کی طرف سے طلب کیے جانے پر پوچھ گچھ کے لیے آنے سے انکار۔ اس کے بجائے انھوں نے اپنے وکیلوں کے ذریعے عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں تحقیقات کو ہی چیلنج کیا گیا۔ ان کے وکیلوں نے عدالت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مسٹر سنگھ کا پینل کے ساتھ بات چیت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ قانون سے بھاگ نہیں رہے ہیں۔

واضح طور پر، کیس کے بارے میں ابھی تک بہت کم معلومات ہیں۔ کیا دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کا کیس سے کوئی تعلق ہے؟ مسٹر سنگھ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے مسٹر دیشمکھ کو کس چیز نے اکسایا؟ مسٹر سنگھ اپنے وزیر پر سنگین الزامات لگانے کے بعد غائب کیوں ہوئے؟ مسٹر سنگھ کیس کی تحقیقات کرنے والے پینل کے سامنے کیوں پیش نہیں ہو رہے ہیں؟

ایسے کئی اہم سوالات ہیں لیکن ابھی تک کوئی ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔

سماجیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والے مسٹر سنگھ ایک بیوروکریٹ والد اور ایک ہاؤس وائف کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اب ایک سبکدوش افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے خود کو فٹ رکھا اور کرکٹ کھیلی۔ اپنے چار دہائیوں پر محیط کیریئر میں انھوں نے دیہی اضلاع میں ماؤ نواز باغیوں اور شہر میں جرائم پیشہ گینگز سے مقابلہ کیا۔

سنہ 1990 کی دہائی میں ممبئی میں اپنی پہلی پوسٹنگ میں مسٹر سنگھ نے انڈر ورلڈ کو صاف کرنے کے لیے افسران کی ایک ٹیم کے ساتھ کام کیا۔ اس وقت انڈیا کا امیر ترین شہر گینگ وار، جبری وصولی اور اغوا کی وارداتوں کی وجہ سے پریشان تھا۔

وہ ’انکاؤنٹر پولیس والو’ کے ساتھ کام کر کے اخباروں کی سرخیوں میں آئے۔ انکاؤنٹر پولیس ایک منفرد، غیر سرکاری پولیسنگ سسٹم ہے جس میں متنازع طور پر ایسے غنڈوں کا مبینہ انکاؤنٹر میں خاتمہ کر دیا جاتا ہے جو اکثر تاجروں اور فلمی اداکاروں اور پروڈیوسروں کو تاوان کے لیے یرغمال بنا لیتے تھے۔

صحافی ایس حسین زیدی نے شہر میں جرائم کی تاریخ لکھی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مسٹر سنگھ کے ساتھ ایک اور سینیئر افسر کو ’شہر سے انڈرورلڈ کا خاتمہ کرنے کا کام سونپا گیا تھا‘ اور دونوں نے اس کام کے لیے ‘تین ایلیٹ انکاؤنٹر سکواڈز بنائے‘ تھے۔

مسٹر سنگھ اگلے سال 60 برس کے ہونے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے۔ مسٹر سنگھ نے اگست میں فون پر ایک صحافی کو بتایا تھا کہ ’میں انڈیا میں ہی ہوں اور ملک نہیں چھوڑا ہے۔‘

بظاہر سوائے ان کے کسی کو معلوم نہیں کہ وہ آگے کیوں نہیں آئے اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں