23

بالی وڈ داؤد ابراہیم کی جان کیوں نہیں چھوڑ رہا؟

بالی وڈ داؤد ابراہیم کی جان کیوں نہیں چھوڑ رہا؟

(ڈیلی طالِب)

بالی وڈ اکثر انڈیا میں جرائم کی دنیا یعنی انڈرورلڈ کو بڑی سکرین پر دکھاتا ہے۔ نوّے کی دہائی میں ایسی بہت ساری کہانیاں سنیما سکرینوں کی زینت بنیں جن کے پس منظر میں انڈرورلڈ کا ڈان تھا یا ان کے ذریعے کیے گئے حملوں کا تذکرہ۔

انڈرورلڈ کے ڈان جو دنیا کو حقیقی زندگی میں دکھاتے تھے، اس ’دہشت گرد‘ کی جھلکیاں اکثر بڑے پردے پر دکھائی جاتی تھیں۔

انڈرورلڈ سے وابستہ تمام بڑے ناموں کی کہانیاں سلور سکرین پر سامعین نے بڑے جوش و جذبے کے ساتھ دیکھی ہیں۔

انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم ہوں یا اس جرائم کی دنیا کے دوسرے غنڈے چھوٹا راجن، مایا ڈولس، مانیا سرو، سبھی کا ذکر فلموں میں رہا ہے۔ اس بات سے انکار کرنا مشکل ہے کہ مداحوں کے لیے یہ خیالی دنیا انتہائی دلچسپی کا باعث ہے۔

اکثر کہا جاتا رہا ہے کہ 80 اور 90 کی دہائی میں ممبئی اور اس کی بندرگاہوں پر ایک قسم کا انڈرورلڈ راج تھا۔ ممبئی پر انڈرورلڈ کے راج کا دور 1993 میں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد شروع ہوا تھا۔

بالی ووڈ فلموں میں ہدایتکار انوراگ کشیپ سے لے کر رام گوپال ورما تک بہت سارے ہدایت کاروں نے براہ راست یا کسی دوسری شکل میں داؤد ابراہیم کے کردار کی جھلکیاں دکھانے کی کوشش کی ہے۔

داؤد ابراہیم پر بنی فلموں میں انوراگ کشیپ کی ‘بلیک فرائیڈے’، رام گوپال ورما کی ‘کمپنی’ اور نکھل اڈوانی کی ‘ڈی ڈے’ شامل ہیں۔

ملان لوتھریا نے ‘ونس اپان اے ٹائم ان ممبئی’ میں ڈان داؤد ابراہیم کے انڈرورلڈ میں پروان چڑھنے کے سفر کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔ ان فلموں کے علاوہ داؤد ابراہیم کا ذکر حسینہ پارکر اور ویب سیریز ‘ایک تھی بیگم’ میں بھی ہوا ہے۔

سنہ 2002 میں بننے والی فلم ‘کمپنی‘ کی کہانی داؤد ابراہیم کی زندگی پر مبنی تھی۔ فلم میں مرکزی کردار اجے دیوگن نے ادا کیا جنھوں نے سکرین پر داؤد کا کردار ادا کیا تھا۔ اداکار وویک اوبرائے نے اپنے کیریئر کا آغاز اسی فلم سے کیا تھا۔

اب 2021 میں ایک بار پھر مشہور ہدایتکار اور پروڈیوسر رام گوپال ورما اپنی فلم ‘ڈی کمپنی’ کے ساتھ اسی موضوع کو چھیڑ رہے ہیں۔

داؤد ابراہیم کی ابتدائی زندگی کی کہانی فلم ‘ڈی کمپنی’ کا مرکزی موضوع ہے۔

اپنی فلم ‘ڈی کمپنی’ کا ذکر کرتے ہوئے رام گوپال ورما بی بی سی ہندی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں ‘میں ایک بار پھر ‘ڈی کمپنی’ کے ساتھ ناظرین کے سامنے آرہا ہوں۔ اس فلم میں، میں ایک بار پھر گینگسٹر داؤد ابراہیم کو دکھا رہا ہوں۔‘

انھوں نے کہا ‘میری فلم 2002 میں داؤد ابراہیم اور چھوٹا راجن کی لڑائی پر مبنی تھی لیکن اس بار داؤد کی ابتدائی زندگی کی کہانی ہے۔ داؤد ابراہیم ممبئی کا ڈان کیسے بنے اور انھوں نے اپنی ڈی کمپنی کیسے شروع کی۔‘

مگر بالی ووڈ داؤد ابراہیم کی زندگی کو بڑے پردے پر دکھانے کے لیے اتنا بے چین کیوں ہے؟

اس سوال کے جواب میں رام گوپال ورما کہتے ہیں ‘جرم ایسی چیز ہے جو لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ اگر آپ اخبار پڑھتے ہیں یا ٹی وی پر دیکھتے ہیں تو لوگ ان باتوں کی طرف زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ جیسے گویا کوئی گینگ ہے یا قتل کا معمہ ہے۔‘

انھوں نے کہا ‘آج دنیا میں گاڈ فادر سے زیادہ مقبول کوئی فلم نہیں ہوگی۔ لوگ بورنگ کہانیاں پسند نہیں کرتے۔ انھیں تاریک یا خیالی کہانیوں والی فلمیں پسند ہیں۔‘

‘گینگسٹر کو ہیرو دکھانے کا ارادہ نہیں‘

بالی ووڈ میں جرائم کی دنیا اور اس سے وابستہ غنڈوں کی زندگی کو انتہائی مثبت انداز میں کیوں دکھایا گیا ہے؟

اس پر رام گوپال ورما کہتے ہیں ‘اگر آپ کسی فلم میں کسی ہیرو کو شراب کے گلاس کے ساتھ یا لڑتے دکھائیں تو پھر اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ صرف ایک فلم ہے، یہ محض تفریح ​​کے لیے ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ‘اگر آپ حقیقت پسندانہ سنیما دکھانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس میں کرداروں کے منفی پہلو کو دکھانا ہوگا۔ میری فلموں میں سارے کردار اچھے اور برے دونوں عناصر رکھتے ہیں، چاہے وہ ستیہ ہوں یا ڈی کمپنی۔‘

رام گوپال ورما کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد گینگسٹر یا مجرم کو ہیرو کی طرح پیش کرنا نہیں ہے۔

انھوں نے کہا ‘ہدایتکار کا مقصد کسی مجرم کو ہیرو کی طرح دکھانا نہیں ہے۔ وہ صرف ایک اصلی گینگسٹر دکھا رہا ہے۔ میں اپنی تمام فلموں میں یہ کام کرتا ہوں اور میں ڈی کمپنی میں بھی یہی کر رہا ہوں۔‘

لوگ داؤد ابراہیم کو سکرین پر کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟

سینئر فلمی صحافی اجے براہمتمج گینگسٹر فلموں میں داؤد ابراہیم کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ داؤد ابراہیم کا نام ایک معمہ ہے۔

وہ کہتے ہیں ‘کسی نے بھی داؤد ابراہیم کی ویڈیو نہیں دیکھی۔ ان کی ایک ہی تصویر ہے جو شارجہ سٹیڈیم میں بہت پہلے منظرِ عام پر آئی تھی۔ ایک یا دو پارٹیوں کی تصاویر ہیں، صرف وہی گھوم رہی ہیں۔ لہٰذا کسی کو نہیں معلوم کہ داؤد ابراہیم کس طرح دکھتے ہیں۔‘

اجے برہممتاج کے مطابق داؤد ابراہیم کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں تجسس پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داؤد ابراہیم کی کہانی کو بار بار سکرین پر دکھایا گیا ہے۔

اجے برہمتج کا ماننا ہے کہ رام گوپال ورما نے جرم کی دنیا اور کارپوریٹ دنیا کی طرح انڈرورلڈ کو دکھایا ہے جو لوگوں میں ایک مختلف قسم کی دلچسپی پیدا کرتا ہے۔

‘گینگسٹرگلیمر فارمولہ اب پرانا ہو گیا ہے‘

تاہم فلمی دنیا کے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ایسی کہانیاں باکس آفس پر کمال نہیں کر پاتیں۔

فلمی تجزیہ کار اموڈ مہرہ کا کہنا ہے کہ ’داؤد ابراہیم یا کسی اور گینگسٹر کے بارے میں بات کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھے افسانہ نگاروں اور خیالات کی کمی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں ‘ابتدا میں انڈرورلڈ ڈان کے آئیڈیا نے کام کیا لیکن اب لوگ کچھ نیا چاہتے ہیں۔ اگر کسی ہدایت کار اور پروڈیوسر کی کوئی فلم کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ اسی طرح کی فلمیں بنانا شروع کردیتے ہیں اور پھر وہ اتنی فلمیں بنانا شروع کر دیتے ہیں کہ سب پرانا لگتا ہے۔‘

ان سب کے باوجود بڑے اور مشہور سٹار فلموں میں بدنام زمانہ غنڈوں اور مجرموں کے کردار ادا کرنے میں کافی دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، پھر چاہے وہ شاہ رخ خان ہو یا کوئی اور۔

اموڈ مہرہ کہتے ہیں ‘اگر آپ گندی نالی یا بستی دکھاتے ہیں تو شاید کوئی بھی فلم نہیں دیکھے گا، اس لیے گینگسٹروں کے متعلق فلموں کو بھی گلیمر دکھانا پڑتا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔‘

ان کا ماننا ہے کہ اب گینگسٹر اور گلیمر کا کاک ٹیل بھی ناظرین کو اتنا متوجہ نہیں کرتا جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں