49

ابھینندن ورتھمان کو اعلیٰ فوجی اعزاز دینے پر سوشل میڈیا بحث: دل ہی دل میں سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو۔۔۔‘

ابھینندن ورتھمان کو اعلیٰ فوجی اعزاز دینے پر سوشل میڈیا بحث: دل ہی دل میں سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو۔۔۔‘

(ڈیلی طالِب)

پاکستان کی وزارت خارجہ نے انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھینندن ورتھمان کی جانب سے ’پاکستانی فضائیہ کا ایف 16 طیارہ مار گرانے‘ کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھینندن کو ’ویر چکرا‘ ایوارڈ دے کر انڈیا نے صرف اپنا مذاق بنوایا ہے۔

واضح رہے کہ انڈین صدر رام ناتھ کووند نے پیر کو انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھینندن ورتھمان کو فروری 2019 میں ’پاکستانی فضائیہ کے ایف 16 طیارے کو مار گرانے پر‘ ملک کے تیسرے سب سے بڑے فوجی اعزاز ‘ویر چکرا’ سے نوازا تھا۔

ابھینندن کو ایوارڈ دیے جانے کی خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان اور انڈیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

پاکستان کی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان انڈیا کے اس دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کرتا ہے کہ فروری 2019 میں (پاکستان کے زیر انتظام) کشمیر میں گرفتاری سے قبل انڈین پائلٹ نے ایک پاکستانی ایف سولہ طیارہ مار گرایا تھا۔‘

’خیالی کارنامے پر بہادری کا فوجی اعزاز دینا فوجی اقدار کے ہر معیار کے منافی ہے‘

پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’انڈین پائلٹ کو اعزاز دیتے وقت پڑھا جانے والا تعارف انڈین جعلسازی اور فرضی قصے کہانیوں کی ایک بہترین مثال ہے جس کا مقصد اپنے عوام کو خوش کرنا اور اپنی ہزیمت و رسوائی کو چھپانا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستانی ایف 16 کی تعداد دیکھنے کے بعد عالمی ماہرین اور امریکی حکام پہلے ہی یہ تصدیق کر چکے ہیں اس روز پاکستان کا ایف 16 نہیں گرا تھا۔ پوری طرح سے پہلے ہی بے نقاب ہو جانے والے ایک جھوٹ کو پھیلانے پر انڈیا بضد ہے جو مضحکہ خیز اور لغو حرکت ہے۔ خیالی کارنامے پر بہادری کا فوجی اعزاز دینا فوجی اقدار کے ہر معیار کے منافی ہے۔ بعد میں آنے والے خیال کے تحت یہ اعزاز دے کر انڈیا نے خود اپنا مذاق اڑایا ہے۔‘

پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 فروری 2019 کو پاکستانی فضائیہ نے دن کے اجالے میں دو انڈین طیارے مار گرائے تھے جن میں ایک بھارتی ’مِگ۔21‘ بائیسن طیارہ تھا جو (پاکستان کے زیر انتظام) کشمیر میں گرا تھا۔

’طیارے سے باہر چھلانگ لگانے والے پائلٹ کو پاکستان نے گرفتار کر لیا تھا اور بعدازاں خیرسگالی کے جذبے کے تحت رہا کیا تھا۔۔۔ پاکستان کی فضائیہ نے دوسرا انڈین طیارہ ’ایس یو 30‘ مار گرایا تھا جو ’ایل او سی‘ کی دوسری طرف جا کر گرا تھا۔ اسی روز افراتفری میں انڈین فوج نے سرینگر کے قریب اپنا ہی ’ایم آئی 17‘ ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا جس کے بارے میں ابتدا میں انڈیا نے انکار کیا لیکن بعد میں تسلیم کر لیا تھا۔۔۔‘

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ’عالمی برادری کے سامنے انڈیا کی اس من گھڑت کہانی کی کوئی ساکھ نہیں۔ فروری 2019 طرز کے ہر طرح کے بھارتی جنگی عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان پُرعزم اور تیار ہے۔ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے کے ناکام مہم جوئی کی غلطی سے انڈیا کو سبق سیکھنا چاہیے اور مستقبل میں ایسی کسی مہم جوئی سے باز رہنا چاہیے۔‘

ابھینندن کو دیے گئے اعزاز میں کیا لکھا گیا ہے؟

ابھینندن ورتھمان کو دیے گئے اعزاز کے بارے میں انڈین اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’وہ (ابھینندن) سرینگر میں انڈین کے مگ 21 بائزن سکواڈ کے ساتھ منسلک تھے جب پاکستانی طیارے انڈین حدود میں آتے ہوئے نظر آئے، تو انھوں نے اپنے جہاز کو ان سے لڑائی کے لیے اڑایا۔’

اعلامیے میں دعویٰ کیا گیا کہ کس طرح انھوں نے پاکستانی جہاز کا تعاقب کیا اور ایک ایف 16 مار گرایا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ‘لیکن اس لڑائی میں دشمن کے ایک اور طیارے نے جدید میزائل فائر کیے جس سے ان کا جہاز کو نقصان پہنچا اور ان کو پیراشوٹ کی مدد سے دشمن کے زیر کنٹرول علاقے میں اُترنا پڑا۔’

فروری 2019 میں دراصل کیا ہوا تھا؟

واضح رہے کہ دو سال قبل فروری 26 کو انڈیا نے پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں بم گرائے تھے جس پر ان کا دعویٰ تھا کہ وہ جہادی گروپس کے کیمپس پر حملہ تھا۔ تاہم پاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ یہ حملے نہ تو کسی کیمپ پر تھے اور نہ ہی اُن میں کوئی ہلاک ہوا۔

اگلے ہی روز پاکستانی فضائیہ کی ایک جوابی کارروائی کے دوران انڈین مگ 21 اڑانے والے ابھینندن ورتھمان کے جہاز کو نشانہ بنا کر گرا دیا گیا تھا اور ابھینندن کو پاکستانی حدود سے گرفتار کر لیا گیا تھا جہاں وہ 60 گھنٹے تک قید میں رہے۔

انڈین حکام نے واقعے کے بعد مسلسل یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ مار گرایا ہے اور اس ‘کارنامے’ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی مگ 21 طیارے نے کسی ایف 16 طیارے کو تباہ کیا ہو۔ واضح رہے کہ مگ 21 پرانا جنگی طیارہ ہے اور ایف 16 کے مقابلے میں اس کی جنگی صلاحیت کہیں کم ہے۔

اس واقعے کے وقت ابھینندن ورتھمان ونگ کمانڈر تھے اور انھیں اگست 2019 میں ویر چکرا سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ابھینندن ورتھمان کو حال ہی میں ترقی دی گئی ہے اور وہ ونگ کمانڈر سے گروپ کپٹین بنا دیے گئے ہیں۔

’قابل دشمن کی عزت کرنی چاہیے‘

انڈیا کے پائلٹ ابھینندن کو اعزاز دیے جانے کی تقریب کے بعد ایک بار پھر اس بحث کا آغاز بھی ہو گیا جس میں پاکستان اور انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین نے ریاستی موقف کی حمایت میں دلائل دینے شروع کر رکھے ہیں۔

انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین نے پائلٹ ابھینندن ورتھمان کی ’جرات اور بہادری‘ کو سراہتے ہوئے داد دی تو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے اس ’اعزاز کی حقیقت‘ اور انڈین دعوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’ابھینندن دل ہی دل میں سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو میں نے کیا کیا۔‘

ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگلمین نے بھی ٹویٹر پر اپنے تبصرے میں لکھا کہ آج ایک انڈین پائلٹ کو ایک ایسا طیارہ گرانے پر فوجی اعزاز سے نوازا گیا جس سے متلعق امریکی حکام کہہ چکے ہیں کہ ایسا ہوا ہی نہیں۔

اس ٹویٹ کے جواب میں ایک انڈین صارف مانو کالیا نے لکھا کہ امریکہ اپنے ملڑی انڈسٹریل کمپلیکس کی وجہ سے اور کہہ بھی کیا سکتا تھا۔ مانو نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کی جانب سے بھی تو دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک نہیں بلکہ دو انڈین طیارے گرائے گئے ہیں اور دو پائلٹ گرفتار ہوئے ہیں لیکن بعد میں اس دعوے سے پیچھے ہٹا گیا۔

پاکستانی ٹویٹر صارف عبداللہ سعد نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ انڈین فضائیہ کی تاریخ میں پہلے بھی ایک فرضی قصے پر ویر چکرا کا اعزاز دیا جا چکا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ 1965 کی جنگ کے بعد انڈین فضائیہ کے ونگ کمانڈر ٹریور کیلر کو پاکستانی ایئر فورس کے فلائٹ لیفٹینینٹ یوسف علی کے ایف 86 کو گرانے پر ویر چکرا دیا گیا جو کہ لڑائی کے بعد بیس پر واپس بھی پہنچ گیا تھا۔

ایک پاکستانی ٹویڑ صارف نے لکھا کہ ابھینندن ایوارڈ کے حقدار ضرور تھے لیکن ایف 16 گرانے کے ایسے واقعے کی بجائے جو ہوا ہی نہیں انھیں اس بات پر ایوارڈ ملنا چاہیے تھا کہ وہ تنہا ہوتے ہوئے بھی بے خوف و خطر اپنے دشمن کی ایئر سپیس میں گھس گئے۔ انھوں نے لکھا کہ ایک قابل دشمن کو ہمیشہ عزت دینی چاہیے۔

کیا کوئی ایف 16 طیارہ تباہ ہوا تھا؟

فارن پالیسی کی جانب سے اپریل 2019 میں دی گئی خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ مِگ 21 بائزن اڑانے والے ابھینندن نے پاکستانی ایف 16 طیارے کو نشانے پر لیا ہو اور حقیقی طور پر یہ خیال کیا ہو کہ انھوں نے طیارہ مار گرایا۔

لیکن پاکستان میں امریکی حکام کی جانب سے کی جانے والی گنتی نئی دلی کے بیانات پر سوالیہ نشان تھی اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی تھی کہ شاید انڈین حکام نے اس دن رونما ہونے واقعات کے بارے میں غیر ملکی برادری کو گمراہ کیا تھا۔

جریدے کا کہنا تھا کہ گنتی کے اس عمل کے بارے میں معلومات رکھنے والے سینیئر امریکی دفاعی عہدیدار کا کہنا تھا کہ غیرملکی فوجی طیاروں کی فروخت پر استعمال کے معاہدے کے مطابق پاکستان نے امریکہ کو دعوت دی تھی کہ اس کے حکام خود آ کر ایف 16 طیاروں کی گنتی کریں۔

عموماً اس قسم کے معاہدوں میں امریکہ کی شرط ہوتی ہے کہ خریدنے والا ملک امریکی حکام کی جانب سے سازوسامان کا باقاعدگی سے معائنہ کروائے تاکہ سازوسامان کی گنتی اور حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

فارن پالیسی میگزین کے مطابق شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے ایف 16 طیاروں نے انڈین طیاروں سے جھڑپ میں حصہ لیا تھا۔

امریکہ میں بنے اے آئی ایم 20 میزائل کے باقیات جائے وقوعہ کے پاس سے ملے اور فارن پالیسی جریدے کے مطابق جنگ میں حصہ لینے والے تمام طیاروں میں سے صرف ایف 16 طیارہ ہی ایسا میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستانی فوج کے اس وقت کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ کی جانب سے امریکی جریدے کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ‘یہی پاکستان کا موقف بھی رہا ہے اور یہی سچ ہے۔’

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ‘انڈیا کی جانب سے حملے اور اس کے اثرات کے بارے میں بھی دعوے جھوٹے ہیں اور وقت آ گیا ہے کہ انڈیا اپنی طرف ہونے والے نقصان بشمول پاکستان کے ہااتھوں اپنے دوسرے طیارے کی تباہی کے بارے میں سچ بولے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں